fbpx

پی ٹی آئی ایم این اے کنول شوذب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رو پڑیں

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ایم این اے کنول شوذب اسلام آباد ہائی کورٹ میں رو پڑیں-

باغی ٹی وی : ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پیکا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف پی بی اے سمیت دیگر صحافتی تنظیموں کی درخواستوں پر سماعت کی تو کنول شوذب عدالت میں پیش ہوئیں۔

شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

انہوں نے کہا کہ میں پبلک آفس ہولڈر ہوں لیکن مجھے بھی اظہار رائے کی آزادی ہے، کیا میں بنی گالہ میں سروسز دیتی آئی ہوں؟ میرے بارے میں وی لاگ میں ایسی باتیں کی گئیں ؟ کیا یہ فریڈم آف اسپیچ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کے ساتھ سو کر آئی ہے، جو مجھ پر الزام لگا ہے، نا امیر زادی ہوں نا غنڈا ہوں ، میرے خلاف طرح طرح کے وی لاگ ہوتے ہیں، میں کہاں جاؤں کس کے پاس جاؤں میرا فیملی ہے۔

کنول شوذب نے کہا کہ رضی نامہ میں میرے بارے میں جو کچھ کہا گیا میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں، ساڑھے تین لاکھ لوگوں نے اسے دیکھا، ایک سال سے میرے خلاف بات ہورہی ہے میرے خلاف کمپین چل رہی ہے، رضی نامہ کہنے والے لوگ معاشرے میں پتہ نہیں میرے بارے میں کیا کیا کہتے ہیں، خواتین ارکان اسمبلی کے بارے میں کہا گیا کہ کسی کے ساتھ سو کر اسمبلی میں پہنچی ہے اور کنول شعیب بولتے ہوئے رو پڑیں۔

خاتون رکن اسمبلی کے رونے کے بعد عدالت نے انہیں نشست پر تشریف رکھنے کی ہدایت کی چیف جسٹس کے بار بار روکنے کے باوجود کنول شوذب نے روتے ہوئے بات جاری رکھی اور ایک سی ڈی عدالت میں چلانے کی استدعا کردی۔

کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اچھے خاصے سینئر صحافی ہیں جنہوں نے اس ویڈیو میں بات کی، میں مرد ہوں ہم ان خواتین کی جگہ پر جا کر تصور نہیں کر سکتے۔

کنول شوزب کے وکیل اظہر صدیق نے کہا کہ کنول شوزب پر تہمت لگائی گئی جس کی اسلامی قانون میں کوڑوں کی سزا ہے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بھی کنول شوزب کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست پڑھ کر سنائی-

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہ سب کچھ پولیٹیکل پارٹیز کی وجہ سے ہو رہا ہے، سیاسی جماعتوں نے کیوں سوشل میڈیا ٹیمیں رکھی ہوئی ہیں، عوامی نمائندوں میں تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئے، آپ عام شہری نہیں، پبلک آفس ہولڈر ہیں، ایف آئی اے نے 95 ہزار شکایات چھوڑ کر آپ کی شکایت پر کارروائی کی، ڈائریکٹر ایف آئی اے بتائیں کہ 95 ہزار شکایات چھوڑ کر پبلک آفس ہولڈر کے کیس کو کیوں ترجیح دی؟۔

لکھ پتی بھکاری گرفتار،مقدمہ درج

کنول شوزب نے کہا کہ آپ سب کو بولنے کی آزادی دیتے ہیں مگر مجھے بولنے کی آزادی نہیں، ہماری کلچرل اقدار ہیں، میں یورپ نہیں، پاکستان میں رہتی ہوں، کیا غیرت کے نام پر کوئی جا کر اس شخص کو گولی مار دے جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ آپ کی کمپلینٹ عدالت کے سامنے نہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ایم این اے کنول شوذب کو خراج تحسین پیش کیا فواد چوہدری نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ کنول شوذب نے اظہار آزادی رائے کے نام پر لگے تماشے کو جس دلیری اور بردباری سے بے نقاب کیا اس پر اس دلیر ممبر پارلیمنٹ کو سلام ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہاں کنول شوذب تلخ ہو گئیں لیکن کسی کے ساتھ ایسا ہو گا وہ تلخ تو ہو گا اظہار آزادی اور توہین میں فرق ہے اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ