Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ بوڑھے نہیں ہوئے، ہم بڑے ہو گئے،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

آج یکم اکتوبر، عالمی یومِ بزرگ افراد ہے۔ دنیا بھر میں یہ دن ان لوگوں کے نام کیا جاتا ہے جنہوں نے زندگی کے کئی موسم دیکھے، کئی رشتے نبھائے اور اپنے تجربات سے آنے والی نسلوں کے لیے راستے روشن کیے۔ مگر شاید بزرگوں کے لیے ایک دن مقرر کرنے سے زیادہ ضروری یہ سمجھنا ہے کہ ان کی موجودگی ہماری زندگی میں آخر ہے کیا؟ کیا وہ صرف عمر کا ایک آخری مرحلہ ہیں، یا ہماری اپنی کہانی کا وہ باب ہیں جس کے بغیر ہم مکمل نہیں ہوتے؟

ہم عمر کو اکثر چہروں میں تلاش کرتے ہیں۔ سفید بال، جھریاں، دھیمی رفتار اور کم ہوتی ہوئی قوت ہمیں بتاتی ہے کہ انسان عمر کی ایک منزل پار کر چکا ہے۔ مگر عمر صرف جسم پر نہیں اترتی، انسان کے اندر بھی ایک پوری کائنات آباد کرتی ہے۔ ہر گزرا ہوا سال اپنے ساتھ کچھ تجربے، کچھ خاموش فہم اور زندگی کو دیکھنے کی ایک نئی نظر چھوڑ جاتا ہے۔ شاید اسی لیے بزرگوں کے پاس زندگی کے وہ جواب ہوتے ہیں جن کے لیے ہم کتابوں میں سوال تلاش کرتے پھرتے ہیں۔

بچپن میں ہمیں ان کی باتیں لمبی لگتی تھیں۔ ان کے قصے، ان کے تجربے، ان کی نصیحتیں… سب کچھ جیسے ہماری چھوٹی سی دنیا سے بہت باہر تھا۔ پھر ہم بڑے ہوئے، دنیا دیکھی، لوگوں کو سمجھا، کچھ خواب پورے ہوئے اور کچھ راستے درمیان میں چھوٹ گئے۔ تب کہیں جا کر احساس ہوا کہ جن باتوں کو ہم کبھی پرانا خیال سمجھ کر نظرانداز کر دیتے تھے، ان میں زندگی کا ایک خاموش سچ چھپا ہوا تھا۔

بزرگ دراصل وقت کی وہ کتاب ہیں جس کے صفحات پر زندگی لکھی ہوتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کتابوں کے لفظ پڑھے جاتے ہیں، جبکہ ان کے تجربات سنے جاتے ہیں۔ ان کے چہروں پر گزرا ہوا وقت صرف جھریاں نہیں بناتا، بلکہ ایک ایسا شعور بھی چھوڑ جاتا ہے جو شاید صرف عمر کے ساتھ ہی حاصل ہوتا ہے۔

آج ہماری دنیا تیز ہو گئی ہے۔ انگلی کے ایک لمس سے خبر پوری دنیا تک پہنچ جاتی ہے، چند سیکنڈ میں فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور معلومات کا ایک سمندر ہماری اسکرین پر موجود ہوتا ہے۔ مگر اس تیز رفتار دنیا میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں ٹیکنالوجی نہیں دے سکتی؛ کسی بزرگ کی دعا، کسی پرانے واقعے کی روایت، کسی تجربہ کار شخص کی خاموش مسکراہٹ اور وہ اطمینان جو صرف وقت گزارنے سے حاصل ہوتا ہے۔

ہم نئی نسل کو اکثر جدید ہونے کا درس دیتے ہیں، مگر شاید جدید ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم پرانے لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیں۔ اصل ترقی تو تب ہے جب انسان آگے بڑھتے ہوئے اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کے لیے راستہ بنائے اور اپنے سے پہلے گزرنے والوں کی قدر بھی جانتا رہے۔ کیونکہ ہر نئی نسل اپنے سے پچھلی نسل کے کندھوں پر کھڑی ہو کر آگے دیکھتی ہے۔

بزرگوں کے ساتھ وقت گزارنا دراصل ماضی میں واپس جانا نہیں، اپنے مستقبل کو سمجھنا ہے۔ ان کی گفتگو میں ہمیں صرف گزرے ہوئے دن نہیں ملتے، بلکہ آنے والے دنوں کے لیے بھی بہت کچھ مل جاتا ہے۔ وہ ہمیں بتاتے ہیں کہ ہر کامیابی ہمیشہ ساتھ نہیں رہتی، ہر مشکل ہمیشہ نہیں ٹھہرتی اور ہر چیز کو حاصل کر لینا ہی زندگی کی کامیابی نہیں ہوتی۔

شاید ہم نے زندگی کو بہت زیادہ حاصل کرنے کے عمل میں بدل دیا ہے۔ گھر بڑا ہو، چیزیں زیادہ ہوں، نام پہچانا جائے، کامیابیاں گنی جائیں۔ مگر بزرگوں کی نسل ہمیں ایک اور طرح کی دولت کا تصور دیتی ہے؛ تعلقات کی دولت، وقت کی قدر، قناعت کا سکون اور ان چھوٹی چھوٹی خوشیوں کی پہچان جنہیں ہم اپنی مصروف زندگی میں نظرانداز کر دیتے ہیں۔

کبھی کسی بزرگ کے پاس بیٹھ کر ان سے ان کی جوانی کے بارے میں پوچھ کر دیکھیے۔ ممکن ہے ایک عام سی شام اچانک ایک پوری داستان بن جائے۔ ان کے پاس ایسے کردار ہوں گے جنہیں ہم کبھی نہیں جانتے تھے، ایسے خواب ہوں گے جن کا ہمیں کبھی علم نہیں ہوا اور ایسے فیصلے ہوں گے جنہوں نے ان کی پوری زندگی کا رخ بدل دیا۔ ہر انسان اپنے اندر ایک پوری کتاب لیے پھرتا ہے، مگر افسوس کہ ہم اکثر سرورق دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ بزرگوں کی قدر صرف اس لیے نہیں ہونی چاہیے کہ وہ عمر میں ہم سے بڑے ہیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے اندر وقت کا وہ حصہ محفوظ ہے جو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔

زندگی کا عجیب اصول ہے کہ جو چیز آج ہمیں بہت عام لگتی ہے، کل وہی ہماری سب سے قیمتی یاد بن سکتی ہے۔ آج گھر میں کسی بزرگ کی آواز معمول محسوس ہوتی ہے، ان کا روز کا وہی سوال، وہی پرانی بات، وہی دعائیں… مگر وقت گزرنے کے بعد انسان سمجھتا ہے کہ بعض آوازیں شور نہیں ہوتیں، گھر کی زندگی ہوتی ہیں۔

اس لیے آج بزرگ افراد کا دن مناتے ہوئے شاید ہمیں انہیں صرف احترام کی ایک رسمی نظر سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا چاہیے، ان کی بات سننی چاہیے، ان سے ان کی زندگی کے قصے پوچھنے چاہییں۔ ممکن ہے ان کے پاس ہمارے لیے کوئی ایسا جواب ہو جو ہمیں پوری دنیا کی کتابیں پڑھ کر بھی نہ مل سکے۔

آخرکار، وہ صرف عمر میں ہم سے آگے نہیں ہوتے؛ وہ زندگی میں ہم سے کچھ قدم پہلے چل چکے ہوتے ہیں۔

اور شاید اسی لیے بزرگوں کی موجودگی ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف آگے بڑھنے کا نام نہیں، کبھی کبھی رک کر یہ دیکھنے کا نام بھی ہے کہ ہم کہاں سے آئے تھے، کن لوگوں نے ہمیں یہاں تک پہنچایا، اور راستے میں کن ہاتھوں نے خاموشی سے ہماری انگلی تھامے رکھی تھی۔

وہ بوڑھے نہیں ہوئے، ہم بڑے ہو گئے ہیں۔

اور بڑا ہونے کا اصل حسن شاید یہی ہے کہ ہم ان ہاتھوں کو پہچاننا سیکھیں جنہوں نے کبھی ہمیں بڑا ہونے کا موقع دیا تھا۔