fbpx

سرد موسم میں پیپلز پارٹی نے لاہور میں سیاسی موسم گرما دیا

سرد موسم میں پیپلز پارٹی نے لاہور میں سیاسی موسم گرما دیا

پنجاب کے مختلف شہروں سے گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے رہنماؤں نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی-

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق 80 سے زئد ناظمین اور نائب ناظمین،کونسلرز نے پیپیلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی شامل ہونے والے تمام ارکان نے لاہور میں راجہ پرویز اشرف، ناصر حسین ،شاہ حسن مرتضٰی کی موجودگی میں شمولیت کا اعلان کیا-

پیپلزپارٹی سندھ کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے :پی ٹی آئی رہنما علی زیدی

رپورٹ کے مطابق پی پی پی میں شمولیت اختیار کرنے والے تمام نئے ارکان آج دوپہر کو چئیرمین بلاول بھٹو کے ظہرانے میں شرکت کریں گے سکھر سے تعلق رکھنے والے پی پی پی کے ممتاز رہنما ناصر شاہ نے کہا بلاول بھٹو جمہوریت کو رواں دواں دیکھنا چاہتے ہیں-

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری لاہور میں ہیں اور انہوں نے لاہور کے سرد موسم میں سیاٰسی محاذ گرم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، پنجاب کے تمام اضلاع سے بڑی تعداد میں سیاسی عمائدین پی پی میں شمولیت اختیار کریں گے، بلاول پنجاب میں پی پی کو منظم و متحرک کرنا چاہتے ہیں اسی لئے انہوں نے پنجاب میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں

پنجاب میں پیپلز پارٹی کو متحرک کرنے کے لئے پی پی رہنما سید ناصر حسین شاہ کے بیٹے پیش پیش ہیں انہوں نے رہنماوں وعمائدئن سے ملاقاتیں کی ہیں،پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ پی پی پی نے بڑے پیمانے پر پنجاب کی تنظیم نو شروع کردی ہے اور آج مختلف چیئرمین اور دیگر بلدیاتی سیاست دانوں کی شمولیت ثابت کرتی ہے کہ وہ پارٹی اور اس کے منشور پر یقین رکھتے ہیں۔

بلاول ہاوس لاہور میں گزشتہ روز پی پی کی سی ای سی میٹنگ چئیرمین بلاول زرداری کی سربراہی میں منعقد ہوئی
جس میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ،سد نئیر حسین بخاری نوابزادہ افتخار احمد خان انفارمیشن سیکرٹری وسیب ،حسن مرتضی سید جنرل سیکرٹری وسطی پنجاب سمیت دیگر رہنماوں نے شرکت کی۔ حسن مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ ہم چئیرمین بلاول بھٹو کے ویژن کے مطابق آگے بڑھیں گے٬ ہر اس گلی محلے میں جائیں گے جہاں کبھی شہید بی بی اور ذوالفقار علی بھٹو شہید گئے٬ ہر اس گھر میں جائیں گے جس کی چھت پر کبھی پیپلزپارٹی کا جھنڈا لگا ہو٬

سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اجلاس میں حکومت مخالف تحریک،مہنگائی سمیت ملکی سیاست سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ،سی ای سی کے اجلاس میں حکومت مخالف تحریک،مہنگائی سمیت ملکی سیاست سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جبکہ تحریک کا آئندہ لائحہ عمل اور خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں عوامی نیشنل پارٹی سے اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی غور ہوا۔ اجلاس میں ملکی معیشت اور تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔اجلاس میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اور پی پی پی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور بھی موجود تھیں ، اجلاس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش پر کیک کاٹا گیا

قبل ازیں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی یونائیٹڈ بزنس گروپ کے وفد سے ملاقات ہوئی ہے، چیئرمین بلاول بھٹوزرداری نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات کےلئے یونائیٹڈ بزنس گروپ کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا

واضح رہے کہ اس سے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پیپلزپارٹی فعال ہوچکی ہے، تیار رہیں پنجاب میں اگلی حکومت پیپلزپارٹی کی ہوگی، حسن مرتضٰی نے تنبیہ کی تھی کہ ن لیگ زبان کا استعمال درست کرے ورنہ اصغر خان کیس سے جوابی وار کا آغاز ہو گا۔

پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش، بلاول بھٹو سمیت معروف…

لاہور میں پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے حلقہ این اے ایک سو تینتیس کی عوام کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا تھا کہ نتائج سے ثابت ہوگیا کہ پیپلزپارٹی کے جیالے اب بیدار ہوچکے ہیں آئندہ حکومت پیپلز پارٹی کی ہی ہوگی۔

رہنما پیپلزپارٹی سید حسن مرتضٰی نے ن لیگ کو پیپلزپارٹی کیخلاف پروپیگنڈا کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے جوابی کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی،اس موقع پر پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر این اے 133 میں حصہ لینے والے اسلم گل نے کہا تھا کہ قیادت سے لے کر کارکن تک ہر جیالے نے پارٹی الیکشن نے حصہ لیا جلد ہی نچلے سطح پر پارٹی کو مضبوط کر لیا جائے گا-

ماضی میں سڑکیں عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ پیسہ بنانے کیلئے بنائی جاتی تھیں،وزیر…

جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ ہماری جماعت پنجاب میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر ے گی-

پی ٹی آئی اسکروٹنی رپورٹ پر شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کا رد عمل