fbpx

سردیوں میں "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے

انسان سبز پتوں والی سبزیاں اور ساگ دونوں کا ساتھ بہت پرانا ہے غذائی اہمیت کے لحاظ سے ان کی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد ان ہی سا گوں اور سبزیوں پر قائم ہے قدرت ان ہی کے زریعے زندگی کی تعمیر کے لئے ایسے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے جو اچھی صحت کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں ساگ میں جسم کو نشونما دینے والے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً وٹامن اے ، بی، ای اور پروٹین وغیرہ اس کے علاوہ ساگ میں کیلشئیم کلورین سوڈیم فاسفورس فولاد بھی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ،بچوں کی نشونما اور پرورش میں بھی ساگ بہت مفید ہے اگر بچپن سے ہی بچوں کو ساگ اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ عادت انہیں زندگی بھر بہت سی مشکلات اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے

سردیوں کے موسم میں اگرچہ بہت سے پکوان سامنے آتے ہیں تا ہم "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے، ساگ پنجاب میں زیادہ پکایا جاتا ہے ، پنجاب میں دیہاتوں میں ساگ کے ساتھ لسی، دیسی گھی اور مکئی یا باجرے کی روٹی کھائی جاتی ہے،ساگ پکانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، ساگ توڑنا، یا پھر بازار سے لانا، اسے کاٹنا ، اور پھر پکانا اور پکنے میں کافی دیر،یوں بھوک بھی شدید اور ساگ بھی گرما گرم تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے

ساگ پکانے کے لئے سب سے پہلے ساگ کو چھری کی مدد سے باریک باریک کاٹیں اور پھر اسکو اچھی طرح دھوئیں کیونکہ ساگ میں مٹی یا ریت ہو سکتی ہے، ساگ کو دھو کر اسے صاف پانی میں پتیلے میں ڈال کر آگ پر رکھ دی، سبز مرچ بھی ڈال دیں اور تب تک پکائیں جب تک گل نہ جائے، جب ساگ گل جائے تو دوسرے برتن میں گھی ڈالیں اور مصالحہ بنا لیں، مصالحے میں سبز پیاز، لہسن، ادرک اور حسب ذائقہ نمک کا استعمال کریں، مصالحہ بن جائے تو اس میں ساگ ڈال دیں ، اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور اگلے ہی چند لمحوں میں ملے گا گرم گرم …ساگ…