جمعرات، 29 اکتوبر، 2026
Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

ذہنی صحت اور ہمارا معاشرہ،تحریر : سدرہ قیوم

نقطہ نظر

ہم میں سے اکثر کو بخار ہو تو فوراً ڈاکٹر کے پاس چلے جاتے ہیں۔ ٹانگ ٹوٹ جائے تو سب ہمدردی کرتے ہیں۔ لیکن کوئی کہے کہ "مجھے کئی ہفتوں سے نیند نہیں آ رہی، دل بجھا بجھا رہتا ہے، کسی کام میں جی نہیں لگتا" تو جواب ملتا ہے: "اتنا سوچا نہ کرو"، "ایمان مضبوط رکھو"، "لوگ کیا کہیں گے؟" یہی وہ رویہ ہے جس نے ذہنی صحت کو ہمارے ہاں سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا مسئلہ بنا دیا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں ہر آٹھ میں سے ایک شخص کسی نہ کسی ذہنی عارضے کے ساتھ جی رہا ہے۔ ڈپریشن اور اینگزائٹی سب سے عام ہیں۔ یہ کمزوری نہیں، بیماری ہیں، اور ان کا تعلق دماغ کی کیمیا، زندگی کے حالات، صدمات اور مسلسل دباؤ سے ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مہنگائی، بے روزگاری، غیر یقینی مستقبل اور خاندانی توقعات کا بوجھ پہلے ہی بھاری ہے، یہ مسئلہ اور بھی سنگین ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود ماہرینِ نفسیات کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے، اور سرکاری سطح پر سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ بدنامی کا خوف ہے۔ نفسیاتی مسئلے کا ذکر ہوتے ہی "پاگل" کا لفظ زبان پر آ جاتا ہے۔ نتیجتاً لوگ علاج کے بجائے چھپانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ رشتوں میں رکاوٹ، نوکری پر اثر اور خاندان کی بدنامی کا ڈر انہیں تنہا کر دیتا ہے۔ کچھ لوگ ڈاکٹر کے بجائے تعویذ گنڈوں اور نیم حکیموں کے پاس جاتے ہیں، اور مرض بڑھتا چلا جاتا ہے۔

دعا اور روحانیت یقیناً سہارا دیتی ہیں، اور بہت سے لوگوں کے لیے سکون کا ذریعہ ہیں۔ لیکن انہیں علاج کا متبادل سمجھنا درست نہیں۔ جس طرح ذیابیطس کے مریض کے لیے دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے، اسی طرح ڈپریشن کے مریض کو بھی دعا کے ساتھ مناسب علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

خطرے کی علامات

یہ علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہیں تو انہیں معمولی نہ سمجھیں:

مسلسل اداسی، خالی پن یا بے بسی کا احساس

نیند یا بھوک میں نمایاں تبدیلی

پسندیدہ کاموں اور میل جول سے دوری

بلاوجہ گھبراہٹ، دل کی تیز دھڑکن یا بے چینی

توجہ کی کمی اور چڑچڑاپن

خود کو بوجھ سمجھنا، یا مرنے کے خیالات آنا

آخری علامت سب سے سنگین ہے۔ اگر کسی کو اپنی جان لینے کے خیالات آ رہے ہوں تو فوراً کسی قابلِ اعتماد شخص یا ماہرِ نفسیات سے رابطہ کرنا چاہیے۔ یہ کوئی شرمندگی کی بات نہیں، ہمت کی نشانی ہے۔

آج کا نوجوان دوہرے دباؤ میں ہے: تعلیمی مسابقت اور روزگار کی فکر ایک طرف، اور سوشل میڈیا پر دوسروں کی "بہترین زندگی" دیکھ کر اپنی زندگی کو کم تر سمجھنے کا احساس دوسری طرف۔ ہم جو کچھ سکرین پر دیکھتے ہیں وہ لوگوں کی زندگی کی منتخب جھلکیاں ہوتی ہیں، پوری حقیقت نہیں۔ یہ بات خود کو بھی یاد دلانی چاہیے اور بچوں کو بھی سمجھانی چاہیے۔؟

انفرادی سطح پر: نیند، متوازن غذا اور ہلکی پھلکی ورزش کو معمول بنائیں۔ اپنے جذبات کسی قریبی شخص سے بیان کریں۔ جب مسئلہ روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے لگے تو کسی مستند ماہرِ نفسیات یا ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ علاج کروانا اتنا ہی فطری ہے جتنا آنکھوں کے لیے چشمہ لگانا۔

خاندان کی سطح پر: سننا سیکھیں۔ کسی کی تکلیف کے جواب میں فوراً نصیحت کرنے کے بجائے پہلے اتنا کہنا ہی کافی ہو سکتا ہے کہ "میں تمہاری بات سن رہا ہوں۔" بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ اپنی کمزوری یا پریشانی ظاہر کر سکتے ہیں۔

ریاست اور اداروں کی سطح پر: سکولوں اور جامعات میں کونسلنگ کی سہولت، بنیادی صحت مراکز میں ذہنی صحت کی خدمات، اور کام کی جگہوں پر ذہنی دباؤ کے بارے میں آگاہی ناگزیر ہے۔ میڈیا کو بھی ذمہ داری سے کام لینا چاہیے اور ذہنی مریضوں کا مذاق اڑانے کے بجائے ان کے بارے میں درست معلومات پھیلانی چاہئیں۔

ذہنی صحت کوئی آسائش نہیں، بنیادی ضرورت ہے۔ جو معاشرہ اپنے لوگوں کے دلوں کا حال نہیں پوچھتا، وہ ان کی کامیابیوں کا بوجھ بھی دیر تک نہیں اٹھا سکتا۔ آئیے آج سے ایک چھوٹا سا عہد کریں: کسی کی خاموشی کو "سب ٹھیک ہے" نہ سمجھیں، اور اپنے کسی عزیز سے دل سے پوچھ لیں، "تم کیسے ہو؟ سچ بتاؤ۔"

کیونکہ کبھی کبھی ایک سنا ہوا جملہ کسی کی زندگی بدل دیتا ہے۔