10 سالہ بچی کا ریپ، شانگلہ کے پہاڑ لرز اٹھے

پشاور: شانگلہ کی 10 سالہ بچی کے ساتھ ریپ سے پہاڑ بھی لزراٹھے ، اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ میں پولیس نے چھٹی کلاس کی طالبہ سے مبینہ ریپ کے الزام میں 2 دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا۔ شانگلہ کے علاقے لنلونی میں پیش آنے والے مذکورہ واقعہ کی ایف آئی آر درج ہونے کے بعد گرفتاری عمل میں آئی۔

ذرائع کے مطابق آلپوری پولیس اسٹیشن نے لنلوئی علاقے میں ایک گھر پر چھاپہ مار کر سلطان ولی اور رحمٰن الدین کو حراست میں لے لیا۔پولیس کے مطابق 10 سالہ متاثرہ لڑکی اپنے والد تازہ گل کے ہمراہ آلپوری پولیس اسٹیشن پہنچی اور زیر حراست مشتبہ ملزمان کے خلاف بیان دیا کہ اسکول سے گھر جاتے ہوئے ملزمان نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایف آئی آر میں درج متاثرہ لڑکی کے بیان کے مطابق ’دونوں ملزمان سلطان ولی اور رحمٰن الدین لڑکی کو پکڑ کر کھیتوں کی طرف لے گئے جہاں انہوں نے ریپ کیا‘۔متاثرہ لڑکی نے بتایا کہ ’ریپ کے بعد ملزمان نے چاقو دیکھا کر دھمکی دی اور 200 روپے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ اگر کسی کو بتایا تو قتل کردیں گے‘۔پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ آلپوری میں ضلعی ہسپتال کے ڈاکٹروں نے لڑکی کے ساتھ ریپ کی تصدیق کردی۔

ذرائع کے مطابق پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف دفعہ 376، 506، 48 اور 53 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کردیا۔یاد رہے کہ رہے کہ دو برس قبل ضلع شانگلہ میں ہی 5 سالہ بچی کو مبینہ طور پر ریپ کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا گیا تھا۔شہریوں کا کہنا ہے کہ کیا یہ ریپ کا سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا کہ جو چاہے کسی کی بیٹی ، بہن اور ماں کوجہاں چاہے روک کر زیادتی کا نشانہ بنائے اور پولیس کاروائی تو کر لے گی لیکن یہ سلسلہ کب رکے گا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.