جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

وہ خاموشی جو ہم سن نہ سکے،تحریر: زینب جہانزیب

نقطہ نظر
zainab jahazeb

کبھی کبھی میرے ذہن میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آخر انسان کن حالات سے گزرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اپنی ہی زندگی بے معنی محسوس ہونے لگتی ہے؟ وہ زندگی جس کے لیے وہ کبھی خواب دیکھتا تھا، مستقبل کے منصوبے بناتا تھا اور اپنوں سے امیدیں وابستہ کرتا تھا، ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اسی زندگی کو جاری رکھنا اس کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔ آخر ایسا کیا ہوتا ہے کہ انسان اپنے دل کی بات کسی سے کہنے کے بجائے اپنے اندر ہی اندر گھٹتا رہتا ہے؟ کیا واقعی اس کے پاس کوئی راستہ نہیں بچتا، یا مسلسل ذہنی دباؤ اسے دوسرے راستے دکھائی ہی نہیں دینے دیتا؟


خودکشی کے واقعات کو دیکھ کر ہم اکثر اپنی اپنی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ کوئی اسے بزدلی کہتا ہے، کوئی کمزور ایمان کی علامت سمجھتا ہے اور کوئی اسے وقتی جذبات کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔ لیکن ہم میں سے کتنے لوگ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس انسان کے اندر کیا چل رہا تھا؟ وہ کن خوفوں، محرومیوں یا ذہنی کشمکش سے گزر رہا تھا؟ کسی پر فیصلہ صادر کرنا آسان ہے، مگر اس کی تکلیف کو سمجھنا اتنا آسان نہیں۔


نفسیات کے مطابق انسان کی ذہنی کیفیت پر حالات کے ساتھ ان کی تشریح بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ ایک ناکامی کسی کے لیے سیکھنے کا موقع بن سکتی ہے، جب کہ دوسرا اسے اپنی ذات کی مکمل شکست سمجھ لیتا ہے۔ مسلسل مایوسی، احساسِ کمتری اور مستقبل سے ناامیدی انسان کی سوچ کو محدود کر سکتی ہے۔ ایسی کیفیت میں اسے وہ راستے بھی دکھائی نہیں دیتے جو کسی پُرسکون ذہنی حالت میں واضح ہوتے ہیں۔


ہمارے معاشرے میں بھی کئی رویّے اس تکلیف کو بڑھا دیتے ہیں۔ بچوں پر کامیابی کا دباؤ، دوسروں سے موازنہ، رشتوں میں بے اعتنائی اور معاشی پریشانیاں انسان کو اندر سے تھکا سکتی ہیں۔ ہم دوسروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔ ہم بچوں کو ناکامی سے ڈرنا سکھاتے ہیں، اسے قبول کرنا نہیں؛ انہیں آگے نکلنے کی ترغیب دیتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ پیچھے رہ جانے سے انسان کی قدر کم نہیں ہوتی۔


ہر خاموشی سکون نہیں ہوتی اور ہر مسکراتا چہرہ اندرونی اطمینان کی ضمانت نہیں ہوتا۔ بعض لوگ اس لیے اپنے دکھ بیان نہیں کرتے کہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کوئی انہیں سمجھے گا نہیں، ان کے جذبات کو ڈراما قرار دے گا یا ان کی کمزوری کا مذاق اڑائے گا۔ جب انسان کو بار بار یہ احساس دلایا جائے کہ اس کے جذبات اہم نہیں، تو وہ رفتہ رفتہ اپنے اندر سمٹنے لگتا ہے۔ یوں اسے مدد کی ضرورت تو ہوتی ہے، مگر وہ مدد مانگنے سے بھی ہچکچاتا ہے۔


ڈپریشن، شدید ذہنی دباؤ، تنہائی اور ناامیدی خودکشی کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں، تاہم ہر شخص کے حالات اور اسباب مختلف ہوتے ہیں۔ ایسے میں محض نصیحت کرنے یا کسی کو کمزور قرار دینے کے بجائے اس کی بات سننا، اس کے احساسات کو اہمیت دینا اور ضرورت پڑنے پر ذہنی صحت کے ماہر سے مدد لینا ضروری ہے۔ کسی کے دکھ کو تسلیم کرنا کمزوری نہیں، بلکہ اسے یہ احساس دلانا ہے کہ اس کی تکلیف اہم ہے۔


میرے خیال میں ہمیں لوگوں کو صرف اس وقت یاد نہیں کرنا چاہیے جب ان کی تکلیف سب پر آشکار ہو جائے۔ کبھی خود بھی ان کا حال پوچھ لینا، ان کی بات توجہ سے سننا اور انہیں یہ احساس دلانا کہ وہ تنہا نہیں، بہت معنی رکھتا ہے۔ ہم ہر مسئلے کا حل نہیں دے سکتے، مگر کسی کو سنے بغیر اس کے بارے میں فیصلہ کرنے سے تو بچ سکتے ہیں۔


شاید سوال صرف یہ نہیں کہ انسان مایوسی کی اس حد تک کیوں پہنچتا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اپنے رویّوں سے اس کے لیے امید کے کتنے دروازے کھلے رکھے ہیں؟