قانون سب کے لیے برابر، توشہ خانہ کیس کا فیصلہ دیں گے،عدالت

0
35
imran khan

اسلام آباد کی مقامی عدالت میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ہوئی

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے الیکشن کمیشن کی کمپلینٹ پر سماعت کی ،وکیل عمران خان نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی 9 مارچ کو پیش ہونے کا کس نے کہا ہے؟ جج ظفر اقبال نے کہا کہ 9 مارچ کو ہائیکورٹ اور جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کے کیسز کی سماعت ہے، 9مارچ کو تو عمران خان نے اسلام آباد آنا ہی ہے توشہ خانہ کیس کو قانون کے مطابق چلایا جائے گا، عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست پر فیصلہ آدھے گھنٹے میں سنایا جائے گا

قبل ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف توشہ خان کیس کی سماعت میں وقفے کے بعد جج نے ریمارکس دیئے کہ سوا 3 بجے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت جاری ہے۔عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کر رہے ہیں۔عمران خان کے جونیئر وکیل سردار مصروف خان، محسن شاہنواز رانجھا اور الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن عدالت پیش ہوئے۔آج سماعت میں دو بار وقفہ ہوا، دوسرے وقفے کے بعد عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت اور فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے۔

وکیل شیر افضل مروت نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کے وارنٹ منسوخی پر اپیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائرکردی ہے۔
جج نے ریمارکس  دیئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپیل کے باعث ہی کیس کی سماعت میں وقفہ کیا تھا، دیکھ لیتے ہیں لیکن سوا 3 بجے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ کردیاجائے گا۔ وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ عمران خان کے سیشن عدالت میں نہ آنے کے پیچھے چند وجوہات تھیں، عمران خان نے متعدد بار کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وکیل سے سوال کیا کہ عمران خان آج بھی  پیش نہیں ہو رہے کیا؟عمران خان کے وکیل نے بتایا کہ عمران خان کی پیشی کا مجھے معلوم نہیں، تاہم لیگل ٹیم کچھ دیر میں آ جائے گی۔ جج نے سوال کیا کہ آپ کے پاس عمران خان کی کچہری پیشی کی کوئی انفارمیشن نہیں؟وکیل سردار مصروف خان نے کہا کہ عمران خان کی سینئر لیگل ٹیم 10 بجے عدالت پیش ہو گی۔جج ظفر اقبال نے پھر استفسار کیا کہ عمران خان کے ضامن پیش نہیں ہوئے؟عمران خان کے وکیل نے کہاکہ ضامن کو کیسے نوٹس کرسکتے؟ طریقہ کار مکمل نہیں ہوا۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ضامن پابند ہیں کہ عمران خان عدالت پیش ہوں۔عدالت نے اس سے قبل سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کیا تھا۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغازہوا، الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی پیشی کا صبح صبح بتا دیا کریں، وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔وکیل شیر افضل مروت نے عدالت میں پیش ہو کر کہا ہے کہ وکالت نامہ ایک دو دن تک دے دیتا ہوں۔وکیل شیر افضل مروت نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی لیگل ٹیم اسلام آباد ہائی کورٹ میں موجود ہے۔عمران خان کے وکیل نے استدعا کی اگلے ہفتے کوئی تاریخ دے دیں، جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی طلبی کے لیے سماعت چل رہی ہے۔ وکیل شیرافضل مروت نے کہا کہ عمران خان کی صحت خراب ہے، معذوری کی حالت ہے، دنیا میں عمران خان سے متعلق تماشہ چل رہا ہے۔الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ضامن کو عدالت نوٹس کرے اور شورٹی کو کینسل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے 9 مارچ تک سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ 9 مارچ کو عمران خان نے ہائی کورٹ میں پیش ہونا ہے، وہ یقینی طور پر 9 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گے۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ عمران خان کے لیے اگلے ہفتے کچہری پیش ہونا آسان ہو گا۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی دوسرے لفظوں میں عمران خان نے 9 مارچ کو بھی سیشن عدالت پیش نہیں ہونا۔

جج نے وکیل شیر افضل مروت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا وکالت نامہ پہلے آنا چاہیے، بات بعد میں ہونی چاہیے۔
جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے وکیل نہیں آئے، کیا کریں اس کا؟ میں نے انتظار بھی اس لیے کیا کہ شاید اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی فیصلہ آ جائے گا، اگر صورتحال یہی رہنی ہے تو کوئی فیصلہ کر دیتے ہیں، عمران خان خود بھی ابھی تک ذاتی طور پر پیش نہیں ہوئے۔ جج نے عمران خان کے وکیل شیر افضل مروت کو وکالت نامہ جمع کروانے کی ہدایت کر دی۔وکیل شیر افضل مروت نے کہا کہ 11 بجے عمران خان کی جانب سے وکالت نامہ دے دیتا ہوں۔

جج نے کہا کہ ظاہر ہو رہا ہے کہ عمران خان آج بھی سیشن عدالت میں پیش نہیں ہوں گے۔محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ میں نے عمران خان کے خلاف ریفرنس دائر کیا، چھ ماہ سے معاملہ چل رہا ہے۔جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے کیس میں قانون سب کے لیے برابر ہو گا، قانون کے مکمل تقاضوں کو پورا کر کے توشہ خانہ کیس کو چلایا جائے گا۔ عمران خان کے وکیل نے دو بجے تک سماعت میں وقفہ کرنے کی استدعا کر دی۔عدالت نے سماعت کی مزید کارروائی کے لیے 2 بجے تک وقفہ کر دیا

Leave a reply