قطری خط کے بعد قطری ڈیل، کتنے ارب ڈالر کے عوض رہا ہو گا نواز شریف؟ اہم خبر

0
125

قطری خط کے بعد شریف خاندان کی مشکلات کم کرنے کے لئے قطری ڈیل بھی ہو گئی، امیر قطر کا دورہ پاکستان کامیاب ہو گیا، امیر قطر کے پاکستان پہنچنے سے ایک گھنٹہ قبل مریم نواز کی پریس کانفرنس امیر قطر کے لئے پیغام تھا کہ وہ ڈیل کے لئے کردار ادا کریں.

نیب کی جانب سے بڑوں کی گرفتاریوں کے بعد اب بڑوں نے کچھ لو کچھ دو کی پالیسی پر عمل شروع کر دیا، امیر قطر کے دورہ پاکستان میں معاشی ڈیل ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے میثاق معیشت کا فارمولا پیش کیا جس کے بعد مریم نواز نے میثاق معیشت کو مذاق معیشت کہنے کے اگلے روز ہی اپنے بیان سے یوٹرن لے لیا

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری کو اسوقت نیب نے گرفتار کیا ہوا ہے، آصف زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی نیب کی حراست میں ہیں. سابق وزیراعظم نواز شریف بھی العزیز ریفرنس میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں‌، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز بھی نیب کی حراست میں ہیں‌، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ برادران بھی جیل میں ہیں، نیب کی جانب سے بڑے سیاسی زعما کے خلاف ایکشن جاری رہے اور گرفتاریاں ہوتی رہیں.

چند روز قبل امیر قطرشیخ تمیم بن حمد الثانی نے پاکستان کا دو روزہ دورہ کیا، وزیراعظم عمران خان نے امیر قطر کا خود استقبال کیا اور ان کی گاڑی بھی ڈرائیو کی، امیر قطر کا فضا میں پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے استقبال کیا ، انہیں وزیراعظم ہاوس میں گارڈ آف آنر بھی دیا گیا جبکہ پاکستان کا سب سے بڑا اعزاز بھی انہیں ایوان صدر میں دیا گیا،امیر قطر کی واپسی کے بعد اعلان ہوا ہے کہ قطر پاکستان میں تین ارب ڈالرز کی بھی سرمایہ کاری کرے گا.

باغی ٹی وی کے باخبر ذرائع کے مطابق امیر قطر کے دورہ پاکستان کے دوران ایک ڈیل ہوئی ہے، جس میں سابق وزیراعظم نواز شریف جو اسوقت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں ، ان کے حوالہ سے امیر قطر نے پاکستانی وزیراعظم کے ساتھ ڈیل کی ہے، باخبر ذرائع کے مطابق نواز شریف کے ساتھ 12 بلین ڈالر کی ڈیل ہوئی ہے، شریف خاندان 12 بلین ڈالر ادا کرے گا، اور اس کے لئے قطری شاہی خاندان کردار ادا کرے گا، 12 بلین ڈالر کی ادائیگی کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی جیل سے رہائی ہو گی اور یہ رہائی اسی سال اکتوبر تک متوقع ہے، نواز شریف رہائی کے بعد پاکستان میں رہنے کی بجائے لندن چلے جائیں گے اور آئندہ پانچ برس تک پاکستان نہیں آ سکیں گے اور نہ ہی پاکستان کے معاملات میں‌ مداخلت کریں گے .

باغی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق امیر قطر کی جانب سے نواز شریف کے حوالہ سے ڈیل کے بعد قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف جو خود نیب کی حراست میں رہ چکے ہیں نے قومی اسمبلی میں میثاق معیشت کی پیشکش کی جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ میں خود اس میں دلچسپی لوں گا اب بھی وقت ہے کہ میثاق معیشت ہو سکتی ہے، سپیکر قومی اسمبلی نے اس حوالہ سے وزیراعظم سے ملاقات کی اس کے بعد وزیراعظم نے شہباز شریف کی جانب سے پیش کی جانے والی میثاق معیشت کی پیشکش قبول کر لی ، اس سے قبل وزیراعظم عمران خان کسی بھی ڈیل یا ڈھیل یا میثاق کی طرف نہیں آنے والے تھے بلکہ انہوں نےاعلان کیا تھا کہ کسی کو این آر او نہیں ملے گا.

قومی اسمبلی میں شہباز شریف کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش کے بعد سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز جو مسلم لیگ ن پر اپنا ہولڈ رکھنا چاہتی ہیں نے ایک پریس کانفرنس میں اپنے والد نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں ہونے والے تیسرے ہارٹ اٹیک کا انکشاف کیا تو اسی پریس کانفرنس میں میثاق معیشت کو مذاق معیشت کہا اور حکمرانوں کے گھیراو کرنے کا کہا لیکن اسی کانفرنس کے اگلے روز مریم نواز نے صرف ایک دن قبل کی جانے والی پریس کانفرنس سے یوٹرن لیا اور کہا کہ چچا نے جو کہا میرے لئے وہ قابل احترام ہیں، ہمارا کوئی اختلاف نہیں.

شریف خاندان جس کے قطریوں سے خاندانی مراسم ہیں نے نواز شریف کی ڈیل اور رہائی کے لئے کردار ادا کیا ہے تا ہم اگر نواز شریف 12 بلین ڈالر کی ادائیگی کریں گے تو رہا ہو جائیں گے. شریف خاندان اور قطری شاہی خاندان کے گہرے مراسم ہیں یہی وجہ ہے کہ 14 نومبر 2016 کوشریف خاندان کے وکیل اکرم شیخ نے قطری سابق وزیرِ اعظم حامد بن جاسم بن جابر الثانی کا خط پیش کیا جس پر ذاتی اور خفیہ کی مہر لگی تھی۔ خط میں درج تھا میرے والد جاسم کے نواز شریف کے والدمیاں محمد شریف طویل عرصے سے کاروباری تعلقات تھے جو میرے سب سے بڑے بھائی کے ذریعے چل رہے تھے۔ میاں شریف نے قطر میں الثانی خاندان کے جائداد کے کاروبار میں مخصوص سرمایہ لگانے کی خواہش ظاہر کی۔ میرے خیال میں اُس وقت کل ایک کروڑ بیس لاکھ درہم کی رقم میاں شریف نے دی جو انہیں دبئی کے کاروبار کی فروخت سے ملے تھے (16، 16 اے، 17 اور 17 اے ایون فیلڈ ہاؤس، پارک لین، لندن، ان کی ملکیت دو بیرونِ ملک کمپنیوں کے پاس تھی اور ان کمپنیوں کے بیئریر شیئر سرٹیفیکیٹ قطر میں رکھے گئے تھے، کی خاطر ادائیگی کی گئی۔ یہ جائداد کے کاروبار کی آمدنی سے خریدے گئے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اپنی زندگی میں میاں شریف نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے جائداد کے کاروبار اور ان کی آمدنی ان کی وفات کے بعد ان کے پوتے حسین نواز شریف کو ملیں۔

عدالت میں قطری خط پیش کیا گیا تو اس کی پاکستان سمیت دنیا بھر میں گونج رہی، اب امیر قطر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران بھی قطری خط کی باز گشت سنائی دی تا ہم قطری خط کے بعد اب قطری ڈیل یاد رکھی جائے گی، امیر قطر کی آمد سے ایک گھنٹہ قبل نواز شریف کی صحت کے بارے میں پریس کانفرنس اور دل کے تین دورے بتانا ،صحت پر پریشانی کا اظہار کرنا اصل میں امیر قطر کو پیغام دینا تھا کہ وہ نواز شریف کی رہائی کے لئے کردار ادا کریں کیونکہ عمران خان کسی کی نہیں مان رہے تھے.

قطری ڈیل اور شہباز شریف کی جانب سے میثاق معیشت کی پیشکش کے بعد حمزہ شہباز جو نیب کی حراست میں ہیں لیکن سپیکر پنجاب اسمبلی نے ان کے پروڈکشن‌آرڈ ر جاری کر رکھے ہیں وہ اسمبلی کے بجٹ سیشن میں شرکت کر رہے ہیں پہلے وہ میڈیا میں حکومت کے خلاف کھل کر بیانات دیتے تھے لیکن میثاق معیشت اور قطری ڈیل کے بعد حمزہ شہباز کے سکٹ گرمی میں بھی ٹھنڈے بیان آنا شروع ہو گئے، دوسری جانب حمزہ شہباز نے سپیکر قومی اسمبلی چودھری پرویز الہیٰ سے درخواست کی کہ وہ تین چار قائمہ کمیٹیوں میں انہیں شامل کر دیں تا کہ وہ پروڈکشن آرڈر کی وجہ سے زیادہ عرصہ نیب کسٹڈی یا جیل کی بجائے اسمبلی میں گزاریں.

Leave a reply