fbpx

شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ

پاکستان کے کم عمر ترین کوہ پیماء شہروز کاشف اور فضل علی نانگا پربت سے واپسی پر لاپتہ ہوگئے۔

باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دونوں کوہ پیماؤں سے کیمپ کا رابطہ منقطع ہوگیا جس کے بعد وزیراعلیٰ گلگت بلتستان عبدالخالد نے ریسکیو آپریشن کا حکم دے دیا ہے، دونوں کوہ پیماؤں نے صبح 8 بجکر 15 منٹ پر نانگا پربت کو سر کیا تھا۔

شہروز کاشف نے دنیا کی چوتھی بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کر لی

شہروز کاشف کے والد نے لاپتہ ہونے کی تصدیق کردی، شہروز کاشف کا نانگا پربت سے واپسی پر رابطہ منقطع ہوا کوہ پیما شہروز کاشف کے والد کےمطابق نانگا پربت سے واپسی پر بیٹے سے ٹریکر کے ذریعے 7350 فٹ بلندی تک رابطہ تھا،اس کے بعد شہروز نے ایس او ایس کال بھی کی اس کال کے بعد شہروز اور ان کے ساتھی کوہ پیما سے کوئی رابطہ نہیں ہوا-

شاہین شاہ آفریدی خیبرپختونخوا پولیس کے اعزازی خیرسگالی سفیر مقرر

ان کے والد کے مطابق واپسی کے سفر کے دوران وہ کیمپ فور سے ذرا آگے راستہ بھول جانے کے سبب پھنس گئے ہیں، شہروز کاشف کے والد نے اپنے بیٹے کو ریسکیو کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف سے مدد کی اپیل کی ہے۔

ویڈیو پیغام میں ان کے والد نے مزید کہا کہ شہروز نے کنچن جنگا دنیا کی تیسری بلند ترین چوٹی سر کرنے کے بعد یہ کامیابی فوج کے شہدا کے نام کی تھی۔ وہ صرف 20 سال کی عمر میں اتنے بڑے بڑے کارنامے سر کر کے پاکستان کا نام روشن کر چکا ہے، آپ لوگ پلیز اسے ریسکیو کرنے کا آپریشن کریں۔

واضح رہے کہ شہروز کاشف نے منگل کی صبح نانگا پربت چوٹی سر کی تھی جس کے بعد وہ اور ان کا ساتھی کوہ پیما واپس آرہے تھے شہروز کاشف نے کم عمری میں نانگا پربت سر کرنے کا ریکارڈ بنایا تھا شہروز 8000 میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں سے آٹھ کو سر کر چکے ہیں اور ان کے والد کے مطابق اب شہروز کا مشن باقی چوٹیوں کو ڈیڑھ سال کے اندر اندر سر کرنا ہے۔

وہ واحد پاکستانی کوہ پیما ہیں جنھوں نے صرف 23 دنوں میں 8000 میٹر کی تین چوٹیوں پانچ مئی 2022 کو دنیا کی تیسری بلند ترین کنچن جنگا (8586 میٹر)، 16 مئی 2022 کو چوتھی بلند ترین لوتسے (8516) اور پانچویں بلند ترین مکالو (8463) کو سر کیا ہے۔

اس سے قبل شہروز نے دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر)، ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

اسی سال مئی میں شہروز دنیا کی پانچ بلند ترین چوٹیوں کو 23 دنوں کے اندر سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے تھے دنیا کی پہلی اور دوسری بلند ترین چوٹیوں ماؤنٹ ایورسٹ اور کے ٹو سر کرنے کے بعد شہروز نے تیسری، چوتھی اور پانچویں بلند ترین چوٹیاں سر کرنے والے اس مشن کو ’پروجیکٹ 345‘ کا نام دیا تھا۔