سعودی عرب ،سزائیں کم کرنیوالے ججوں کو سزائے موت کا سامنا

0
37
mbs

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے عدالتوں کو بھی اپنے تابع بنانے اور مرضی کے فیصلے کروانے کے لئے ججز کے خلاف بھی کاروائی شروع کر دی ہے، خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والے افراد کی سزا میں کمی یا نرمی برتنے پر سعودی عرب میں دس ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان پر غداری کے مقدمے درج کئے گئے ہیں، ان ججوں کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالے افراد کی سزاؤں کو کم کیا،اور نرمی برتی

جن ججوں کو سزائے موت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ان میں سے ایک عبداللہ بن خالد ال لوحیدان ہیں ، انہوں نے خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنیوالی خاتون لوجین کی سزا کم کر دی تھی،لوجین جب عبداللہ بن خالد کی عدالت میں کیس لے کر گئیں تو اسکے دو ماہ بعد ہی اسکو رہا کر دیا گیا، سعودی قوانین کے مطابق لوجین پر جو جرم تھا اسکی سزا چھ سال قید تھی تا ہم عدالت نے اسکے ساتھ نرمی برتی اور صرف دو سال دس ماہ کی قید کے بعد جج عبداللہ بن خالد نے اسکی سزا ختم کر دی جس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا تھا،سعودی حکام نے لوجین کو مئی 2018 میں گرفتار کیا تھا، اسکے اہلخانہ نے اس دوران دعویٰ کیا تھا کہ جیل میں اس پر نہ صرف تشدد کیا گیا بلکہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی بھی دھمکیاں دی گئی تھیں،

مشرق وسطیٰ میں اصلاحات کے لیے مہم چلانے والی ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ان ججوں کی جگہ سخت گیر وفاداروں کو جج تعینات کر رہے ہیں جو سیاسی کارکنوں اور سوشل میڈیا صارفین کے متعدد مقدمات کا جائزہ لے رہے ہیں۔نئے تعینات ہونے والے ججوں نے سوشل میڈیا کے استعمال پر دو سعودی خواتین پر ڈرامائی طور پر سزائیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔

نورہ القحطانی، جو پانچ بچوں کی ماں تھیں، نے ملک کے رہنماؤں کو ‘چیلنج’ کرنے کے لیے ٹویٹر استعمال کیا، اس کی سزا 13 سے بڑھا کر 45 سال کر دی گئی ہے، اسی طرح باقی خواتین کی سزائیں بھی نئے ججوں نے بڑھا دی ہیں، جن ججوں پر سنگین غداری کا الزام لگایا گیا ہے، ان میں سے چھ کا تعلق خصوصی فوجداری عدالت سے ہے، جو ‘دہشت گردی’ کے مقدمات چلانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، اور چارکا ہائی کورٹ سپریم کورٹ سے ہے

ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ کا دعویٰ ہے کہ اپریل 2022 میں ججوں کی گرفتاری کے بعد سے ان سے رابطہ نہیں کیا گیا تھا۔ عبداللہ الاؤد کا کہنا ہے کہ ججوں پر مقدمے، اور پھر وہ بھی غداری کے،یہ ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ان ججوں کے خلاف کارروائی ولی عہد کی جانب سے عدلیہ کو مکمل طور پر ان کی خواہشات کے تابع بنانے کی کوششوں کی علامت ہے۔ کوئی چیز سعودی شہری کے زندگی اور آزادی کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کرتی، ان ججوں کے خلاف مقدمہ چلا کر،محمد بن سلمان ملک کے ہر جج کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ انہیں اپنے متاثرین کی قسمت سے بچنے کے لیے ہر ممکن حد تک سفاک ہونا چاہیے۔

گزشتہ سال سعودی عرب کی جانب سے سزائے موت پانے والے افراد کی تعداد کم از کم 138 تھی جو کہ 2020 اور 2021 کی مجموعی تعداد سے زیادہ ہے۔

سعودی سفیر اچانک وزیر خارجہ کو ملنے پہنچ گئے

بڑی تبدیلی، سعودی عرب میں کس کو سفیر مقرر کر دیا گیا؟

پاکستان سے انتہائی اہم شخصیت سعودی عرب پہنچ گئی

سعودی عرب کے دو ایئر پورٹس پر ڈرون حملے،فضائی آپریشن معطل

جمال خاشقجی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کیلیے ہر ممکن کوشش کرینگے،منگیتر کا عدالت میں بیان

امریکی صدر جوبائیڈن نے دیا محمد بن سلمان کو بڑا جھٹکا

Leave a reply