سری نگر ایئرپورٹ پر بھارتی طیارے کیا کر رہے ہیں؟ وزیر خارجہ نے پول کھول دیا

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی طرف سے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھا گیا ہے جس میں انہیں‌ مقبوضہ جموں و کشمیر کی تشویشناک صورتحال اور خطے میں امن امان کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا ہے،

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خط میں انہیں سری نگر ائیرپورٹ پر بھارت کے خصوصی طیاروں کی نقل و حرکت اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں اضافی دستوں کی آمد سے آگاہ کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر ہندوستان کی طرف سے فائرنگ اور گولہ باری میں اضافہ ہو گیا ہے جو کہ نہ صرف 2003 کے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے لائن آف کنٹرول پر بسنے والے معصوم شہریوں کی شہادتیں ہو رہی ہیں اور املاک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اگر اس صورتحال کا سدباب نہ کیا گیا تو امن و امان کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں،

خط میں کہا گیا ہے کہ ہیومن رائٹس کمشنر آفس (OHCHR) نے گزشتہ ماہ جاری ہونے والی دوسری رپورٹ میں ، مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کیا ہے -جس میں نہتے کشمیریوں کی زیر حراست ہلاکتوں، بچوں سمیت نہتے لوگوں پر پیلٹ گن کے بے دریغ استعمال ، (جس کے نتیجے میں کئ افراد بصارت سے محروم ہوئے)، ریپ ، جبرآ اغوا جیسے اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کی زمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہیومن رائٹس کمشنر آفس کیطرف سے جاری کی گئی اس غیر جانبدارانہ رپورٹ میں آشکار کی گئ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لے،

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں سے سات لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی کے باوجود ، مزید دس ہزار سے زیادہ فورس بھجوائے جانے کی اطلاعات تشویشناک ہیں، میں آپ کی توجہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 38 کی جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں جس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان اور بھارت دونوں کو پابند کیا تھا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال میں کسی بھی بڑی ممکنہ تبدیلی کی صورت میں سلامتی کونسل کو آگاہ کریں گے، پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم اور بھارت کے مبینہ عزائم نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس صورتحال سے پورے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.