Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ذہنی تشدد: وہ زخم جو نظر نہیں آتے،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

نقطہ نظر
zaigham abidi syed

اگر کوئی شخص کسی کو تھپڑ مار دے تو معاشرہ فوراً حرکت میں آ جاتا ہے۔ گواہ مل جاتے ہیں، رپورٹ درج ہوتی ہے اور قانون اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص مہینوں، بلکہ برسوں تک کسی کو طعنے دے، تذلیل کرے، دباؤ میں رکھے اور اس کی ذہنی سکون کو کچل دے تو ہم اسے "معمول کی بات" کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جسم پر لگنے والا زخم ہی زخم ہے، اور روح پر لگنے والا زخم کوئی حیثیت نہیں رکھتا؟


ذہنی تشدد کی سب سے بڑی خطرناکی یہی ہے کہ یہ دکھائی نہیں دیتا۔ جسمانی چوٹ کا نشان ہوتا ہے، میڈیکل رپورٹ بن جاتی ہے اور ثبوت مل جاتا ہے۔ ذہنی اذیت کا نہ کوئی نشان ہوتا ہے اور نہ کوئی رپورٹ۔ متاثرہ شخص اندر ہی اندر ٹوٹتا رہتا ہے اور باہر سے سب کچھ ٹھیک نظر آتا ہے۔ آہستہ آہستہ اس کا اعتماد ختم ہو جاتا ہے، نیند روٹھ جاتی ہے، چڑچڑاپن بڑھ جاتا ہے اور وہ خود کو بےوقعت سمجھنے لگتا ہے۔


ماہرینِ نفسیات کے مطابق مسلسل ذہنی دباؤ کا اثر صرف دماغ تک محدود نہیں رہتا۔ یہ جسم کو بھی بیمار کر دیتا ہے۔ سر درد، بلڈ پریشر، معدے کے مسائل، دل کی دھڑکن کی بےترتیبی اور مستقل تھکن جیسی شکایات کے پیچھے اکثر ذہنی دباؤ کارفرما ہوتا ہے۔ یعنی جسے ہم معمولی سمجھ کر نظر انداز کرتے ہیں، وہی آگے چل کر جسمانی بیماری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس لحاظ سے کئی بار ذہنی تشدد جسمانی تشدد سے زیادہ گہرا اور دیرپا نقصان پہنچاتا ہے۔


ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ذہنی تشدد کے خلاف شکایت کرنے کا کوئی واضح اور مؤثر نظام موجود نہیں۔ جسمانی حملے کی صورت میں انسان تھانے یا عدالت کا رخ کر سکتا ہے، مگر اگر کسی کو مسلسل ذہنی اذیت کا سامنا ہو تو وہ کس کے پاس جائے؟ کس کو بتائے؟ اور اگر بتا بھی دے تو ثابت کیسے کرے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ خاموش رہتے ہیں اور اپنی تکلیف کو دل میں دبا لیتے ہیں۔


اس مسئلے کا ایک بڑا میدان ہمارے دفاتر اور کارپوریٹ ادارے ہیں۔ کام میں محنت اور ذمہ داری اپنی جگہ درست ہے، لیکن بہت سے اداروں میں دباؤ کی حد پار ہو جاتی ہے۔ غیر حقیقی ہدف، ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ، سب کے سامنے تذلیل اور سب سے بڑھ کر کام کے اوقات کے بعد بھی فون اور پیغامات کا سلسلہ۔ ملازم دفتر سے تو نکل آتا ہے مگر دفتر اس کے ذہن سے نہیں نکلتا۔ چھٹی کے دن، رات کے وقت اور خاندان کے ساتھ گزرنے والے لمحات میں بھی وہ ذہنی طور پر کام میں الجھا رہتا ہے۔ پیشہ ورانہ حدود کا یہ فقدان آہستہ آہستہ ملازمین کو تھکا دیتا ہے اور ادارے کی کارکردگی پر بھی منفی اثر ڈالتا ہے۔


مسئلہ صرف دفاتر تک محدود نہیں، گھروں میں بھی اس کی جھلک نظر آتی ہے۔ آج کی نوجوان نسل سوال کرتی ہے، اپنی رائے رکھتی ہے اور روایتی اختیار کو بغیر دلیل کے ماننے کو تیار نہیں۔ دوسری طرف بڑوں کی تربیت ایک ایسے ماحول میں ہوئی جہاں سوال کرنا بدتمیزی سمجھا جاتا تھا۔ جب یہ دو نظریے ٹکراتے ہیں تو دونوں طرف ذہنی کوفت جنم لیتی ہے۔ والدین خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں اور بچے خود کو سمجھا ہوا نہیں پاتے۔ اس کشمکش میں ہر فریق دوسرے کو تکلیف پہنچا رہا ہوتا ہے، اکثر بغیر جانے۔


تو پھر حل کیا ہے؟ سب سے پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ذہنی صحت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی جسمانی صحت۔ جب تک ہم ذہنی اذیت کو کمزوری یا نازک مزاجی کہتے رہیں گے، متاثرہ لوگ آگے نہیں آئیں گے۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ ایسے ادارے، این جی اوز اور تیسرے فریق کے پلیٹ فارم قائم کیے جائیں جہاں لوگ اپنی شکایات محفوظ طریقے سے درج کروا سکیں۔ دفاتر میں واضح پالیسیاں بنائی جائیں جو کام کے اوقات، رویّوں اور شکایات کے ازالے کا تعین کریں۔ اور گھروں میں مکالمے کو فروغ دیا جائے تاکہ نسلوں کے درمیان فاصلہ کم ہو۔


ہر فرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور رویّے پر نظر رکھے۔ ایک جملہ کسی کا دن بنا بھی سکتا ہے اور برباد بھی کر سکتا ہے۔ ہمیں سیکھنا ہوگا کہ اختلاف کرتے ہوئے بھی عزت برقرار رکھی جائے۔


آخر میں بات یہ ہے کہ زخم چاہے جسم پر ہو یا دل پر، تکلیف ایک جیسی ہی ہوتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک نظر آتا ہے اور دوسرا نہیں۔ جس دن ہم نظر نہ آنے والے زخموں کو بھی سنجیدگی سے لینا سیکھ لیں گے، اسی دن ہم ایک زیادہ ہمدرد اور مہذب معاشرہ بننے کی طرف پہلا قدم رکھیں گے۔