fbpx

ریاست مدینہﷺ کاتصوّرپاکستان میں کیوں ضروری؟وزیر اعظم کا خصوصی مضمون منظرعام پرآگیا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے ‘روح ریاست مدینہ اور پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو’ کے عنوان پر خصوصی مضمون لکھا ہے، جس میں انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی ریاست کو ریاست مدینہ کے بنیادی اصولوں کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرنی ہوگی۔

انھوں نے مضمون میں لکھا کہ معاشرے کی اخلاقی تعمیر کو لوگوں کی صوابدید پر نہیں چھوڑا جا سکتا، نیکی و بدی کے تصورات کے بارے میں غیر جانب دار رہنے کا خیال فرسودہ ہے، یہ تصور ریاست کو اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانے سے روکتا ہے، اور ریاست کے مخالفین کو کھلا موقع فراہم کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے لکھا نبی کریمﷺ نے ریاست مدینہ کے ذریعے عظیم ترین تہذیب کی بنیاد رکھی، اور ریاست کے لیے رہنما اصول وضع کیے، قانون کی حکمرانی ریاست مدینہ کا اہم ترین وصف تھا۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا قانون کے احترام کا چیلنج فوری توجہ کا مستحق ہے، مکار سیاست دان اور مافیا کرپٹ سسٹم سے اپنی مراعات کا تحفظ کرنے کے عادی ہو گئے، سیاست دانوں اور مافیا نے ریاستی اداروں کو بھی کرپٹ بنا دیا، یہ خون چوسنے والی وہ جونکیں ہیں جو ملک سے مخلص نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ریاست مدینہ کی روح کے احیا کے لیے رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی قائم کی، کامیاب ریاستیں وہی ہیں جہاں سختی سے قانون کا نفاذ کیا جاتا ہے، جن قوموں نے خوش حالی حاصل کی انھوں نے اسی اصول پر عمل کیا، پاکستان میں قانون کی حکمرانی نظر انداز کرنے سے اربوں ڈالر کی لوٹ مار ہوئی۔

وزیر اعظم نے کہا جو چیلنجز درپیش ہیں ان میں فوری توجہ کا مستحق قانون کے احترام کا چیلنج ہے، ملکی حقیقی قوت اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے قانون شکن افراد کو شکست دینا ہوگی۔

عمران خان نے لکھا کہ مخالفین تعلیمی نظام اور ذرائع معلومات سے ہماری اقدار برباد کرتے ہیں، رحمت اللعالمینﷺ اتھارٹی سیرت النبی کی تعلیم سے امر بالمعروف کے لیے پر عزم ہے، اس اقدام سے ہمارے معاشرے کے اخلاقی معیارات بلند ہوں گے۔

انھوں نے لکھا کہ ریاست مدینہ پہلی ریاست ہے جس میں کمزور طبقے کی ذمہ داری اٹھائی گئی، ہمیں بھی نبی کریمﷺ کی سنت کا احیا کرنا ہوگا، محدود وسائل کے باوجود احساس پروگرام جیسے اقدامات کے لیے وسائل مختص کیے، صحت سہولت پروگرام پاکستانی تاریخ کے عظیم منصوبوں میں سے ایک ہے، صحت سہولت پروگرام یونیورسل ہیلتھ کی سہولت فراہم کرے گا۔

ان کا کہنا تھا یہ منصوبہ غربت میں دھنسے کمزور شہریوں کا تحفظ کرے گا، صحت سہولت پروگرام سے نجی اسپتالوں کا نیٹ ورک وجود میں آئے گا، پنجاب حکومت نے منصوبے کے لیے 400 ارب مختص کیے ہیں، احساس اسکالرشپ پروگرام کے تحت 47 ارب روپے کے وظائف دیے جا رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں تعلیم کے شعبہ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔