سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبینٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس، الیکٹرک پاور ترمیمی بل2019 و دیگر کا جائزہ

ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ سیکرٹریٹ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹرمحمد طلحہ محمود کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سید شبلی فراز کے ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن الیکٹرک پاور ترمیمی بل2019، پمز ہسپتال کے کارڈک سینٹر کے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کے معاہدے میں توسیع، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کے ملازمین کی تعداد، تعلیمی قابلیت، ڈیپوٹیشن اور کنٹریکٹ ملازمین کی تفصیلا ت کے معاملات کا جائزہ لیا گیا،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ نیپرا اتھارٹی ایک چیئرمین اور چار ممبران پر مشتمل ہوتی ہے، کچھ ایسے افراد بھی اتھارٹی کے ممبران بن جاتے ہیں جن کا متعلقہ شعبے سے کوئی تجربہ نہیں ہوتا، یہ بل اس لئے متعارف کرایا گیا ہے کہ چیئرمین اور ممبران کی نامزدگی وفاقی حکومت کرے اور ممبران کا تجربہ 12 سال سے کم کر کے 10 کیا جائے اور ممبران متعلقہ شعبے میں خاصا تجربہ اور ڈگری رکھتے ہوں، اتھارٹی میں فنانس، ٹیکنکل، قانون اور ایڈمن کے متعلقہ ممبران ہونے چاہیں۔صرف صوبائی نمائندگی طریقہ کار نہ ہو، تعلیمی قابلیت کو معیار رکھا جانا چاہیے عمر کی حد کم ازکم45 سال ہو، رکن کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ تعلیمی قابلیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے مگر صوبوں کی نمائندگی ضرور ہونی چاہیے ورنہ ایک ہی صوبے سے چاروں ممبران منتخب ہو سکتے ہیں، ترمیمی بل بہت اچھا ہے صوبوں کو نکالنے سے اتھارٹی بھی ختم ہو جاتی ہے،

سینیٹر روبینہ خالد اور سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے بھی سینیٹر جاویدعباسی کی رائے سے اتفاق کیا جس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر محمد طلحہ محمود نے کہا کہ وزارت قانون کی طرف سے تحریری طور پر اس بل کے حوالے سے رائے فراہم نہیں کی گئی، اراکین کمیٹی کی رائے کے تناظر میں وزارت قانون کے حکام ترمیمی بل کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں رپورٹ فراہم کریں۔سینیٹر سید شبلی فراز نے کہا کہ بہت سے اداروں میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ چیئرمین و ممبران ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اور کئی کئی ماہ وہ اسامی پر نہیں کی جاتی۔ کسی چیئرمین یا ممبر کی تقرری کے حوالے سے تقرری کا عمل پہلے شروع کر دینا چاہیے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین کی ریٹا ئر منٹ سے چھ ماہ پہلے نئے چیئرمین کی تقرری کیلئے اشتہار دیا جائے اوراگر پہلا چیئرمین کولیفائی کر رہا ہے تو دوبارہ تقرر ہو سکتا ہے۔اوگرا کا بھی صوبوں سے زیادہ تعلق ہے ا ور اس میں قابلیت شرط رکھی گئی ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اس ترمیمی بل کی لینگوئج کو لیگل کرنے کی ضرورت ہے۔

سیکرٹری وزارت صحت اللہ بخش ملک کی کمیٹی کو پمز کارڈیک سینٹر کے ملازمین کے کنڑیکٹ میں توسیع و مستقل کرنے کے حوالے سے تفصیلی آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کارڈیک سینٹر کے ڈاکٹرز کو ریگولر کرنے کی حمائت کرتے ہیں۔ ان ڈاکٹرز کا خاصہ تجربہ ہے۔بارہ سالہ تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر کو فریش ڈاکٹرز کے ساتھ ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے۔کارڈیک سینٹر کے سٹاف کے معاہدے میں توسیع کرنے کے حوالے سے وزارت قانون کوخط بھیجا جا چکا ہے۔قائمہ کمیٹی نے ڈاکٹرز کی 31دسمبرتک کنٹریکٹ میں توسیع اور تنخواہیں دینے کی سفارش کر دی۔صدر پی ایم ڈی سی نے قائمہ کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پی ایم ڈی سی میں کل 223ملازمین اس وقت کام کر رہے ہیں جس میں سے 36افسران ہیں۔ریگولر 196،کنٹریکٹ 18،دس لوگ ڈیلی ویجز ملازمین کام کررہے ہیں۔ اس وقت صرف ایک افسر ڈیپوٹیشن پر ہے۔ایچ آر کمیٹی نے رجسٹرار کی تقرری کیلئے 57 افراد میں سے انٹرویو کے بعد 21 افراد کو شارٹ لسٹ کیا اورمزید شارٹ لسٹ کر کے کونسل کے سامنے پانچ افراد کے نام بھیجے جس میں سے ایک بندہ منتخب ہوا۔انہوں نے کہا کہ سابق رجسٹرار کے خلاف تقریباًسات کیسز ایف آئی اے پاس ہے ان کو او ایس ڈی کردیا گیااوراس وقت وہ پانچ لاکھ تنخواہ لے رہا ہے۔

انہوں نے قائمہ کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ پی ایم ڈی سی کے ملازمین کو فارغ نہیں کیا جا رہاہے۔ہیلتھ الاؤنسز کے حوالے سے آڈٹ پیرا لگا ہوا ہے اوراس حوالے سے وزارت قانون کولیٹر لکھ دیا ہے۔ سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ پی ایم ڈی سی میں سترہ گریڈ کی خاتون ڈیڑھ سال سے رجسٹرارکے عہدے پر گریڈ21 پر کام کررہی تھی۔قائمہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سے فائل چوری ہونے اورآڈٹ پیرا رپورٹ کے متعلق رپورٹ طلب کر لی۔قائمہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کوکسی ملازم کوفارغ نہ کرنے کی سفارش کر دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایم سیکرٹریٹ سے کونسل کے4 ممبران کو فارغ کیا گیا اور تین نئے ممبران کی تقرری ہو چکی ہے۔جس پر چیئر مین کمیٹی نے کہا کہ بھرتیوں میں پیپرا رولز پر عمل درآمد یقینی بنائی جائے اورمیرٹ پر کام کرنے سے ملک و قوم کا فائدہ ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایف پی ایس سی پرچوں میں ہیر پھیر سے متعلق ایک کیس ایف آئی اے کو ریفر کیا گیا تھا آئندہ اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے کمیٹی کو تفصیلات سے آگاہ کریں۔قائمہ کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کے حوالے سے 2013 کی آڈٹ اعتراضات رپورٹ بھی طلب کر لی۔قائمہ کمیٹی کے آج کے اجلاس میں قائد ایوان سینیٹ سینیٹر سید شبلی فراز، سینیٹرز نجمہ حمید، محمد جاوید عباسی، محمد طاہر بزنجو، روبینہ خالد، نصیب اللہ بازئی، ڈاکٹر اشوک کمار، سیمی ایذی کے علاوہ سیکرٹری صحت، سیکرٹری اسٹبلشمنٹ ڈویژن، ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز، صدر پی ایم ڈی سی، ممبر نیپرا و دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
محمد اویس

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.