والدین: محبت کا وہ قرض جو عمر بھر ادا ہوتا ہے،تحریر:طاہر محمود
نقطہ نظر
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا؛ نہ زبان پر کوئی لفظ، نہ قدموں میں کوئی طاقت، نہ راستوں کی کوئی پہچان۔ وہ صرف ایک ننھی سی سانس، ایک معصوم وجود اور دوسروں کی محتاجی لے کر زندگی کا سفر شروع کرتا ہے۔ اس بے بسی کے عالم میں دو ہستیاں اس کے گرد محبت کا حصار قائم کرتی ہیں؛ ایک ماں، دوسری باپ۔
ماں اسے اپنے وجود کا حصہ سمجھ کر پالتی ہے اور باپ اپنی زندگی کی توانائیاں اس کے مستقبل پر نچھاور کرتا ہے۔ بچہ چلنا سیکھتا ہے تو والدین کے ہاتھ سہارا بنتے ہیں، بولنا سیکھتا ہے تو ان کے لب دعا بن جاتے ہیں، اور زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھتا ہے تو اکثر بھول جاتا ہے کہ اس کے قدموں کے نیچے جو راستہ ہے، اس کی بنیاد کسی اور کی قربانیوں سے رکھی گئی تھی۔
یہی انسانی زندگی کا ایک بڑا المیہ ہے کہ جن ہاتھوں نے ہمیں سنبھالا، وقت گزرنے کے ساتھ وہی ہاتھ ہماری توجہ کے منتظر ہو جاتے ہیں۔
قرآنِ مجید نے والدین کے مقام کو انسانی معاشرت کے عام اصولوں سے کہیں بلند رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اور تمہارے رب نے حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو۔‘‘
(سورۃ الاسراء: 23)
اس آیت میں ایک گہرا اخلاقی نظام پوشیدہ ہے۔ والدین سے حسنِ سلوک کو محض معاشرتی ادب نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ پھر اسی مقام پر حکم دیا گیا کہ اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اُف‘‘ تک نہ کہا جائے، نہ جھڑکا جائے بلکہ ان سے عزت و احترام کے ساتھ گفتگو کی جائے۔
غور کیجیے، قرآن نے صرف یہ نہیں کہا کہ والدین کی ضروریات پوری کرو؛ بلکہ ان کے ساتھ گفتگو کے لہجے تک کو مقدس ذمہ داری بنا دیا۔
یہی والدین کے حقوق کی اصل روح ہے۔
والدین کو صرف روٹی، کپڑا، مکان یا دوا نہیں چاہیے۔ انہیں یہ احساس بھی چاہیے کہ ان کی اولاد انہیں بوجھ نہیں سمجھتی۔ انہیں وقت چاہیے، توجہ چاہیے، احترام چاہیے اور سب سے بڑھ کر یہ یقین چاہیے کہ ان کی زندگی بھر کی محبت بے معنی نہیں ہوئی۔
ایک ماں شاید اپنی اولاد سے کبھی نہ کہے کہ ’’مجھے تمہاری ضرورت ہے‘‘، مگر اس کے خاموش چہرے پر یہ سوال ضرور موجود ہو سکتا ہے کہ کیا میرے بچے کے پاس میرے لیے چند لمحے ہیں؟
ایک باپ شاید اپنی بیماری کا ذکر نہ کرے، مگر اس کے دل میں یہ خواہش ضرور ہو سکتی ہے کہ بیٹا کبھی خود پوچھے:
’’ابو! طبیعت کیسی ہے؟‘‘
یہ چند الفاظ کبھی کبھی مہنگی دوا سے زیادہ تسلی دے دیتے ہیں۔
والدین کے حقوق کا ایک پہلو وقت بھی ہے۔ آج کا انسان دنیا سے جڑنے کے لیے بے شمار ذرائع رکھتا ہے۔ پیغام رسانی کے لمحاتی ذرائع نے فاصلے کم کر دیے ہیں، مگر عجیب صورتِ حال ہے کہ ایک ہی گھر میں رہنے والے دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہمارے پاس دنیا کے حالات جاننے کے لیے وقت ہے، دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے کے لیے وقت ہے، مگر کبھی اپنے والدین کے پاس خاموش بیٹھنے کے لیے وقت نہیں ہوتا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ والدین کے ساتھ بیٹھنا وقت کا ضیاع نہیں، زندگی کی سب سے قیمتی سرمایہ کاری ہے۔
اسلام نے ماں کے مقام کو خصوصی عظمت عطا کی۔ رسولِ اکرم ﷺ سے جب پوچھا گیا کہ حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے تو آپ ﷺ نے تین مرتبہ ماں کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد باپ کا۔ یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ والدین کے حقوق محض معاشرتی روایت نہیں بلکہ دین کے اخلاقی نظام کا بنیادی حصہ ہیں۔
باپ کا کردار بھی اپنی جگہ ایک خاموش داستان ہے۔ وہ اکثر اپنے دکھ کو الفاظ نہیں دیتا۔ اپنی ضرورت مؤخر کرتا ہے، اولاد کی خواہش پہلے پوری کرتا ہے۔ اپنی جوانی کی توانائی اولاد کے مستقبل پر خرچ کر دیتا ہے اور جب اس کے ہاتھ میں چھڑی آ جاتی ہے تو شاید اسے یاد بھی نہ رہے کہ کبھی یہی ہاتھ اپنے بچوں کو انگلی پکڑ کر چلایا کرتے تھے۔
والدین کی خدمت دراصل احسان کا جواب احسان سے دینے کی کوشش ہے؛ اگرچہ ان کا احسان کبھی مکمل طور پر ادا نہیں ہو سکتا۔
قرآنِ مجید میں والدین کے لیے دعا سکھائی گئی:
’’اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔‘‘
(سورۃ الاسراء: 24)
یہ دعا صرف الفاظ نہیں، انسانی زندگی کا ایک مکمل فلسفہ ہے۔ بچپن میں ہم کمزور تھے، والدین مضبوط تھے۔ بڑھاپے میں صورتِ حال بدل جاتی ہے۔ اب والدین کمزور ہوتے ہیں اور اولاد کو مضبوط ہونا چاہیے۔ یہی قدرت کا وہ خاموش اصول ہے جسے محبت ’’واپس لوٹانے‘‘ کا نام دیتی ہے۔
والدین کی خدمت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر اولاد مالی طور پر بہت مضبوط ہو۔ کبھی خدمت کا مطلب صرف ایک فون ہوتا ہے، کبھی چند لمحے پاس بیٹھنا، کبھی ان کی بات بغیر جلدی کے سن لینا، کبھی دوا وقت پر پہنچا دینا اور کبھی ان کی پسند کا کوئی معمولی سا تحفہ لے آنا۔
اصل چیز قیمت نہیں، احساس ہے۔
اور اگر والدین دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں تو محبت ختم نہیں ہوتی۔ ان کے لیے دعا، صدقہ، خیرات، نیک اعمال اور ان کے تعلق والوں کے ساتھ حسنِ سلوک، محبت کے وہ راستے ہیں جو موت کے بعد بھی بند نہیں ہوتے۔
زندگی کا سب سے بڑا افسوس یہ نہیں کہ انسان اپنے والدین کے لیے بہت کچھ نہ کر سکا؛ اصل افسوس یہ ہے کہ اکثر اسے احساس اس وقت ہوتا ہے جب کرنے کے لیے وقت باقی نہیں رہتا۔
اس لیے اگر آج ماں کی آواز سنائی دے تو جواب دیجیے۔ اگر باپ پاس بیٹھا ہو تو کچھ دیر اس کے ساتھ بیٹھ جائیے۔ اگر وہ کوئی پرانی بات دہرا رہا ہے تو اسے روکنے کے بجائے مسکرا کر سن لیجیے۔ ممکن ہے وہ بات اسے کئی برس سے یاد ہو، مگر آپ کے پاس سننے کے لیے شاید آخری چند مواقع میں سے ایک ہو۔
والدین کی موجودگی میں گھر صرف مکان نہیں رہتا، دعا کا سایہ بن جاتا ہے۔
اور جب یہ سایہ اٹھ جاتا ہے تو انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ دھوپ کتنی سخت تھی۔
والدین کا قرض شاید وہ قرض ہے جو کبھی مکمل ادا نہیں ہوتا، مگر اسے ادا کرنے کی کوشش ہی انسان کے کردار کی پہچان بن جاتی ہے۔
لہٰذا والدین کے حقوق کو صرف ایک مضمون کا موضوع نہ بنائیں؛ انہیں اپنی زندگی کا رویہ بنائیں۔ ان کی عزت کریں، ان کے لیے وقت نکالیں، ان کے دل کو نہ توڑیں، ان کی خاموشی کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی دولت سمجھیں۔
کیونکہ دنیا میں بہت سے رشتے ہمارے انتخاب سے بنتے ہیں، مگر والدین وہ نعمت ہیں جن کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے کیا۔
اور نعمت کی قدر اس وقت نہیں ہونی چاہیے جب وہ ہاتھ سے نکل جائے؛
اصل شکر یہ ہے کہ نعمت کے موجود ہوتے ہوئے اس کی حفاظت کی جائے۔
والدین ہمارے ماضی کی بنیاد، حال کا سایہ اور مستقبل کی دعاؤں کا وہ چراغ ہیں، جس کی روشنی کا اندازہ اکثر ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب زندگی کی شام اترنے لگتی ہے
مزید پڑھیں




