یوم ولادت، شہلا شہناز، معروف شاعر، ادیبہ

0
40
shanaz

میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

شہلا شہناز

اصل نام : شہناز
قلمی نام : شہلا شہناز
تاریخ پیدائش:07 اپریل 1976ء
جائےپیدائش: فیصل آباد
رہائش : گوجرانوالہ
تعلیم: ماسٹرز
پیشہ : لیکچرار شپ
ادب سے تعلق: بہت گہرا
مشاغل : کتاب پڑھنا اور کری ایشنز
پسندیدہ شاعر، ادیب: اقبال، پروین شاکر، مجید امجد
پسندیدہ کتب:خوشبو۔ اور بھی بہت ہیں
ادبی خدمات: کچھ پیپرز اور میگزینز میں
کبھی کبھار لکھ لیتی ہوں آرٹیکلز
پیغام :ادب سیکھیں اور سکھائیں

غزل
۔۔۔۔۔۔
آنکھ میں عکسِ خوش امکان بھی لا سکتی ہوں
میں ترے عشق پہ ایمان بھی لا سکتی ہوں
پھول اور پیڑ بہت میرا کہا مانتے ہیں
میں بیاباں میں گلستان بھی لا سکتی ہوں
تم عداوت کا بیابان جہاں دیکھتے ہو
میں وہاں پیار کا ارمان بھی لا سکتی ہوں
جس جگہ مسندِ ہر سود پہ تم بیٹھے ہو
میں وہاں کرسی نقصان بھی لا سکتی ہوں
اے خلش مجھ کو تڑپنے کا کوئی شوق نہیں
ورنہ جب چاہوں نمکدان بھی لا سکتی ہوں
میں محبت میں کفایت نہیں کرنے والی
خرچ کرنے کو دل و جان بھی لا سکتی ہوں

نمونۂ کلام
۔۔۔۔۔۔
میں رنگ کو نہیں خوشبو کو پھول جانتی ہوں
کہا تھا زخم سے تتلی نے مسکراتے ہوئے

اس بار سمندر نے بلایا نہیں مجھ کو
اس بار کسی دشت کی دعوت ہے مرے پاس

کانچ کی چڑیا کس طرح اڑتی
کشش چشمِ کوہسار میں تھی

تم مرے ان دنوں کے ساتھی ہو
جب میں بت جھڑ کے اعتبار میں تھی

حرف کو پھول بنانے کا ہنر ہے مرے پاس
تجھ کو لکھنے کے لیے رنگ دگر ہے مرے پاس

ادھر گھمائیے اپنی ڈری ڈری آنکھیں
حضور دشت کی جانب ذرہ ہرن کرئیے

گلاب کی طرح مہکا چکے ہیں آپ مجھے
جنابِ خار ذرا ٹھیک سے چبھن کرئیے

وہ مجھ سے مجھ کو مانگتا رہتا ہے رات دن
پر اس کی التماس میں طاقت تو ہے نہیں

Leave a reply