Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

اقوام متحدہ کے سربراہ کا جنرل اسمبلی سے خطاب، مصنوعی ذہانت پر پابندیوں اور جنگوں کے خاتمے پر زور


اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے آج جنرل اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کو ضابطے میں لایا جائے، جنگوں کا خاتمہ کیا جائے، موسمیاتی تبدیلی پر توجہ دی جائے اور اقوام متحدہ کے اداروں میں اصلاحات کی جائیں، کیونکہ عالمی چیلنجز میں مسلسل اضافے کے باوجود یہ ادارے ان سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پرتگال کے سابق وزیراعظم انتونیو گوتریس کی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے دوسری پانچ سالہ مدت 31 دسمبر کو ختم ہورہی ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات کی عالمی سطح پر نگرانی اور مؤثر ضابطہ کاری کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا، ایسے وقت میں جب اقوام متحدہ کی 15 رکنی سلامتی کونسل مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ایک بریفنگ کے لیے اس شعبے سے وابستہ رہنماؤں کی میزبانی کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

گوتریس نے نیویارک میں تقریباً 130 عالمی رہنماؤں کے اجتماع کے دوران اقوام متحدہ کے اندر موجود تعطل پر بھی بات کی۔ چینی صدر شی جن پنگ سمیت جنوبی افریقہ، بھارت اور جرمنی کے رہنما بھی اس سفارتی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

جب گوتریس نے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کا دفاع کیا، موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ’’آلودگی پھیلانے والوں کو قیمت ادا کرنی ہوگی‘‘ کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی اداروں میں اصلاحات پر زور دیا تو مندوبین نے مسلسل تالیاں بجا کر ان کا خیرمقدم کیا۔ یہ وہی معاملات ہیں جن کی گوتریس نے اقوام متحدہ کی قیادت کے دوران گزشتہ ایک دہائی میں مسلسل حمایت کی ہے۔

یہ خطاب گوتریس کے اقوام متحدہ کی قیادت میں ایک دہائی پر محیط دور کا اختتام بھی تھا، جس کے دوران انہوں نے اقوام متحدہ کو تنازعات میں ثالث اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے انتظام کے لیے ایک عالمی فورم کے طور پر مؤثر بنانے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران بڑی طاقتوں نے اس ادارے کو نظر انداز کرنا بڑھا دیا اور واشنگٹن نے اقوام متحدہ کی فنڈنگ میں کمی کردی۔

گوتریس نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک ٹیکنالوجی کے انقلاب کی قیادت کر رہے ہیں، انہیں ابھرتے ہوئے حفاظتی خطرات سے متعلق معلومات کا تبادلہ کرنا چاہیے، جانچ اور جائزے کے عمل میں تعاون کرنا چاہیے اور مشترکہ حفاظتی اقدامات کی جانب پیش رفت کرنی چاہیے جو سب کو تحفظ فراہم کرسکیں۔

انہوں نے نیویارک میں موجود عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کے ذمہ دارانہ استعمال اور اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات کے لیے سازگار حالات پیدا کریں۔ انہوں نے کثیرالجہتی مصنوعی ذہانت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک ایسا عالمی فریم ورک بنانے پر بھی زور دیا جس کی نگرانی قابلِ اعتماد اور آزاد اداروں کے ذریعے کی جائے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو کہا تھا کہ واشنگٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے زیر غور ایک نئے مصنوعی ذہانت کے حفاظتی اطلاع رسانی کے طریقہ کار کی تجویز پیش کی ہے، جس پر دونوں رہنما اس ہفتے ہونے والی ملاقات میں غور کرسکتے ہیں۔ یہ تجویز امریکا اور چین کے درمیان مصنوعی ذہانت کے حوالے سے مذاکرات کے قیام کے لیے ہونے والی بات چیت کے دوران سامنے آئی اور اس میں قومی سلامتی سے متعلق مصنوعی ذہانت کے واقعات کو شامل کیا جائے گا۔

گوتریس طویل عرصے سے مصنوعی ذہانت کی عالمی سطح پر نگرانی اور انتظام کے حامی رہے ہیں۔ 2023 میں اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے 39 رکنی مشاورتی ادارہ قائم کیا تھا، جس میں امریکا، روس اور جاپان سمیت مختلف ممالک کے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے عہدیدار، حکومتی اہلکار اور ماہرین تعلیم شامل تھے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، جس کی ذمہ داری بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنا ہے، نے بھی اسی سال پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کے خطرات پر اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس موقع پر چین نے کہا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو ’’بے قابو گھوڑا‘‘ نہیں بننا چاہیے، جبکہ امریکا نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے لوگوں کو سنسر کرنے یا دبانے کے لیے اس کے استعمال کے خطرات سے خبردار کیا تھا۔

مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، جہاں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں حوثیوں کی پیش قدمی سے بحری جہاز رانی کے راستوں کو خطرات لاحق ہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے، گوتریس نے کشیدگی میں کمی اور مذاکرات پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان سے ایک واضح پیغام جانا چاہیے کہ لڑائی بند ہونی چاہیے، انسانی امداد کی فراہمی جاری رہنی چاہیے اور بین الاقوامی قانون کے مطابق بحری جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے نظام کے حوالے سے، جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر افراد نے بڑے حجم اور غیر مؤثر ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جبکہ واشنگٹن کئی اقوام متحدہ کے اداروں سے دستبردار ہوچکا ہے اور فنڈنگ میں بھی کمی کرچکا ہے، گوتریس نے کہا کہ اجتماعی اقدامات کے لیے موجود اقوام متحدہ کے طریقہ کار پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے۔ ان کے مطابق عالمی ادارے اب بھی بڑی حد تک ایک ایسے گزرے ہوئے دور کی طاقت کی حقیقتوں اور مفادات کی عکاسی کرتے ہیں جو موجودہ صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گوتریس نے اپنے خطاب کے ذریعے ان بیشتر عالمی رہنماؤں کو الوداع بھی کہا جن کے ساتھ انہوں نے گزشتہ 10 سال کے دوران کام کیا۔ انہوں نے کہا کہ یکم جنوری کو جب وہ سیکریٹری جنرل نہیں ہوں گے تو بھی جہاں کہیں ہوں گے اور جو کچھ بھی کررہے ہوں گے، وہ اس یقین کو آگے بڑھاتے رہیں گے کہ امن ممکن ہے۔


انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی اقدار کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے اور کبھی بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔