تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا
0
92

تعلیمی ترقی ضامن معاشی ترقی

ازقلم غنی محمود قصوری

ایک بہترین معاشرے کی تکمیل بغیر بہترین تعلیمی نظام کے بغیر ناممکن ہے ہم الحمدللہ مسلمان ہیں اور جتنا زور اسلام میں تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق کرنے پہ دیا گیا ہے اتنا کسی اور مذہب میں نہیں

نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو وہ بھی ان الفاظ سے تھی

اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ1 خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ2 اِقْرَاْ وَرَبُّكَ الْاَكْرَمُ3 الَّذِيْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ4 عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ5 (العلق)

(اے پیغمبر) پڑھ اپنے رب کے نام سے ( آغاز کرتے ہوئے) پڑھ جس نے (ہر چیز کو) پیدا فرمایا جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی ،پڑھ اور تمہارا رب بڑا کریم ہے جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا،انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا

آپ دنیا میں نظر دوڑائیں تو آپکو وہی قوم ترقی یافتہ ملے گی جس کا تعلیمی نظام اچھا ہے وگرنہ بغیر تعلیمی ترقی کے قومیں ترقی پذیر ہی رہی ہیں جب تعلیمی نظام اچھا ہو گا تو صحت مند معاشرہ تکمیل پائے گا اوردیگر شعبہ زندگی میں خدمات سرانجام دینے والے لوگ باعمل اور محنتی ہونگے

اس وقت دنیا بھر کے تمام ممالک میں سے خواندگی کے لحاظ سے برطانیہ پہلے امریکہ دوسرے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اس وقت 79 ویں نمبر پہ ہے

پاکستان میں شرع خواندگی 62 فیصد ہے جو کہ انتہائی کم درجہ پہ ہے مذید ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے جی ڈی پی کا محض 1.7 فیصد تعلیم پہ خرچ کرتے ہیں جو کہ بہت ہی کم تر ہے

پاکستان میں اس وقت خواندگی کی شرح 62.8 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جس میں مردوں کی شرح 73.4 فیصد جبکہ خواتین کی 51.9 فیصد ہے
ہمارے ہاں سکول نہ جانے والے بچے 32 فیصد ہیں جن میں لڑکوں کے مقابلے لڑکیاں زیادہ تعداد میں تعلیم سے محروم ہیں جو کہ سب سے بڑا المیہ ہے
جبکہ سکول نا جانے والے بچوں کی شرح بلوچستان میں 47 فیصد ،سندھ میں 44 فیصد، خیبرپختونخوا میں 32 فیصد اور پنجاب میں 24 فیصد ہے
ہمارے ہاں جہاں غربت و مہنگائی،بیروزگاری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ ہیں وہیں ہمارا پرانا فرسودہ نظام تعلیم بھی ہے
ہمارے ہاں کلاس اول کا بچہ صبح اٹھتے ہی سپارہ پڑھنے پھر 8 بجے سکول اور سکول سے واپس آتے ہی ٹیوشن میں مگن رہتا ہے جسے کھیلنے کودنے کا موقع بلکل نہیں ملتا اور اسے اپنی جسمانی و دماغی صحت کو اچھا کرنے کا موقع نہیں ملتا جس کے باعث بیشتر بچے بیمار رہتے ہیں اور تعلیم سے بھاگتے ہیں
ہونا تو یہ چائیے کہ بطور مسلمان ملک جسطرح سکول و کالجز میں بچوں کی پڑھائی لازم ہے ایسے ہی صبح فجر کے بعد بچے کو مسجد میں ایک مستند قاری قرآن سے سپارہ پڑھنے کیساتھ نماز پڑھنے کا بھی پابند کیا جائے اور پھر سکول وقت میں اسی بچے کو لازمی طور پہ کم سے کم 30 سے 45 منٹ تک جسمانی کھیل کود کا موقع دیا جائے تاکہ اس کی جسمانی و دماغی صحت اچھی رہے اور وہ تعلیم کو تفریح سمجھ کر حاصل کرے
مگر افسوس کہ ہمارے ہاں سب الٹ سسٹم چل رہا ہے بچوں کو رٹا لگوا لگوا کر پڑھایا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اتنے نمبر لازمی لینے ہیں چاہے جو مرضی کرو

ہم ساری زندگی میٹرک تک بچوں کو وہ مضامین پڑھاتے ہیں کہ میٹرک کرنے کے بعد جن سے ہمارا پوری زندگی واسطہ ہی نہیں پڑتا
جیسے کہ ریاضی کی جمع تفریق نفی کے علاوہ جو کچھ سکھلایا جاتا ہے میرا نہیں خیال کے زیادہ تر وہ ہماری زندگی کا حصہ بنا ہو
مطلب بےمقصد پڑھائی پہ ہم اپنا سارا ٹائم لگا دیتے ہیں

پاکستان میں تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کی خاطر میٹرک تک یکساں تعلیمی نظام ہونا چائیے جس میں میٹرک تک تعلیم کا سارا خرچ گورنمنٹ برداشت کرے
جنرل سائنس ( آرٹسٹ) گروپ ختم کرکے میٹرک تک سائنس لازمی قرار دی جائے جس میں بچے کو اول کلاس سے میٹرک تک دین اسلام کیساتھ اپنی صحت بارے زیادہ سے زیادہ تعلیم دی جائے
کلاس اول سے میٹرک تک کے نصاب میں فرسٹ ایڈ،تیراکی،نشانہ بازی،سیلف ڈیفنس،زراعت،الیکٹرک و آٹو مکینک جیسے مضامین شامل کئے جائیں تاکہ ایک بچہ اپنے بچپن سے نوجوانی تک میٹرک کا طالب علم پہنچتے ہوئے اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے استعمال کی ہر چیز کی ابتدائی مہارت رکھتا ہو
اس کے بعد اگر اس بچے کا دل آگے پڑھنے کو کرے تو اس کو اپنی مرضی کا شعبہ چننے کا مکمل اختیار دیا جائے بلکہ ماہر نفیسات سے اس کا سیشن کروا کر اس کا ذہن پڑھ کر اسے اس کے پسندیدہ شعبے میں تعلیم کا پورا موقع دیا جائے کیونکہ ہمارے ہاں بچہ ڈاکٹر بننا چاہتا ہے تو باپ اسے وکیل بنانا چاہتا ہے مگر ماں اسے پائلٹ بننے کا عندیہ دیتی ہے تو اس ساری صورتحال اور ماں باپ کی خواہشات میں وہ بچہ ذہنی کشیدگی کا شکار ہو کر تعلیم سے دور ہو جاتا ہے بجائے کچھ بننے کے وہ اس معاشرے پہ بوجھ بن جاتا ہے
ہمارے ہاں سب سے بڑی خرابی بچوں کو سکولوں میں سہولیات نا دینا ہے جیسے کہ گرمی میں بچے بغیر پنکھے کے پڑھتی ہیں اور سردی میں سرد ہوا کا مقابلہ کرتے ان کا ذہن پڑھائی کی بجائے موسم سے زور آزمائی میں ہوتا ہے اگر سکولوں میں زیادہ چھٹیوں کی بجائے موسم کے مطابق سہولیات جیسے اے سی و پنکھے وغیرہ دی جائیں تو بچے پڑھائی میں زیادہ توجہ دیں گے
ہمارے ہاں اشرافیہ کیلئے آئے روز نئی سے نئی ٹیکنالوجی بیرون ممالک سے لا کر دی جاتی ہے حتی کہ ایک آفیسر کیلئے اس کی چھتری پکڑنے والا الگ ملازم دیا جاتا ہے مگر سکولوں میں سہولیات نہیں جس کے باعث اس پرانے فرسودہ نظام تعلیم سے کافی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکل رہا
اگر ملک کو شاہراہِ ترقی پہ ڈالنا ہے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو اپ گریڈ کرنا ہو گا

Leave a reply