fbpx

سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ

 

کولمبو:سری لنکن صدرکومودی نے فرار ہونے میں‌ مدد دی:حالات بدستورکشیدہ ،اطلاعات کے مطابق مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے صدر گوٹابایہ راجا پاکسے بدھ کو علی الصبح مالدیپ کے ویلانا بین الاقوامی ہوائی اڈے پہنچ گئے ہیں۔ادھر اس حوالے سے سری لنکا کی فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے بدھ کی علی الصبح صدر گوتابایا راجا پاکسے اور ان کے اہل خانہ کے لئے طیارہ فراہم کیا، جس میں سوار ہو کر وہ ملک چھوڑ کر مالدیپ پہنچے۔

 

 

 

ڈیلی مرر کے مطابق انہیں یہ فلائٹ سروس موجودہ حکومت کی درخواست پر سری لنکا کے آئین میں قائم مقام صدر کو حاصل اختیارات کے مطابق وزارت دفاع کی مکمل منظوری کے ساتھ بندرانائیکے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے امیگریشن، کسٹمز اور دیگر تمام قوانین کے تحت دی گئی۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق ان کا فوجی طیارہ دیر رات تین بجے (مقامی وقت کے مطابق) مالدیپ کے دارالحکومت مالے پہنچا۔ گوتابایا راجا پاکسے پارلیمنٹ کے اسپیکر کو پہلے ہی یہ بتا چکے تھے کہ وہ بدھ کو صدارتی عہدے سے استعفیٰ دے دیں گے۔

واضح رہے کہ اس سال سری لنکا ایک سنگین معاشی بحران سے دوچار ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں مظاہروں کا طویل سلسلہ رہا ہے جو آخر میں حکومت کے خاتمے پر منتج ہوا۔سری لنکا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر مہندا یاپا ابے وردھنے نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے ذریعے نئے صدر کا انتخاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ادھر سری لنکا میں صدر گوتابایا راجا پکشے کے ملک سے فرار ہونے کے بعد دارالحکومت کولمبو میں ایک بار پھر زبردست احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔ گوٹابایا نے بدھ کو استعفیٰ دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ استعفیٰ دیے بغیر ہی ملک سے فرار ہو گئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین گوٹابایا کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں اور ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ اطلاعات بھی ہیں کہ گوٹا بایا کے مقرر کردہ وزیر اعظم رانیل وکرماسنگھے گوٹا بایا کی جگہ قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں لیکن مظاہرین اس کی بھی مخالفت کر رہے ہیں۔

ہزاروں مظاہرین نے وزیر اعظم وکرما سنگھے کی نجی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا جسے 9 جولائی کو مظاہرین نے پہلے ہی نذر آتش کر دیا تھا۔ تاہم، وکرما سنگھےپہلے ہی پیشکش کر چکے ہیں کہ اگر آل پارٹی حکومت بنتی ہے تو وہ عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ لیکن مشتعل مظاہرین کوئی دلیل ماننے کو تیار نہیں۔

 مظاہرین نے پارلیمنٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی لیکن مظاہرین کی سیکورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین کو قابو کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور واٹر کینن کا استعمال کیا جا رہا ہے لیکن مظاہرین پر اس کا کوئی اثر ہوتا نظر نہیں آ رہا۔

 

 

گوٹابایا کی جانب سے راجا پکشے کے ملک سے فرار کے حوالے سے یہ خبریں تقویت پکڑرہی ہیں  کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے سری لنکن صدر کوفرار کروانے میں مدد فراہم کی ہے ، دوسری طرف سری لنکن عوام کی طرف سے ان اطلاعات پرسخت ردعمل کے بعد بھارت نے اپنی جان چھڑانے کےلیے ایک تردیدی بیان دیا ہے کہ ہندوستان نے سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکشے کی سری لنکا سے حالیہ روانگی میں سہولت فراہم کی۔ بتادیں کہ ہندوستانی سفارت خانے نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔

اس طرح کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کولمبو میں ہندوستانی سفارت خانے نے دو ٹویٹس کیں۔ ایک میں انہوں نے کہا کہ وہ سری لنکا کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا، ’’ہم عوام کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ جمہوری ذرائع اور اقدار، قائم کردہ جمہوری اداروں اور آئینی ڈھانچے کے ذریعے خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنی خواہشات کو پورا کرنا چاہتے ہیں۔