ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک،قومی شاہراہ پر موت کا رقص، ذمہ دار کون؟تحریر: رئیس عنایت اللہ چاچڑ

ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک قومی شاہراہ کا سفر بظاہر معمول کا سفر ہے، مگر اس سڑک پر آئے روز پیش آنے والے سنگین حادثات نے اسے خطرناک شاہراہ بنا دیا ہے۔ کبھی تیز رفتار ٹرالر کسی گاڑی کو اپنی زد میں لے لیتا ہے، کبھی ٹرک اور موٹر سائیکل آپس میں ٹکرا جاتے ہیں اور کبھی رکشہ یا کار حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ ان حادثات میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ معصوم بچے، خواتین اور بزرگ بھی اس خونی سلسلے کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ حادثات کی بڑی وجوہات میں تیز رفتاری، ڈرائیوروں کی لاپرواہی، غیر محتاط ڈرائیونگ اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شامل ہیں، تاہم قومی شاہراہ پر جگہ جگہ بنائی گئی غیر ضروری میڈین اوپننگز اور یوٹرن پوائنٹس بھی ایک اہم مسئلہ بن چکے ہیں۔ چھوٹے بڑے اڈوں اور آبادیوں کے قریب شاہراہ کے درمیان متعدد مقامات پر آمدورفت کے لیے راستے کھولے گئے ہیں جہاں موٹر سائیکل، رکشہ، کار اور دیگر چھوٹی گاڑیاں اچانک قومی شاہراہ پر آنے والی تیز رفتار بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کے سامنے آ جاتی ہیں۔ چند لمحوں کی یہ بے احتیاطی کئی خاندانوں کو عمر بھر کا دکھ دے جاتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ ادارے محض حادثے کے بعد کارروائی کرنے کے بجائے حادثات کی روک تھام کے لیے مستقل اور عملی اقدامات کریں۔ قومی شاہراہ کا مکمل حفاظتی جائزہ لیا جائے، غیر ضروری میڈین اوپننگز اور خطرناک یوٹرن پوائنٹس بند کیے جائیں اور صرف ضرورت کے مطابق محفوظ یوٹرن فراہم کیے جائیں۔ آبادیوں اور اڈوں کے قریب واضح سائن بورڈز، مناسب اسٹریٹ لائٹس، رفتار کی حد کے اشارے اور دیگر حفاظتی انتظامات بھی یقینی بنائے جائیں۔ ساتھ ہی ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد، تیز رفتاری کی مؤثر نگرانی اور ڈرائیوروں میں شعور اجاگر کرنا بھی ضروری ہے۔ سڑکیں سفر کو آسان بنانے کے لیے ہوتی ہیں، زندگی چھیننے کے لیے نہیں۔ اگر بروقت توجہ دی جائے تو ظاہر پیر سے فتح پور کمال تک اس خطرناک شاہراہ کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے اور کئی گھروں کے چراغ بجھنے سے بچائے جا سکتے ہیں۔ آخر سوال یہی ہے: مزید کتنی قیمتی جانیں ضائع ہونے کے بعد ہم جاگیں گے؟
مزید پڑھیں





