fbpx

کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا

نئی دہلی :بھارت:کہیں دلت اورکہیں بے بس مسلمان:بھارتی مظالم کا شکار،ہرطرف خوف کی فضا ،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست کرناٹکا کے گائوں اراسیناکیرے میں اونچی ذات کے ہندوئوں نے حملہ کر کے پانچ دلت نوجوانوں کو زخمی کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق دلت نوجوانوں نے میسور کی جیا پورہ پولیس پردرج کرائی گئی اپنی شکایت میں کہا ہے کہ انہیں گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے ۔

مقامی لوگوں نے پولیس کو بتایا ہے کہ دلت نوجوان پانی پوری کھانے کیلئے گائوں میں اونچی ذات کے ہندوئوں کے علاقے میں گئے تھے جس پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ 13جنوری کو پیش آنے والے اس واقعے میں زخمی ہونے والے دلت نوجوانوں میسور کے کے آر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث چار افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ہندو انتہاپسند تنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے ایک مسلمان شخص کوجو ٹرین پر ایک شادی شدہ ہندوخاتون کے ساتھ سفر کر رہا تھاتشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کر گھنٹوں تک اجین ریلوے اسٹیشن پر روکے رکھا۔

بجرنگ دل کے کارکنوں نے مدھیہ پردیش کے اجین ریلے اسٹیشن پر مسلمان شخص پر لوجہاد کا الزام لگاتے ہوئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور زبردستی ٹرین سے اتار کرریلوے پولیس کے حوالے کر دیا۔ بعدازاں دونوں کے اہلخانہ نے پولیس کے سامنے تصدیق کی وہ دونوں فیملی فرینڈز ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں جس کے بعد انہیں پولیس نے جانے دیا۔

اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں اپنی شناخت بجرنگ دل کے کارکنوں کے طور پر کرانے والے تین افراد نے آصف شیخ کو ٹرین سے گھسیٹتے ہوئے اتارااور وہ اسے زبردستی پولیس اسٹیشن لے گئے جبکہ مذکورہ ہندو خاتون بھی ان کے پیچھے پیچھے چلتی ہوئی نظر آرہی ہے ۔

پولیس اسٹیشن کے اندر ریکارڈ کی گئی ایک اور ویڈیو میں ہندو خاتون بجرنگ دل کے کارکنوں پر چیختے ہوئے نظر آ رہی ہے۔خاتون چیختے ہوئے کہتی ہے کہ ”تمہاری ایک غلط فہمی میری زندگی خراب کر سکتی ہے، میں بالغ ہوں اور ایک اسکول میں پڑھاتی ہوں”۔ ریلوے پولیس کے مطابق یہ واقعہ 14جنوری کو پیش آیا تھا ۔