fbpx

سماجی مسائل اور ان کے سدباب تحریر : ماہ رخ اعظم

‏سماجی مسائل اور ان کے سدباب

مسئلہ، دراصل منفی اثرات ،افراد کے رویوں ، رکاوٹوں اور انحراف کی ایسی صورت ہے جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہوتی ہے.معاشرتی مسئلہ۔ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرہ کی اعلی اقتدار کے زوال کا آئینہدار ہوتا ہے اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سدھر سکتی ہے. سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو. سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں.پاکستان ایک فلاحی مملکت کے طور پر قائم کیا گیا تھا. فلاحی مملکت سے مراد ایسی ریاست ہوتی ہے جس میں شہروں کو ہر طرح کی سہولیات میسر ہوں. جہالت ، غربت اور نا انصافی کا خاتمہ ہو.نیز لوگ اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے مساوی مواقع حاصل کرسکیں. ہمارے ہاں بہت سے معاشرتی مسائل موجود ہیں، جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں.سب سے ضروری چیز جو کسی قوم کے لیے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے وہ اس کی اخلاقی حالت ہے قول وفعل کے تضاد ، جھوٹ ، دھوکادہی اور مکروفریب ایسے اخلاقی رذائل ہیں جن کی موجودگی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی سے بہرور ہو، کتنے ہی ذمینی وسائل سے مالامال ہواور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو، ترقی سے ہم کنار نہیں ہو سکتی. معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں. دنیا کی بہترین کپاس پیدا کرنے والی قوم اگر اسے برآمد کرتےہوئے اس میں پھتر چھپاکر برآمد کرے گی تو یہ عمدہ کپاس آیندہ کاروبار ختم کرنے کی ہدایت کے ساتھ واپس اپنی بندرگاہ پر پہنچ جائے گی.ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کیسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دستگاہ رکھتے ہیں سری لنکا، کوریا، اور ملائیشیا جیسے ممالک اپنے شعبہ تعلیم کے لیے قومی پیداوار کا پانچ سے سات فیصد تک خرچ کررہے ہیں جبکہ ہم صرف تقریبا دو فیصد خرچ کررہے ہیں علم کرنے کے بعد ہی لوگ اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہوسکتے ییں نیز اپنے مسائل اور خرابیوں کے حل کی تدبیر کرسکتے ہیں

جذبہ قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے لیے ہم پاکستان حاصل کیا تھا ہم انھیں آج تک نہیں پاسکے ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا فرقہ بندی صوبائی عصبیت ملک و قوم کو پس پست ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کرسکتے تھے اسے آج تخریب میں بروئے کار لارہے ہیں.غربت بھی ہمارا ہمارا نہایت اہم سماجی مسئلہ ہے. پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہےاس لحاظ سے اس کی معیشت بھی ترقی پذیر ہے اپنی ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان اپنے قیام کے آغاز سے ہی پس ماندہ حالت میں تھا.پاکستان کی ابتدائی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل اقتصادی ناہمواری تھی کیونکہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل پاکستان کے علاقہ میں ہندو ہی زراعت، تجارت، کاروباری اداروں اور بنکوں وغیرہ پر قابض تھے. تقسیم ہند کے وقت ہندو اپنا تمام سرمایہ سمیٹ کر ہندوستان لے گئے.جس سے پاکستان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور معیشت کمزور تر ہوتی چلی گئی.آج ہماری پستی کا سب سے بڑا سبب اپنے آباواجداد کے سنہری اصولوں سے انحراف ہے. اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پیرا ہونے میں ہی تمام سماجی برائیوں کا علاج مضمر ہےاگر ہم اپنی کھوئی ہوئی قوتوں کو مجتمح کرلیں اور فراموش کردہ اسباق کو ازسر نو ذہین نشین کرلیں تو کوئی شک نہیں کہ ہم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کر سکتے ہیں.

بقول اقبال
یقین، افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے

ازقلم : ماہ رخ اعظم
‎@_MahrukhAzam