استاد صرف سبق نہیں دیتا،تحریر: یاسمین اختر طوبیٰ
نقطہ نظر
صبح کی نرم دھوپ ابھی پوری طرح صحن میں نہیں اتری تھی۔ اسکول کی گھنٹی بجی تو بچے بستے سنبھالتے ہوئے اپنی اپنی جماعتوں کی طرف لپکے۔ کسی کے ہاتھ میں ادھوری کاپی تھی، کسی کے جوتے پر مٹی جمی تھی اور کوئی راستے بھر کی شرارتیں آنکھوں میں لیے اپنی نشست تلاش کر رہا تھا۔ کلاس روم کے دروازے پر استاد کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کتاب تھی مگر وہ صرف کتاب نہیں اٹھائے ہوئے تھا، وہ کئی گھروں کی امیدیں، کئی ماؤں کی دعائیں اور کئی باپوں کے خواب اپنے ساتھ لیے ہوئے تھا۔
وہ کلاس میں داخل ہوا تو شور آہستہ آہستہ خاموشی میں بدل گیا۔ اس نے حاضری لی، سبق کھولا اور تختۂ سیاہ پر چند الفاظ لکھ دیے۔ بظاہر یہ ایک معمول کا دن تھا، جیسے ہر روز ہوتا ہے۔ مگر استاد جانتا تھا کہ ہر بچے کے سامنے صرف ایک کتاب نہیں، ایک پوری زندگی رکھی ہے۔ کسی بچے کو جمع تفریق سیکھنی ہے، کسی کو جملہ بنانا ہے، کسی کو تاریخ کے واقعات یاد کرنے ہیں لیکن کسی نہ کسی بچے کو شاید آج پہلی مرتبہ یہ بھی سیکھنا ہے کہ سچ بولنے کی قیمت کیا ہوتی ہے، شکست کے بعد دوبارہ اٹھنا کیسے ممکن ہے اور دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا کیوں ضروری ہے۔
استاد صرف سبق نہیں دیتا۔ وہ لفظوں کے ذریعے سوچنے کا ہنر دیتا ہے، سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے اور کبھی کبھی خاموشی کے ذریعے بھی بہت کچھ سکھا جاتا ہے۔ اس کی ایک مسکراہٹ کسی ڈرے ہوئے بچے کے دل سے خوف نکال سکتی ہے اور اس کا ایک جملہ کسی مایوس طالب علم کے اندر امید کا چراغ روشن کر سکتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر بچہ یکساں رفتار سے نہیں چلتا۔ کوئی فوراً سمجھ لیتا ہے، کوئی بار بار پوچھتا ہے، کوئی کتاب کھول کر بھی کہیں اور کھویا رہتا ہے۔ استاد اسی فرق کو سمجھتے ہوئے کبھی رہبر بنتا ہے، کبھی مربی، کبھی سخت نگران اور کبھی شفیق سایہ۔
کبھی کبھی ایک استاد کی اصل محنت امتحان کے نتائج میں دکھائی نہیں دیتی۔ وہ اس بچے کی آنکھ میں دکھائی دیتی ہے جو پہلے کلاس میں بولنے سے گھبراتا تھا اور اب اعتماد سے جواب دیتا ہے۔ وہ اس طالب علم کے رویے میں نظر آتی ہے جو کبھی غصے میں کتاب پھینک دیتا تھا اور اب اختلاف کے باوجود دوسروں کی بات سن لیتا ہے۔ وہ اس شاگرد کی کامیابی میں چھپی ہوتی ہے جو برسوں بعد کسی دور شہر سے فون کرکے صرف اتنا کہتا ہے، "سر! آپ نے اُس دن جو بات کہی تھی، آج سمجھ آئی ہے۔"
استاد کی زندگی بھی عجیب زندگی ہے۔ وہ دوسروں کے بچوں کے مستقبل کی فکر کرتے کرتے اکثر اپنے مسائل کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ کبھی تنخواہ کم پڑ جاتی ہے، کبھی وسائل ناکافی ہوتے ہیں، کبھی کلاس میں طلبہ کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور کبھی معاشرہ اس کے مقام کے مطابق احترام نہیں کرتا۔ پھر بھی اگلی صبح وہ وقت پر اسکول پہنچتا ہے، حاضری لگاتا ہے، تختۂ سیاہ صاف کرتا ہے اور ایک نئے دن کے ساتھ نئی امید باندھ لیتا ہے۔ شاید اس لیے کہ استاد کے پاس صرف ایک ملازمت نہیں ہوتی، ایک ذمہ داری ہوتی ہے اور ذمہ داریاں اکثر تھکن سے بڑی ہوتی ہیں۔
ہم نے تعلیم کو بہت مرتبہ صرف نمبروں، گریڈز، ڈگریوں اور ملازمتوں کے ترازو میں تولنے کی کوشش کی ہے۔ ہم بچے سے پوچھتے ہیں کہ کتنے نمبر آئے، مگر کم ہی پوچھتے ہیں کہ وہ کیسا انسان بن رہا ہے۔ ہم استاد سے نتائج مانگتے ہیں مگر کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ وہ کتنے بچوں کے دلوں میں علم کی محبت پیدا کر سکا۔ حالاں کہ ایک اچھا استاد صرف ذہن نہیں بناتا، مزاج بھی بناتا ہے۔۔۔ صرف حافظہ نہیں بھرتا، کردار کی بنیاد بھی رکھتا ہے۔
یومِ اساتذہ دراصل صرف استاد کو پھول دینے، کارڈ پیش کرنے یا چند رسمی الفاظ کہنے کا دن نہیں۔ یہ اپنے اندر جھانکنے کا دن بھی ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ جس شخص نے ہماری انگلی پکڑ کر حروف سے آشنا کیا، سوال پوچھنے کا سلیقہ سکھایا اور زندگی کے کئی موڑ پر ہماری رہنمائی کی، کیا ہم نے اسے وہ مقام دیا جس کا وہ حق دار تھا؟ استاد کی عزت صرف ایک دن کی تقریب سے نہیں، تعلیمی ادارے کے ماحول، معاشرتی رویے، مناسب سہولتوں اور اس کے وقار کے اعتراف سے ظاہر ہوتی ہے۔
ایک پرانا استاد کبھی اپنے شاگردوں کے نام بھول بھی جائے تو حیرت نہیں کیونکہ اس کی زندگی سے ہزاروں چہرے گزرے ہوتے ہیں لیکن شاگرد اکثر اپنے استاد کو نہیں بھولتا۔ برسوں بعد بھی اسکول کی پرانی عمارت، لکڑی کی وہ میز، تختۂ سیاہ پر لکھا ہوا کوئی جملہ اور استاد کی مخصوص آواز اچانک یادوں کا دروازہ کھول دیتی ہے۔ تب احساس ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ہماری زندگی میں کتاب کا ایک باب بن کر نہیں آتے، وہ پوری کتاب کا مفہوم بدل جاتے ہیں۔
قومیں صرف بلند عمارتوں، بڑی سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے ترقی نہیں کرتیں۔ قوموں کی اصل تعمیر ان کمروں میں ہوتی ہے جہاں ایک استاد خاموشی سے ایک نسل کے ذہن اور کردار کو تراش رہا ہوتا ہے۔ آج کا طالب علم ہی کل کا ڈاکٹر، انجینئر، صحافی، سائنس دان، سپاہی، افسر، تاجر، سیاست دان یا استاد بنے گا۔ اس کے ہاتھ میں آنے والی ذمہ داریوں کی بنیاد کہیں نہ کہیں اسی کلاس روم میں رکھی جا رہی ہے۔
اس لیے جب بھی کسی استاد کو دیکھیں تو صرف ایک شخص کو نہ دیکھیں جو کتاب پڑھا رہا ہے۔ اس کے پیچھے آنے والی نسلوں کا عکس دیکھیں۔ اس کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں، مستقبل کی سمت ہے۔ اس کے لفظ محض آواز نہیں، ممکن ہے کسی زندگی کی پہلی روشنی ہوں اور شاید استاد کی عظمت کا سب سے خوب صورت اعتراف یہی ہے کہ وہ صرف سبق نہیں دیتا، وہ انسان بناتا ہے۔
مزید پڑھیں





