ثابت ہو گیا، عمران خان گھڑی چور ہے، ثبوتوں کے ساتھ حقائق حاضر

0
67
ثابت ہو گیا، عمران خان گھڑی چور ہے، ثبوتوں کے ساتھ حقائق حاضر

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئرصحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالہ سے اہم انکشافات کئے ہیں

مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا یہ پرانا ہتھیار رہا ہے کہ جو انسان بھی ان کے خلاف کلمہ حق بلند کرتا ہے ۔ جو سیاستدان یا صحافی ان کے کرتوت عوام کے سامنے لاتا ہے یہ مختلف طریقوں سے اس کی پگڑی اچھالنا شروع کر دیتے ہیں ۔ فیصل واوڈا ہو، اکبر ایس بابر ہو یا پھر میجر خرم ان سب کا تعلق تحریک انصاف کے سیاسی قبیلے سے تھا لیکن جیسے ہی انھوں نے عوام کے سامنے سچ رکھا تحریک انصاف کے جعلی ٹائیگر ان کے پیچھے پڑ گئے ۔بالکل یہی حال انھوں نے عمر فاروق کے ساتھ کیا ۔جب عمر فاروق عمران خان اور فرح گوگی کے گھڑی چوری کی ساری داستان عوام کے سامنے لائے تو ان کے ساتھ بھی سوشل میڈیا کا یہی ہتھیار استعمال کیا گیا۔ انھیں چپ کروانے کے لیے بنی گالا میں موجود جھوٹ تیار کرنے کی فیکٹری سے بڑے بڑے جھوٹ تراشے گئے ۔ ان پر فراڈ کے الزامات لگائے گئے ۔ انھیں انٹرپورل کا کوئی وانتڈ کرمنل بنا یا گیا ۔ اور یہ سارا پروپیگنڈا عمران خان کی سربراہی میں ہوتا رہا ۔لیکن جھوٹ چاہے جتنی مہارت سے بولا جائے اس کے پاوں نہیں ہوتے ۔ اس نے بے نقاب ہونا ہی ہوتا ہے ۔اور آج میں عمران خان اور اس کے درباریوں کے عمر فاروق کے حوالے سے پھیلائے گئے ان سب جھوٹو ں کا پوسٹ مارٹم کروں گا۔ سارے ثبوت آپ کے سامنے رکھوں گا کہ کیسے تحریک انصاف نے جھوٹ پھیلانے کی سازش رچی ۔

مبشر لقمان نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے سب سے پہلے الزام لگایا کہ عمر فاروق ظہور مختلف لوگوں کے ساتھ فراڈ میں ملوث ر ہا ہے ۔ اس کے بعد الزام لگایا گیا کہ عمر فاروق ظہور انٹرپول کی فہرست میں ہے۔اور ان سب الزامات کو ثابت کرنے کے لیے ناروے کے ایک صحافی کا حوالہ دیا گیا ۔ اب میں اس صحافی کی اصلیت بے نقاب کر دیتا ہوں جو صحافت کے لبادے میں کرپشن او ر فراڈ کے کئی دھندے چلا رہا ہے ۔ اور تحریک انصاف نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اس کا انتخاب کیا۔اس صحافی کا نام Rolf J. Widroeہے ۔ جو ناروے کے ایک مقامی اخبار میں ملازمت کرتا ہے ۔صحافت کا لباس پہنے یہ فراڈیا ناروے اور پاکستان میں کئی لوگوں کے ساتھ فراڈ کر چکا ہے ناروے میں ایک ایسا شر پسند طبقہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کا کام کرتا ہے ۔ یہ صحافی بھی اسی طبقے کا حصہ ہے اور باقاعدہ پیسے لے کر یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مہم چلاتا رہا ہے ۔جب میں نے اس پر باقاعدہ تحقیق کی تو میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیونکہ یہ شخص کئی بار ناروے میں اسلامی شعار کی توہین میں بھی مبتلا رہا ہے ۔ لیکن چونکہ وہاں کے قانون کے مطابق اس کو آزادی اظہار رائے سمجھا جاتا ہے ۔ اس لیے نا تو اس کی تحقیق ہو سکی اور نا ہی اس کو کوئی سزا مل سکی ۔لیکن آپ کو سن کر حیرانی ہو گی کہ یہ جعلی صحافی ناروے میں تو بچ گیا لیکن پاکستان میں اس پر باقاعدہ فراڈ کے مقدمات ہیں ۔ اور اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی کئی بار جاری ہو چکے ہیں ۔14 جنوری 2016 کو نوابشاہ کے ایک پولیس تھانے میں ایک رپورٹ درج کرائی گئی ۔یہ رپورٹ نوابشاہ کے مقصود علی نے درج کرائی اور اس میں یہ الزام عائد کیا گیا کہ Rolf J. Wideroeنے مقصود علی کے ساتھ پہلے وعدہ کیا کہ وہ اس کو ناروے لے جانے کے سارے انتظامات کرے گا ۔اس کو پاسپورٹ فراہم کرے گا اور ناروے کی شہریت بھی کچھ ہی دن میں دلائے گا۔ شہری مقصود اس کے لالچ میں آ گیا اور اس نے اپنی ساری جمع پونجی اس صحافی کے ہاتھ میں تھما دی ۔پولیس رپورٹ کے مطابق مقصود نے Rolf Jکو ایک کروڑ روپے کی رقم دی اور رقم ملتے ہی یہ نوسربا ز ناروے فرار ہو گیا ۔پولیس نے اس فراڈیے سے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ 27 جنوری 2016 کو ڈپٹی انسپکٹر جنرل کو خط لکھا گیا اور اس کے نا قابل ضمانت ریڈ وارنٹ نکالے گئے ۔جب شہری مقصود علی جس کے ساتھ فراڈ کیا گیا )نے اس کو کال کی اور پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا تو بجائے جواب دینے کے اس دھوکے باز آدمی نے الٹا دھمکیاں دینا شروع کر دیں ۔یہ تک کہنا شروع کر دیا کہ اگر دوبارہ اسے تنگ کیا گیا تو جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے ۔

مبشرلقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان نے اس واقعہ کے متعلق مزید حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ جیسے اس کا تعلق کسی گینگ سے ہے جو پیسوں کا مطالبہ کرنے پر شہری کو جان سے مار سکتا ہے ۔اور یہ ایک کروڑ کا فراڈ صرف ایک شہری مقصود کے ساتھ نہیں کیا گیا ۔ بلکہ اس طرح کے کئی فراڈ کئی دوسرے شہریوں کےساتھ کیے گئے ۔آپ ان کے فریب کا اس بات سے اندازہ کر یں کہ یہ صحافی جس اخبار کےلیے کام کرتا ہے اس کی Readership صرف چند دنوں میں ستر فیصد تک کم ہوئی ۔یعنی یہ اخبار صرف اور صرف جھوٹی خبروں کےلیے ہی مشہور ہے اور جب اس کا پول کھلا تو ناروے کے شہریوں نے یہ اخبار خریدنا ہی چھوڑ دیا ۔یہ اخبار مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے بھی جانا جاتا ہے اور کئی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس کے خلاف رپورٹس شائع کر چکی ہیں میں اورمیری ٹیم اس پر مزید کام کر رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس صحافی سے عمر فاروق کے خلاف آرٹیکل لکھوانے میں اسی American Lobbying Firm کا ہاتھ ہو جسے تحریک انصاف ہر مہینے پچیس ہزار ڈالر ادا کرتی ہے ۔اور ریاست مدینہ کے دعوے داروں نے اپنے دشمن کو نشانہ بنانے کے لیے کس غلیظ ادارے اور بندے کا انتخاب کیا سوچ کے گھن آتی ہے۔تحریک انصاف کے رہنماوں اور ان کے کی بورڈ وارئیرزنے ایک شوشا چھوڑا کہ عمر فاروق اور ان کے خاندان پر ناروے میں کیسز ہیں ۔ یہ کیس بھی اسی صحافی نے ناروے میں کیا۔ لیکن کچھ ہی وقت میں جب اس کی تحقیقات ہوئیں تو اس کیس کا بھرکس نکل گیا ۔ نا تو عمر فاروق کو اور نا ہی ان کے خاندان میں سے کسی کو کوئی سزاہوئی ۔ بلکہ اس کیس کو پچھلے سال فروری میں ہی خارج کر دیا گیا ۔

مبشر لقمان نے مزید کہا کہ جعلی نوسرباز صحافی کی داستان کے بعد اب انٹرپول والی کہانی کا بھی بھرکس نکل چکا ہے کیونکہ انٹرپول کو درخواست بھی عمر فاروق کی سابقہ بیوی صوفیہ مرزا کی خواہش پر دی گئی ۔ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد کیسز دائر کیے گئے ۔ تمام جھوٹے کیسز بے نقاب ہونے کے بعد انٹرپول نے بھی کنفرم کر دیا ہے کہ عمر فاروق کا نام انٹرپول کی لسٹ سے نکل چکا ہے ۔یہ تھی تحریک انصاف کے پروپیگنڈے کی اصل حقیقت۔عمران خان اب تو آنکھیں کھول لو ،یہ وہی عمر فاروق ہیں جس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ فراڈ ہے ۔ اور دوسری طرف تحریک انصاف کے بڑے رہنماء ان سے ملاقاتیں کرتے رہے ۔۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کی پاکستان کے صدر عارف علوی سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ،یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے آپ کا مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر اربوں روپے مانگتا رہا ہے ۔وہ جھوٹا ۔ جس نے احتساب کے نام پر اس ساری قوم کو چونا لگایا اور اب باہر چھپ کر بیٹھا ہے اسے کہو نا پاکستان آئے اور اس پر لگے سارے الزاما ت کا جواب دے دے ۔یا میرے شو میں ہی آجائے اور ساری قوم کو اس پر لگے الزامات کا جواب دے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس سے فراڈ چوہدری ویکسین کے نام پر کمیشن مانگتا رہا ہے ۔یہ وہی عمر فاروق ہے جس کے ساتھ فیصل واوڈا کی میٹنگز ہوتی رہی ہیں اور کسی اور کے کہنے پر نہیں ہوئیں بلکہ آپ کے ہی پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے کہنے پر ہوتی رہی ہیں ۔اور اگر آپ کو ابھی بھی لگ رہا ہے کہ آپ توشہ خانہ سے گھڑیاں چوری کر کے ۔ قوم کو کروڑوں روپے کا ٹیکا لگا کر بچ جائیں گے تو یہ آپ کی بہت بڑی بھول ہے ۔اگر آپ کو یہ لگ رہا ہے کہ گھڑی بیچنے کے کوئی ثبوت نہیں ہیں تو یہ بھی آپ کی بھول ہے ۔۔ کیونکہ اس بار سارے ثبوت موجو د ہیں اور سب کے سب بہت جلد نیب میں پیش کر دیے جائیں گے ۔

عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان

عمران خان کو آرمی چیف سے کیا چاہئے؟ مبشر لقمان نے بھانڈا پھوڑ دیا

عمران خان سے ڈیل کی حقیقت سامنے آ گئی

ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو حقائق بیان کرنے سے نہیں روک سکتا

مبشر لقمان کی فیک آڈیو ٹویٹ کرنے پر ملزم شہزاد گل کیخلاف ایف آئی اے میں درخواست دے دی گئی

مبشر لقمان نے عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کی فرنت مین فرح گوگی کے حوالہ سے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فرح گوگی کیسے دبئی گئیکونسے بینک سے پیسے نکلوائے کس طرح گوگی پاکستان واپس آئی کس کے جہاز میں وہ واپس آئیسارے کے سارے ثبوت موجود ہیں اور بہت جلد یہ عوام کی عدالت میں بھی لائے جائیں گے ۔لیکن اس سب سے پہلے اگر آپ میں ذرا سا بھی اخلاقی جر ات باقی بچی ہے تو قوم کو ایک بات بتا دو۔جو ریاست مدینہ آپ بنانے نکلے تھے جس ریاست مدینہ ثانی کے خواب لوگوں کو دکھائے تھے۔اس ریاست مدینہ میں گھڑی چور کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟اس ریاست مدینہ میں عوام سے جھوٹ بولنے کی سزا کیا ہونی چاہیے ؟لوگوں کے خلاف سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پروپیگنڈا کرنے کی کیا سزا ہونی چاہیے ؟اور آپ نے ایک بات اور بھی قوم کو بتانی ہے ۔ کیونکہ آپ مغرب کو ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ آپ ا ن کی اخلاقیات سے بھی بخوبی واقف ہیں آپ نے اقوام متحدہ میں بھی اسلاموفوبیا کے خلاف آواز اٹھائی ہے تو آپ نے اس بار قوم کے سامنے اس جعلی صحافی کے اسلام کے خلاف پروپیگنڈے کو ضرور بے نقاب کرنا ہے ۔آپ نے لوگوں کو بتانا ہے کہ کس طرح ناروے کا ایک اخبار لوگوں میں مذہبی منافرت پھیلانے کا ذمہ دارہے۔اسی اخبار کے صحافی کو تحریک انصاف کا سوشل میڈیا سیل پاگلوں کی طرح وائرل کر رہا ہے اس کے صحافیوں کو ہیرو بنا کر پیش کرا رہا ہے ۔

مبشر لقمان نے آخر میں عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اور اگر آپ نے نہ بتایا تو میں تو ضرور بتاوں گا۔ بار بار بتاوں گا لوگوں کے سامنے سارے حقائق رکھوں گا اور پھر انھیں اسی طرح پوچھتا رہوں گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون دنیا کا سب سے ایماندار لیڈر ہے ۔کیونکہ ،مجھے ہے حکم اذاں لا الہ اللہ

Leave a reply