fbpx

سیلاب سے اموات،نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

سیلاب سے اموات،نقصانات ہی نقصانات،مگر سیاستدان آپس کی لڑائیوں میں مصروف، مبشر لقمان پھٹ پڑے

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے پاکستان میں سیلاب سے ہونی والی تباہ کاریوں، امدادی کاموں ،موجودہ سیاسی حالات کے حوالہ سے ٹویٹس کی ہیں

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر مبشر لقمان کہتے ہیں کہ پاکستان میں سیلاب آتے رہتے ہیں ،سیلاب کی وجہ سے بڑی تعداد میں اموات ہوتی ہیں جہاں انسان مرتے ہیں وہیں مال مویشی کی بھی موت ہوتی ہے،سیلاب سے کھیت تباہ ہو جاتے ہیں، فصلیں برباد ہو جاتی ہیں، جب بھی سیلاب آئے تو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے ،کتنے شرم کی بات ہے کہ ہم نقصان برداشت کر لیتے ہیں ، جانیں گنوا دیتے ہیں لیکن بڑے ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہو سکتے

ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان نے سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کاموں کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان ہی کام کر رہے ہیں، ریسکیو و ریلیف آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، ہر علاقے میں پاک فوج کے جوان نظر آئیں گے جو متاثرین کی مدد کر رہے ہوں گے، ہمارے تمام سولین محکمے اور وزارتیں کچھ بھی نہیں کر رہیں، سوال یہ ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں عوام کی خدمت کرنے میں ہمارے دیگر محکمے کیوں ناکام ہو چکے ہیں؟ اگر انہیں کام نہیں کرنا تو پھر ان پر کروڑوں کے بجٹ کیوں خرچ ہوتے ہیں،

ایک اور ٹویٹ میں مبشر لقمان کہتے ہیں کہ سیلاب میں لوگ مر رہے ہیں لیکن ہمارے ملک کے سیاستدانوں کو کوئی فکر ،پرواہ نہیں، سب اپنی سیاست کر رہے ہیں، سیاسی بیانات دے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہیں، مجھے خدشہ ہے کہ مشکل وقت میں عوام کے ساتھ جو رویہ سیاستدانوں کا نظر آ رہا ہے اس رویے سے عوام جلد ہی انکے خلاف ہو جائیں گے ،

سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

پاک فوج کی ٹیمیں ریلیف آپریشن میں انتظامیہ کی بھرپورمدد کر رہی ہیں،وزیراعلیٰ

وزیراعظم فلڈ ریلیف اکاؤنٹ 2022 میں عطیات جمع کرانے کی تفصیلات

واضح رہے کہ پاکستان میں شدید بارشوں اور سیلابی ریلوں کے باعث تباہ کاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ جون کے وسط سے جاری مون سون بارشوں کے سلسلے کے نتیجے میں 9000 سے زائد گھر تباہ، 700 سے زائد افراد ہلاک اور تقریباﹰ 1300 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ صرف سندھ میں بارش اور سیلاب سے 300 اموات ہوئیں