گلوکارہ ریشماں کو مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے

0
137

معروف گلوکارہ ریشماں کو اپنے مداحوں سے بچھڑے 8 برس بیت گئے-

باغی ٹی وی : بلبل صحرا کا خطاب حاصل کرنے والی پاکستان کی مقبول لوک گلوکارہ ریشماں کی آج آٹھویں برسی منائی جارہی ہے وہ اپنے لازوال گیتوں کی بدولت آج بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں کم سنی میں ہی مختلف صوفیاءکے مزاروں پر گنگنایا کرتی تھیں۔

ریشماں 1947 میں بھارتی ریاست راجھستان میں پیداہوئیں اور ان کا تعلق ایک خانہ بدوش خاندان سے تھا ۔ تقسیم ہند کے وقت اپنے خاندان کے ساتھ کراچی منتقل ہوگئیں ۔ لعل شہباز قلندر کے مزار پر انہیں گاتے ہوئے ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر سلیم گیلانی نے سنا اوران کی آواز نے انہیں اتنا متاثر کیا کہ پھر ریڈیو پر انہیں گانے کا موقع دیاگیا ،وہ محض 12 برس کی تھیں جن ریڈیو پاکستان سے ان کی آواز کو پہلی بار گیت نشر کیاگیا ۔ اس وقت انہوں نے ”لال میری” گیت گایا جو بے انتہا مشہور ہوا اورپھر دھیرے دھیرے ریشماں مقبول فوک گلوکارہ بن گئیں شہرت حاصل کرنے کے بعدبھی ان کےرہن سہن میں وہی سادگی اور مزاج میں نرمی جھلکتی تھی ۔

ریشماں نے’ہائے او ربا نئی او لگدا دل میرا، بڑی لمبی جدائی‘ جیسے بے شمار گیت گا کر شناخت حاصل کی۔ عظیم صوفی بزرگ لال شہباز قلندر کے مزار پر ’ ہو لعل میری‘ ،’ سن چرخے دی مٹھی مٹھی کوک، ماہیا مینوں یاد آوندا‘ جیسے گیتوں نے انہیں شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا انہوں نے اردو،سندھی، سرائیکی، پنجابی، پشتو اور راجستھانی زبان کے علاوہ فارسی، ترکی اور عربی زبان میں کئی بار صوفیانہ کلام پڑھا۔

وہ پاکستان کے ساتھ بھارت میں بھی یکساں مقبول تھیں، سابق بھارتی وزیرِ اعظم اندرا گاندھی کی دعوت پر بھارت بھی گئیں 1960 کی دہائی میں پاکستان ٹیلی وژن کی بنیاد رکھی گئی تو ریشماں نے ٹی وی کے لیے بھی گانا شروع کر دیا۔ انہوں نے پاکستانی کے علاوہ بھارتی فلموں کے لیےبھی گیت گائےاوران کی آواز سرحد پار بھی سنی جانے لگی۔

بالی وڈ میں اُ ن کو راج کپور نے اپنی فلم” بوبی“کے لیے گانے کی پیشکش کی جہاں ان کے پہلے ہی گیت ”آکھیوں کو رہنے دے“ نے عالمی شہرت حاصل کی۔پھرمعروف بھارتی ہدایت کار سبھاش گھئی نے ان کی آواز اپنی ایک فلم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں ریشماں نے فلم” ہیرو” کے لیے ”لمبی جدائی” گانا گایاجو ان کی پہچان بھی بنا اور جس نے ان کی شہرت کو مزید بلندیوں تک پہنچایااور یہ گانا آج بھی سرحد کے دونوں جانب انتہائی مقبول ہے ۔

ریشماں انتہائی سادہ اور نرم مزاج طبیعت کی مالک تھیں انہیں انگریزی نہیں آتی تھی تو انہیں کسی نے مشورہ دیا کہ جب بھی کوئی انگریز بات کرے تو” یس” میں ہر جواب دے دینا۔جب ان کے پاس ایک انگریز آیا اور اس نے سوالات کیے تو انہوں نے سب سوالات کے جواب میں ”یس”کہے دیا ۔

ریشماں کے پاس موجود سفیر کی اہلیہ نے کہا کہ ریشماں ہر جواب میں یس کہی جارہی ہو تو انہوں نے کہا کہ آپ رہنے دیں میں اس لیے کہے رہی تاکہ یہ انگریز یہ نہ سمجھے کہ میں پڑھی لکھی نہیں ہوں ا ور ان کی سادگی یہ ہی خصوصیت ان کے مداحوں کی نظر میں ان کو مزید منفرد اور خوبصورت بناتی تھی ۔

حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ’ستارہ امتیاز‘ اور ’بلبلِ صحرا‘ کا خطاب عطاءکیا گیا۔ گلے کے کینسر کی تشخیص ہونے کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے علاج معالجے کے لیے انہیں بھرپور امداد فراہم کی گئی، اپنے وقت کی عظیم گلوکارہ 3 نومبر 2013ء کو طویل علالت کے بعد 66 سال کی عمر میں اس دار فانی سے رخصت ہو گئیں۔

Leave a reply