باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سعودی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت ملنے کے بعد تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کا مسافر طیارہ متحدہ عرب امارات میں لینڈ کر گیا ہے۔
اسرائیلی پرواز صہیونی اور امریکی حکام کو لے کر متحدہ عرب امارات پہنچی ہے۔ یواے اے پہنچنے والے وفد میں امریکی صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں۔ یہ موقع دونوں ملکوں کے درمیان رواں ماہ ہونے والے امن معاہدے کے بعد دیکھنے کو ملا ہے۔ اس پرواز کو ’ایل وائی 971‘ کا نام دیا گیا ہے
اسرائیلی ایئرلائن ’ال آل‘ کی پرواز دارالحکومت تل ابیب سے تین گھنٹے کا فضائی سفر طے کرکے متحدہ عرب امارات پہنچی۔ اس پرواز کو یو اے ای کا سفر کرنے کیلئے خصوصی طور پر سعودی عرب کی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
متحدہ عرب امارات تیسرا عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے۔ اس سے پہلے مصر اور اردن اسے تسلیم کر چکے ہیں۔ دونوں ملکوں نے 1978ء اور 1994ء میں اسرائیل کیساتھ امن معاہدے کئے تھے۔
לראשונה בהיסטוריה: טיסה מסחרית ישראלית לאיחוד האמירויות. ככה נראה שלום תמורת שלום🇮🇱✈️🇦🇪
בוקר טוב ישראל! pic.twitter.com/8To00kzHTf
— Benjamin Netanyahu – בנימין נתניהו (@netanyahu) August 31, 2020
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے اسرائیل کا معاشی بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امارات کی انفرادی شخصیات اور کمپنیوں کو اسرائیلی اداروں کے ساتھ معاہدے کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔
اسرائیل کےستمبر کے وسط تک متحدہ عرب امارات سے معاہدے پر دستخط ہوجائیں گے ،اسرائیلی وزیرکا دعویٰ
متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دو دن بعد ہی گورنر پنجاب کا دورہ دبئی
خطے میں قیام امن کیلئے اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے مابین ڈیل ہو گئی
پاک اسرائیل تعلقات ، فوائد و نقصانات کا ایک تاریخی جائزہ از طہ منیب
متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین معاہدے پر ترکی بھی میدان میں آ گیا
اس کے بعد اسرائيلی وزيراعظم بينجمن نيتن ياہو نے دعویٰ کیا تھا کہ سفارتی تعلقات کیلئے مزید کئی عرب رياستوں کے ساتھ خفيہ مذاکرات جاری ہيں۔ ترکی نے امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات پر شدید رعمل دیا تھا۔ ترک وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ علاقے کے عوام اس معاملے کو ضمیر کی خیانت تصور کرتے ہیں اور اس اقدام کو کبھی نہیں بخشیں گے۔