قائد ایوان سینٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سے ملائشیا کے سفیر کی ملاقات

0
20

سینیٹ میں قائد ایوان سینٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم سے ملائشیا کے سفیر کی ملاقات ۔دوطرفہ اہم امور ، علاقائی صورتحال، تجارتی و اقتصادی تعاون پر تبادلہ خیال ہوا۔پاکستان ملائشیا کے ساتھ باہمی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔دوطرفہ تعلقات تاریخی ،ثقافتی،مذہںی ، سماجی مماثلتوں میں پروئے ہوئے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اور ملائشین قیادت نے ان تاریخی تعلقات کو نیا رنگ دیا ۔

معاونت کاری سٹریٹیجک تعاون میں تبدیل ہو چکی ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان بہترین مثالی تعاون ایک دوسرے پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہو رہے ہیں۔ مسلم امہ کو درپیش مسائل پر دونوں ملکوں کا مشترکہ نقطہ نظر انتہائی اہم شمار کیا جاتا ہے۔ آٹو موبیل ، تعلیم ، صنعت اور دیگر شعبوں میں تعاون بھی انتہائی اہم ہے۔ پاکستان میں ماحول سرمایہ کاری کے لئے انتہائی سازگار ہے ۔

ہم ملائشیا کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو خوش آمدید کہیں گے ۔ دونوں ملکوں کی تاجر برادری کو مزید قریب لانے کی ضرور ہے ۔ تجارتی شعبے میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے وسیع گنجائش موجود ہے۔ عوامی سطح پر روابط کو مزید استحکام دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پارلیمانی شعبوں میں تعاون کے لئے پارلیمانی سطح پر وفود کے تبادلوں میں تیزی لانا ہوگی ۔ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کو مزید فعال بنانا ہوگا ۔

ملائشیا کی اقتصادی ترقی قابل تعریف ہےادارہ جاتی تعاون کے زریعے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ملائشیا کے سفیر نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو اہم قرار دیا۔ پاکستان خطے کا اہم ملک ہے ۔ دوطرفہ تعاون اور رابطہ کاری کی بدولت تعلقات کو مزید استحکام مل رہا ہے ۔
سفیر نے الوداعی ملاقات کی ۔ سفیر کی پاکستان ملائشیا تعلقات کے لئے کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ 1.3 ارب کی تجارت ہو رہی ہے۔
تجارتی حجم کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔

تعمیراتی، سیاحتی ، زرعی اور دیگر شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں ۔ براہ راست فضائی رابطوں سے مزید سہولت پیدا ہوگی ۔
دونوں ممالک کے درمیان  براہ راست فضائی رابطے مثبت اقدام ہے  ۔ کرونا وبا کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔پاکستان نے کرونا وبا پر قابو پانے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کی ہے ۔

پاکستان میں ویکسینیشن کی شرح بہتر ہے ۔ ملاقات میں مسلہ فلسطین پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اسرائیلی جارحیت کے باعث ہونیوالی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے ۔ عالمی قوتیں دوہرا معیار ترک کریں ۔ مسلم امہ کے مسائل مشترکہ ہیں حل بھی مل کر نکالنا ہو گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کا ویژن مشترکہ ترقی ہے ۔ ملائشیا کے سفیر کی وزیر اعظم عمران خان کے اقدامات کی تعریف ۔

 

Leave a reply