سعادت کی زندگی کس کے لیے؟ بقلم :عمر یوسف

سعادت کی زندگی کس کے لیے؟
عمر یوسف

طبیعت پر چھائی گہری کدرت اچھے احساس میں بدلنا شروع ہوئی ۔۔۔ خیالات کا جمود ٹوٹا اور سوچ کی روانی شروع ہوئی ۔۔۔ طبیعت کی اداسی ختم ہوئی اور شادانی و فرحانی آنے لگی ۔۔۔۔ مرجھائے چہرے نے اچانک کھلنا شروع کردیا جیسے بہار میں تازہ پھول باغ کو جنت نظیر بناتے ہیں اور اپنی مہک سے انسان کی طبیعت کو یوں ہلکا کرتے ہیں جیسے وہ تنکے جیسا ہو ۔۔۔۔ مزاج کا یوں ایک دم سے بدلنا مجھے حیراں کرگیا ۔۔۔۔

ہاں ہاں یہ تو خداوند بزرگ وبرتر کی بھیجی ہوئی ٹھنڈی ہوا ہے جو انسان کے مزاج پر خوب اثر انداز ہوتی ہے ۔۔۔۔

کہ جب آگ برساتا سورج انسان کو ادھ موا کردیتا ہے تو وہ مالک المک خدا اپنے بندوں پر خوب ترس کرتا ہے اور اس کی ہواوں کے لشکر اس کے بندوں کو تروتازہ کردیتے ہیں ۔۔۔۔۔ کہ جب انسان نڈھال ہوجاتا ہے اور موسم کی کیفیت کے آگے ہتھیار ڈالنے ہی والا ہوتا ہے تو اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور انسان کو اپنے سائے میں ڈھانپ لیتی ہے گرمی کی حدت ہو یا سردی کی شدت وہ خوب بدل دیتا ہے ۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ انسان پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے کہ جتنا انسان سہہ سکتا ہے ۔۔۔۔
کیا تم تھک جاتے ہو ۔۔۔۔ اکتا جاتے ہو ۔۔۔۔ بوکھلا جاتے ہو ۔۔۔ مرجھا جاتے ہو ۔۔۔۔ ہمت ہار جاتے ہو ۔۔۔۔۔؟

تو یوں کیا کرو کہ سب کچھ چھوڑ دیا کرو ۔۔۔ سر سجدے میں رکھ دیا کرو ۔۔۔ دل میں دبے لاوے کو پھٹنے دیا کرو ۔۔۔ کہ جب دل کا لاوا پھٹتا ہے تو آنکھوں کے ذریعے بہتا ہے ۔۔۔۔ تمہارے اس لاوے میں اتنا اثر ہوتا ہے کہ آسمان دنیا پر ہلچل مچا دیتا ہے ۔۔۔ خدا تمہاری طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔ جب اپنے بادشاہ کی توجہ پالو تو بے بسی کا اعتراف کرو ۔۔۔ عاجزی کو اس کے سامنے پیش کرو ۔۔۔ بندگی کا واسطہ دو ۔۔۔ خود کو عاجز پیش کرو ۔۔۔ وہ یہی چاہتا ہے ۔۔۔ وہ یہی پسند کرتا ہے ۔۔۔ کہ جب تم یہ کرلو ۔۔۔ تو اسے کہو کہ میں تیرا ہی سوالی ہو بتا مجھے تیرے علاوہ خیرات کون دے ۔۔۔ وہ تمہیں خیرات دے گا ۔۔۔۔ کہو کہ مجھے عزت چاہیے کہ تم نے وعدہ کیا ہے کہ عزت تو تیرے بندوں کے لیے ہے ۔۔۔ وہ تمہیں عزتوں سے نواز دے گا ۔۔۔ بھیک مانگو مدد کی ۔۔۔ کہ کون ہے جو اس کے علاوہ مدد کرے ۔۔۔۔

تم دل میں دہائی دو ۔۔۔ کہ اس گھٹیا دنیا کا بوجھ میرے بس میں نہیں رہا ۔۔۔ اب تو ہی ہے جو میرا بوجھ ہلکا کرے گا ۔۔۔ وہ تمہارا بوجھ ہلکا کردے گا ۔۔۔۔ کیونکہ وہ وعدے کا پکا ہے ۔۔۔ کون ہے جو اس سے بڑھ کر وعدے میں سچا ہو ۔۔۔ تم بیماری میں پکارو وہ تمہیں شفاء دے ۔۔ تنگدستی میں پکارو وہ تمہیں خوشحالی دے ۔۔۔ مشکل میں پکارو وہ آسانی لے آئے ۔۔۔۔

وہ دیکھو وہ انسان کتنا پریشان ہے ۔۔۔ کیا اسے علم نہیں کہ اس کا رب پریشانیاں دور کردیتا ہے ۔۔۔
اسے دیکھو یہ در در کی خاک چھان رہا ہے کیا اس کا رب اس کی داد رسی اور فریاد سن کر مراد پوری کرنے سے عاجز آگیا ؟۔۔۔۔

آہ کون ہے اس سے بڑا بیوقوف جو اپنے رب کی ربوبیت کو نہ پہچان سکے ۔۔۔ کتنے خسارے میں ہے وہ جو اپنے رب کی کبریائی نہ پہچان سکے ۔۔۔۔ تم دیکھو گے جن لوگوں نے اسے پہچان لیا وہ آگ سے بچ گئے ۔۔۔ سمندر ان کے لیے راستے بنانے لگے ۔۔۔ مچھلی کے پیٹ سے وہ صحیح سلامت آگئے ۔۔۔ دشمن کی ناک کے نیچے سے بچا لیے گئے ۔۔۔۔

تم دنیاوی مال و دولت کی بہتات رکھنے والے ڈھیروں غریب دیکھو گے کیونکہ وہ معیت خداوندی سے محروم کردیے گئے ۔۔۔۔
کیا کہنے ان کے مقدر کے جو ولایت ربانی ۔۔۔ معیت خداوندی سے سرشار ہوئے دنیا ان کی لونڈی بنی آخرت کی سعادت ان کی غلام ہوئی ۔۔۔۔ تم کہو کہ میرا رب وہ اللہ ہے پھر دنیا تمہارے قدموں تلے ہوجائے گی ۔۔۔ اور معززین میں بلند مقام پاو گے ۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.