جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

یہ سلسلہ اب رکنا چاہیئے،تحریر: کنیز سسیلیا منظور

نقطہ نظر

آجکل اکثر والدین کو یہ شکایت ہوتی کہ ہمارے بچے ہماری ضروریات کا خیال نہیں رکھتے۔ہمیں توجہ اور وقت نہیں دیتے ۔بہت دفعہ اخبارات میں ایسی خبریں پڑھی ہوں گی۔یا ٹی وی پہ خبر سنی ہوگی ۔کہ بیٹے نے بوڑھے باپ یا ماں کو گھر سے نکال دیا ۔اولڈ ہومز میں کبھی جانا ہو تو ان کی دکھ بھری کہانیاں سن کر ،ان کی بوڑھی آنکھوں میں اپنے بچوں کے انتظار کا ایسا کرب دیکھ کر کسی بھی حساس شخص کا کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔ کبھی گھر کے کسی کونے میں انہیں ڈال دیا جاتا ہے ۔یہ رویے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ مجموعی طور پہ ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات کی اتنی زیادتی کیوں ہوتی جا رہی ہے ۔اولادیں کیوں بے حس اور بے رحم ہوتی جا رہی ہیں ۔ایسا نہیں کہ گزرے وقتوں میں اس طرح بالکل نہیں ہوتا تھا۔ہوتا تھا لیکن کم کم۔اور اگر ایسا کوئ کردار نظر آ جاتا تو پڑوسی اور رشتے دار اس کی ایسی درگت بناتے کہ وہ عمر بھر یاد رکھتا۔

جیسا کرو گےویسا بھرو گے۔یا کمبل والی کہانی تو یقینا سب نے پڑھی یا سنی ہو گی۔ کہ ایک بچے کے والد نے اپنے بوڑھے باپ کو پرانا بوسیدہ سا کمبل اور پرانی چارپائی گھر کے کونے میں دے رکھی تھی ۔اور بچا ہوا کھانا دے دیا جاتا ۔نہ ہی باپ کے پاس بیٹھنے کے لئے بیٹے کے پاس کھبی وقت ہوتا ۔گویا بوڑھا باپ کسی غیر ضروری یا فالتو چیز کی طرح تھا۔البتہ اس بوڑھے کے پوتے کو نجانے کیوں اپنے دادا سے بہت لگاو اور پیار تھا ۔کیونکہ دادا بھی اسے بہت چاہتا تھا۔لیکن اس کی بہو اور بیٹا ہمیشہ بچےکو دادا سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ۔ آخر کار جب دادا کا انتقال ہوا اور اس کی استعمال شدہ چیزیں پھینکی جانے لگیں تو پوتے نے وہ کمبل پکڑ لیا ،کہ یہ میں اپنے پاس رکھوں گا ۔ماں باپ نے پوچھا۔تم اس کا کیا کرو گے۔" تو بچے کا جواب ان کی آنکھیں کھول دینے کے لئے بہت کافی تھا۔بچہ بولا "کیونکہ بوڑھے دادا کو ایسا کمبل اوڑھنا ہوتا ہے ۔تو پاپا جب آپ بوڑھے ہو جائیں گے تو یہ کمبل میں اپ کو دے دوں گا"۔اسے مکافات عمل کہہ لیجیے یا کچھ اور لیکن حقیقت یہی ہے۔

یعنی پرانے وقتوں میں بھی ایسے روئیے نظر اتے تھے ۔لیکن وقت گزرنے کےساتھ ساتھ بجائے کہ ہم ان دلخراش واقعات سے سبق سیکھ کر انہیں ترک کرتے ۔ اور والدین سے مناسب اور اچھا سلوک کرتے ۔بے حسی کم ہونے کی بجائے بڑھ گئی ہے۔

عموما سنا ہوگا کہ ایک باپ پانچ چھ بچوں کو خوشی خوشی پال لیتا ہے ۔لیکن ان پانچ چھ بچوں کے لئے ایک بوڑھے باپ کو پالنا مشکل ہو جاتا ۔۔وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں کہ اج کی روٹی اسے کون دے گا۔بیٹے بہوئیں جائیداد کے بٹوارے میں تو بڑھ چڑھ کر حق جتاتے نظر اتے ہیں۔لیکن بوڑھے ماں باپ کی دو وقت کی روٹی اور تن کا کپڑا ان کے لئے پہاڑ سا بوجھ بن جاتا ہے۔اور اس میں صرف بیٹے ہی نہیں کبھی کبھی بیٹیاں بھی پیچھے نہیں رہتی۔میں نے خود یہ واقعہ دیکھا کہ ایک شخص کا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔اتفاقا اطلاع ایک بیٹی کو دی گئ۔وہ بڑی مستعدی سے ہسپتال پہنچ بھی گئی۔اس شخص کو بس سے اترتے ہوئے روڈ پہ گرنے کی وجہ سے سر پہ شدید چوٹ آئ تھی ۔خون بہت بہہ رہا تھا۔فوری آپریشن کی ضرورت تھی۔ اسپتال والے کہہ رہے تھے کہ یہ ایکسیڈنٹ کیس ہے اسے سرکاری ہسپتال لے جائیں۔وہ بیٹی جو خود بیوہ اور تین بچوں ماں تھی۔اس نے باقی بہن بھائیوں کو فوری اطلاع دینے کے بجائے دو گھنٹے وہیں انتظار کیا۔ کیونکہ اس شخص کی اپنی الماری کی چابی اس کی جیب میں رہتی تھی ۔اور اس کے ہوش میں ہوتے ہوئے وہ چابی حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔مجھے پتہ چلا تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔کہ اپنی سگی اولاد اس حد تک بھی جا سکتی ہے وہ بھی پیسے کے لئے !

خیر جب کسی کے بتانے پہ باقی بچے پہنچے تب تک باپ کی آنکھیں بند ہونا شروع ہوچکی تھیں۔پھر سرکاری ہسپتال لے جایا گیا ۔لیکن تب تک بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے وہ بوڑھا شخص جان کی بازی ہار گیا۔

اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ماں یا باپ کی وفات کے بعد افسوس کے لئے ائے ہوئے لوگوں کو بریانی ضرور کھلائ جاتی ہے۔اور کھانے والے بھی ذوق وشوق سے آلو اور بوٹیاں فرمائش کر کر کے لیتے ہیں۔نہ کھانے والوں کو احساس ہوتا ہے کہ یہ کسی ولیمے کی دعوت نہیں فوتگی کا کھانا ہے ۔۔اور کھلانے والوں کو تو معاشرے میں اپنی ناک اونچی رکھنا مقصود ہوتی ہے کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ ماں یا باپ کے مرنے پہ ڈھنگ کا کھانا بھی نہیں کھلا سکے۔کوئ ان سے کبھی پوچھے کیا اس مرنے والے ماں یا باپ کو ان کی زندگی میں اتنی تن دہی سے بریانی کی ایک پلیٹ بھی کبھی کھلائ تھی ۔اور مرنے کے بعد لوگوں کو کئ کئ دیگیں کھلائ جاتی ہیں۔بے شک قرض ہی کیوں نہ اٹھانا پڑے۔

ذرا نہیں پورا سوچیں۔کیا یہ سلسلہ کہیں رکنا نہیں چاہیے؟ ٹھیک ہے جی مکافات عمل ہے۔چونکہ انہوں نے اپنے ماں باپ کے ساتھ ایسا کیا ہوگا اس لئے ان کے بچے ان کے ساتھ ایسا سلوک کر رہے ہیں۔تو اگر ساری اولادیں اج ہی اس سلسلے کو روک دیں۔اپنے ماں باپ کی جس حد تک ممکن ہو خدمت اور احساس کر لیں۔جہاں تک ان کے وسائل ہیں اس کے مطابق سہی ،جو دال روٹی خود کھاتے ہیں وہ بوڑھے ماں باپ کو بھی خوشی ، عزت اور پیار سے دے دیں۔تو یقینا یہ سلسلہ رک جائے گا ۔پھر کسی بوڑھے اور کمزور شخص کو بچوں کی بے اعتنائی،دکھ اور بھوک کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔یقین جانیے کہ وہ شخص جس نے ساری زندگی خود کما کر بچوں کو دیا ہوتا ہے ۔اس کے لئے بچوں سے اپنی بنیادی ضروریات کے لئے بھی مانگنا گویا اس کی انا اور خود داری کا خون کرنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس لئے وہ بھوک ، بیماری اور تنہائی برداشت کر لیتا ہےاور مانگنے کے بجائے موت کو گلے لگانا زیادہ بہتر سمجھتا ہے۔

دعاوں اور نیک تمناؤں کے ساتھ۔