Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وعدہ،تحریر: عائشہ گل

نقطہ نظر
ayeshagul

وہ کتابیں سمیٹتے سمیٹتے اتنا تنگ آ گئی کہ اس نے خود کو ایک بوجھ تلے محسوس کیا اسے لگا کہ پتہ نہیں میں کیا سوچتی ہوں کیا نہیں آخر کیا کروں میں اس کا نام ماہ نور تھا چھوٹے سے قصبے کی لڑکی مگر بڑے خوابوں والی ابا کے انتقال کے بعد گھر کی ساری ذمہ داری اس کے نازک کندھوں پر آ گئی تھی دن کو وہ محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی اور رات کو اپنی نامکمل ڈگری کی کتابیں سمیٹتی رہتی آج بھی وہی رات تھی کمرے میں کتابیں بکھری ہوئی تھیں اور دل میں عجیب سی تھکن بسی ہوئی تھی


کھڑکی سے آتی چاندنی میں اس نے ایک پرانی ڈائری اٹھائی پہلا صفحہ کھولا تو اسی کی لکھائی میں لکھا تھا کہ ابا میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں کہ میں پڑھ لکھ کر استانی بنوں گی اور آپ کا سر فخر سے اونچا کروں گی یہ وعدہ اس نے ابا کے جنازے والے دن روتے روتے کیا تھا یہ پڑھتے ہی ماہ نور کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور وہ بے اختیار بولی کہ ابا میں تھک گئی ہوں کیا میں یہ وعدہ نبھا پاؤں گی تبھی دروازے پر دستک ہوئی امی اندر آئیں اور اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر بولیں کہ میری بچی وعدے تھکن سے نہیں حوصلے سے پورے ہوتے ہیں تمہارا ابا تمہیں اوپر سے دیکھ رہا ہوگا


امی کی بات نے اس کے دل کو نیا حوصلہ دیا اس نے آنسو پونچھے ڈائری کو سینے سے لگایا اور کتابیں پھر سے کھول لیں مگر اس بار اس کے ہاتھ کانپ نہیں رہے تھے اور دل میں بوجھ نہیں تھا وقت گزرتا گیا اور اس نے ہار نہیں مانی تین سال کی محنت کے بعد اسی کمرے میں اسی کھڑکی کے پاس ایک اخبار رکھا تھا جس کی سرخی تھی کہ ماہ نور نے بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی امی نے اخبار کو سینے سے لگایا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کہا کہ دیکھا ہماری بیٹی نے اپنا وعدہ نبھا دیا ماہ نور نے اپنی ڈائری کا آخری صفحہ کھولا اور کانپتے ہاتھوں سے لکھا کہ ابا وعدہ پورا ہو