پیر، 26 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

روٹی کا فلسفہ: ذائقہ یا ضرورت؟تحریر:یاسمین اختر طوبیٰ

نقطہ نظر

دوپہر کا سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ کھیتوں سے لوٹتے ہوئے ایک بوڑھے کسان نے پھاوڑا نیچے رکھا، پسینہ پونچھا اور نیم کے درخت کے سائے میں بیٹھ گیا۔ اس کی بیوی نے دو موٹی روٹیاں، ایک ہری مرچ، تھوڑا سا نمک اور ٹھنڈا پانی اس کے سامنے رکھ دیا۔ بوڑھے نے بسم اللہ کہہ کر نوالہ لیا اور یوں مسکرایا جیسے دنیا کی سب سے لذیذ ضیافت اس کے سامنے ہو۔ کیا واقعی روٹی میں کوئی خاص ذائقہ تھا یا دن بھر کی محنت اور بھوک نے اسے نعمت بنا دیا تھا؟

اسی وقت ایک قیمتی گاڑی گزری۔ اس میں بیٹھا ایک شخص شہر کے مشہور ہوٹل سے کھانا کھا کر واپس آ رہا تھا۔ میز پر طرح طرح کے پکوان سجے تھے مگر چند نوالوں کے بعد ہی وہ بے زار ہو گیا اور ہاضمے کی دوا کھانے لگا۔ ایک طرف سادہ روٹی پر شکر ادا کرنے والا کسان تھا اور دوسری طرف مرغن کھانوں کے باوجود بے ذائقگی کا شکار شخص۔ آخر ایسا کیوں ہے کہ کسی کے لیے خشک روٹی بھی نعمت بن جاتی ہے اور کسی کے لیے انواع و اقسام کے پکوان بھی بے لطف رہتے ہیں؟ کیا ذائقہ صرف کھانے میں ہوتا ہے یا اسے محسوس کرنے کے لیے ایک خاص کیفیتِ دل بھی درکار ہوتی ہے؟


یہ دونوں مناظر زندگی کا گہرا فلسفہ بیان کرتے ہیں۔ اگر بھوک ہی نہ ہو تو ذائقے کی ساری شان و شوکت کس کام کی؟ ہم لذت کو مصالحوں اور نت نئے پکوانوں میں تلاش کرتے ہیں مگر بھول جاتے ہیں کہ ایک سادہ لقمے کو خوش ذائقہ بنانے میں بھوک کا کتنا بڑا کردار ہے۔ بھوک وہ خاموش جادوگر ہے جو خشک روٹی کو نعمت اور معمولی غذا کو شاہی ضیافت بنا دیتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے دسترخوان تو امیر ہو گئے ہیں مگر ہماری قدر شناسی غریب ہو گئی ہے؟

مجھے بچپن کے وہ دن یاد آتے ہیں جب شام ڈھلتے ہی کرکٹ کا کھیل ختم ہوتا اور ہم مٹی سے اٹے کپڑوں کے ساتھ گھر لوٹتے۔ بھوک اتنی شدید ہوتی کہ دال بھی شاہی ضیافت محسوس ہوتی اور گرم روٹی کے ساتھ اچار کا ایک ٹکڑا خوشی کا سامان بن جاتا۔ آج فریج بھرے ہیں اور باورچی خانے انواع و اقسام کے کھانوں سے آباد ہیں مگر وہ بے ساختہ خوشی کہاں گئی؟ کیا سہولتوں کی فراوانی نے ہمیں نعمتوں کی قدر سے دور کر دیا ہے؟

شاید انسان کی بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے ضرورت کو خواہش اور خواہش کو عادت میں بدل دیا ہے۔ اب کھانا جسم کی ضرورت سے زیادہ دل کی تفریح بن گیا ہے۔ ہم کھانے کی تصویریں محفوظ کرنے میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ شکر ادا کرنا بھی بھول جاتے ہیں۔ کیا ہمیں واقعی بھوک لگتی ہے یا ہم محض خواہش کے ہاتھوں کھانے بیٹھ جاتے ہیں؟ اگر ہر خواہش فوراً پوری ہو جائے تو انتظار کی لذت کہاں باقی رہتی ہے؟

قدرت کا نظام بامعنی ہے: پہلے ضرورت کا احساس پیدا ہوتا ہے، پھر نعمت ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزہ صرف عبادت نہیں بلکہ ضبطِ نفس اور قدر شناسی کی تربیت بھی ہے۔ پورا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کے بعد افطار میں ایک کھجور کی مٹھاس کسی شاہی ضیافت سے کم محسوس نہیں ہوتی۔ پانی کا ایک گھونٹ بھی روح تک اترتا محسوس ہوتا ہے۔ گویا نعمت کی حقیقی لذت صرف اس کی موجودگی میں نہیں بلکہ اس کی ضرورت محسوس کرنے اور شکر ادا کرنے میں بھی پوشیدہ ہے۔

یہ اصول صرف کھانے تک محدود نہیں۔ کامیابی کی مسرت اسی کو حاصل ہوتی ہے جس نے ناکامیوں کی تلخی چکھی ہو، بارش کی قدر وہی جانتا ہے جس نے خشک سالی دیکھی ہو اور اپنوں کی قربت کی اہمیت وہی سمجھتا ہے جس نے جدائی برداشت کی ہو۔ ہم اکثر نعمت کو اس وقت تک معمولی سمجھتے رہتے ہیں جب تک اس کی کمی ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہ دلا دے۔

آج ہم بچوں کی ہر خواہش فوراً پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کیا مسلسل فراوانی ان کے احساسِ قدر کو کمزور نہیں کر رہی؟ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچوں کو ضروریات سے محروم رکھا جائے بلکہ انہیں صبر، انتظار، قناعت اور شکرگزاری سکھانا بھی ضروری ہے۔ سہولتیں دینا اچھی بات ہے مگر نعمت کی قدر کرنا سکھانا اس سے بھی اہم ہے۔

کیا بھوک صرف معدے کی ہوتی ہے؟ انسان کے اندر علم، محبت، عزت اور مقصدِ زندگی کی بھوک بھی ہوتی ہے۔ جس طرح بھوک کے بغیر روٹی بے ذائقہ ہو جاتی ہے، اسی طرح مقصد کے بغیر کامیابی اور شکر کے بغیر فراوانی اپنی معنویت کھو دیتی ہے۔ انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ اسے کتنا کچھ میسر ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ حاصل شدہ نعمتوں کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔ اگر نظر صرف محرومی پر رہے تو فراوانی میں بھی کمی محسوس ہوتی ہے لیکن شکر گزار دل معمولی نعمت میں بھی خوشی تلاش کر لیتا ہے۔

اس لیے جب بھی دسترخوان پر بیٹھیں تو اس بوڑھے کسان کو یاد کیجیے جو نیم کے سائے میں خشک روٹی کھاتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ اس کے پاس دنیا کی تمام آسائشیں تو نہیں تھیں مگر اسے موجود نعمت کی قدر تھی۔ شاید وہ ہمیں بتا رہا تھا کہ خوشی ہمیشہ زیادہ حاصل کرنے میں نہیں بلکہ حاصل شدہ نعمت کو محسوس کرنے میں بھی ہے۔

بحیثیتِ مجموعی روٹی کا فلسفہ محض کھانے کی لذت نہیں بلکہ انسانی خواہشات، ضروریات اور شکرگزاری کا مطالعہ بھی ہے۔ لذت صرف پکوانوں میں نہیں، احساس میں بھی ہوتی ہے؛ نعمت صرف دسترخوان کی وسعت میں نہیں، دل کی قناعت میں بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ روٹی ذائقے کے لیے ہے یا ضرورت کے لیے بلکہ یہ ہے کہ کہیں ہم نے اپنی خواہشات کے بوجھ تلے نعمتوں کا اصل ذائقہ تو نہیں کھو دیا؟ اگر غذا کو بھوک لذیذ بناتی ہے تو کیا زندگی کو خوب صورت بنانے کے لیے احساس، قناعت اور شکرگزاری ضروری نہیں؟