سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید

جسٹس شوکت عزیز برطرفی کیس کا فیصلہ محفوظ، ضرورت پڑی تو دوبارہ سماعت کریں گے، چیف جسٹس
0
218
Supreme Court

سپریم کورٹ،سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی کے خلاف اپیل پر سماعت ہوئی

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے کیس کی سماعت کی،لارجر بینچ میں جسٹس امین الدین، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت شامل ہیں،خواجہ حارث روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ آپ کس کی نمائندگی کر رہے ہیں؟ خواجہ حارث نے کہا کہ میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید اور عرفان رامے کا وکیل ہوں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے وکیل سے استفسارکیا کہ آپ نے کوئی جواب جمع کروایا ہے؟ کیا آپ نے اپنے اوپر لگے الزامات مانے ہیں ہیں مسترد کئے ہیں؟ وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے سابق رجسٹرار کو بھی نوٹس جاری کیا تھا،

وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ میں سابق چیف جسٹس انوار کانسی کی نمائندگی کروں گا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے شوکت صدیقی کے وکیل حامد خان سے استفسارکیا کہ خان صاحب اب اس کیس کو کیسے چلائیں ؟ حامد خان نے کہا کہ میرا کیس واضح ہے کہ جوڈیشل کونسل کو انکوائری کرنی چاہیے، جوڈیشل کونسل کی کاروائی کے دوران ہمیں ہمارے گواہان پیش کرنے کی اجازت دی جائے،فیض حمید الزامات کی تردید کر رہے ہیں، یہی ہمارا کیس ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو پہلے انکوائری کروانا چاہئے تھی، انکوائری میں ہمیں فیض حمید پر جرح کا موقع ملتا، چیف جسٹس نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ کیا انکوائری کی گئی تھی؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جب شوکت صدیقی نے تقریر تسلیم کر لی تھی تو انکوائری نہیں کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اٹارنی جنرل کہہ چکے حقائق کی انکوائری نہیں ہوئی،

کیل حامد خان کی شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کیس حل کیا ہے ؟ حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دیں ، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کالعدم کر دیں تو پھر بغیر انکوائری یہ سمجھا جائے گا آپ کے الزامات درست ہیں ،حامد خان نے کہا کہ پھر آپ سپریم جوڈیشل کونسل کو ریمانڈ بیک کر دیں ، وکیل حامد خان نے شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانے کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر کیس واپس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنے کی استدعا کر دی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اس کیس میں عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی ساکھ کا معاملہ ہے، ہم ایک سکے کو ہوا میں پھینک کر فیصلہ نہیں کر سکتے ۔اگر شوکت صدیقی کے الزامات سچے نہیں تو کیا ہوگا؟شوکت صدیقی جو کہہ رہے ہیں مخالف فریق اسے جھٹلا رہے ہیں،کون سچا ہے کون نہیں یہ پتا لگانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟انکوائری میں اگر ثابت ہو آپ کے الزامات درست ہیں کیا پھر بھی عہدے ہٹایا جا سکتا ہے؟ہمیں مسئلے کا حل بھی ساتھ ساتھ بتایا جائے،اگر انکوائری کے بعد الزامات غلط ثابت ہوتے ہیں تو کیا جج کو ہٹانے کا فیصلہ برقرار رہے گا،جن پر الزامات لگایا گیا ہم نے انکو فریق بنانے کا کہا،اب سچ کی کھوج کون لگائے گا؟ہم مسئلے کا حل ڈھونڈ رہے ہیں، دوسری طرف سے یہ بات ہو سکتی ہے کہ الزامات کو پرکھا ہی نہیں گیا،

مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،چیف جسٹس
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم آگے کیسے بڑھیں دونوں فریقین میں سے کوئی سچ سامنے نہیں لارہا،پوری قوم کی نظریں ہم پر ہیں ،یہاں آئینی اداروں کی تکریم کا سوال ہے،ان حالات میں سوال یہ ہے کہ ہم کیا حکمنامہ جاری کریں،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اگر الزامات درست بھی ہیں تو کیا شوکت عزیز صدیقی کا بطور جج طریقہ کار مناسب تھا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر بھی دو طرح کی ہوتی ہیں،جج پر تقریر کرنے پر پابندی نہیں ہے، ایسا ہوتا تو بار میں تقاریر پر کئی ججز فارغ ہوجاتے،مسئلہ شوکت عزیز صدیقی کی تقریر میں اٹھائے گئے نکات کا ہے،برطانیہ میں ججز انٹرویو بھی دیتے ہیں، امریکہ میں سپریم کورٹ ججز مباحثوں میں بھی حصہ لیتے ہیں،کیا عدالت خود اس معاملے کی تحقیقات کر سکتی ہے؟بلاوجہ الزام لگانا کسی حکومت کے ماتحت ادارے پر بھی اچھی بات نہیں، جس پر الزام لگایا گیا میں اسے ادارہ نہیں بلکہ حکومت کے ماتحت ادارہ کہوں گا،

شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ چیف جسٹس
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس آئینی طور پر ریمانڈ ہوسکتا ہے؟ خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو کیس واپس نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی ریٹائر ہوچکے، بطور جج بحال نہیں ہوسکتے،سپریم جوڈیشل کونسل اب شوکت عزیز صدیقی کا معاملہ نہیں دیکھ سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم ہوئی تو الزامات درست تصور ہونگے، خواجہ حارث نے کہا کہ فیض حمید پر تقریر میں کوئی الزام لگایا گیا نہ سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے، جوڈیشل کونسل نے کہا عزیز صدیقی نے عدلیہ کو بے توقیر کیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدلیہ کی بے توقیری کا معاملہ کہاں سے آ گیا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو پبلک میں جا کر تقریر نہیں کرنی چاہیے تھی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی پر ضابطہ اخلاق کی کس شق کی خلاف ورزی کا الزام لگا؟ خواجہ حارث نے کہا کہ جج کو عوامی اور سیاسی تنازع میں نہیں پڑنا چاہیے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے شہرت حاصل کرنے کیلئے تو تقریر نہیں کی ہوگی،

تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں،چیف جسٹس
وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ پوری انکوائری کالعدم قرار دیکر معاملہ دوبارہ کونسل کو بھیجا جائے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ ایسا کر سکتی ہے، وکیل شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ کونسل نے مکمل انکوائری ہی نہیں کی، وکیل فیض حمید نے کہا کہ معاملہ دوبارہ کونسل کو نہیں بھیجا جا سکتا، شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج مدت بھی ختم ہو چکی، جو الزامات لگائے گئے وہ باتیں نہ کونسل کے جوابات میں کہی گئیں نہ ہی تقریر میں آئیں، شوکت عزیز صدیقی کی اپنی تقریر ہی کافی ہے کہ انھوں نے مس کنڈکٹ کا مظاہرہ کیا،تقریر میں عدلیہ کی تضحیک کی گئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تقریر کر کے کیسے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کی، متعلقہ شق دکھائیں، آپ ججز کا کوڈ آف کنڈکٹ پڑھ لیں،

عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے،اٹارنی جنرل
اٹارنی جنرل منصور عثمان چیف جسٹس کے طلب کرنے پر کمرہ عدالت پہنچ گئے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کارروائی چیلنج نہیں ہوسکتی،اگر عدالت جوڈیشل کونسل کی سفارش کالعدم قرار دے تو شوکت صدیقی ریٹایرڈ جج تصور ہونگے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی نے سنگین الزامات عائد کیے ہیں، اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کو تسلیم نہیں کیا گیا،سوال یہی ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کی اپیل منظور ہوجائے تو نتائج کیا ہونگے؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جج کیخلاف ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ پہلے شکایت آئے اور بغیر انکوائری برطرفی کی سفارش ہو تو کیا ہوگا؟کیا جج کے پاس اپنی صفائی دینے کیلئے کوئی فورم نہیں ہوگا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس نکتے کو طے کرنے کی ضرورت ہے کہ جوڈیشل کونسل جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کیس سن سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ تمام فریقین تسلیم کر رہے ہیں مکمل انکوائری نہیں ہوئی،جب کسی جج کیخلاف کارروائی ہوتی ہے تو پوچھا جاتا ہے اسکا شفاف ٹرائل کا حق کہاں جائے گا، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کسی بغیر تحقیقات کیے کسی کو ہوا میں اڑا دیں،اٹارنی جنرل نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کو بغیر انکوائری ہٹانا طے شدہ قانونی تقاضوں کے منافی ہے،

جسٹس ر انور کاسی کے وکیل وسیم سجاد روسٹرم پر آگئے،اور کہا کہ سپریم کورٹ کو کیس ریمانڈ بیک کرنے سے آئین نہیں روکتا، عدالت مکمل انصاف کے دائرہ اختیار میں بھی جا سکتی ہے، حامد خان نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس تھا جہاں جج کو انکوائری کے بغیر ہٹایا گیا، ایک تفصیلی فیصلہ آنا چاہئے جج کو ہٹانے سے پہلے انکوائری کیوں ضروری ہے، 1956 اور 1962 کے آئین میں صدارتی ریفرنس کے بغیر جج کو ہٹایا نہیں جا سکتا تھا،1973 کے آئین میں بھی پہلے یہی شرط تھی ،2005 میں پہلی بار آئین میں صدارتی ریفرنس کے علاوہ طریقہ کار متعارف کرایاگیا،

جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شوکت صدیقی کیس میں سپریم کورٹ نے خود نوٹس لیا،کیا جب کونسل ازخود کارروائی کرے تو بھی انکوائری کرنا ہو گی؟ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کونسل نے خود کیسے کارروائی کا آغاز کیا ہمیں رجسٹرار آفس کا نوٹ دکھائیں،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ سیکرٹری کونسل کیسے ہو سکتا ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کونسل نے ہی سیکرٹری کونسل کو کہا ہو، کونسل میں کتنی مرتبہ کیس لگا،حامد خان نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ کیس لگا جس میں شوکت صدیقی کو بلایا گیا تھا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ جب ایک جج کی تقریر واضح ہے اور موجود ہے کیا پھر بھی انکوائری کی ضرورت ہے،شوکت عزیز صدیقی پر کرپشن کے الزامات بھی ہیں،وکیل حامد خان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے کیس میں انکوائری لازم ہے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ شوکت صدیقی کیخلاف شکایت کس نے کی یا رجسٹرار نے خود سب کچھ کونسل کو بھیجا،رجسٹرار کس حیثیت میں جج کے خلاف کونسل کو نوٹ لکھ سکتا ہے؟

وکیل حامد خان نے کہا کہ جب شوکت صدیقی کے الزامات آئے تو جسٹس ر انور کاسی کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری تھی،شوکت صدیقی کے الزامات مسترد کرنے پر انور کانسی کو بری کر دیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حامد خان صاحب ہم سپریم جوڈیشل کونسل پر ایسے انگلیاں نہیں اٹھائیں گے،

سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،چیف جسٹس
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل پر واچ ڈاگ نہیں ہے،ہمیں آئین سازوں کے بنائے بیلنس کو برقرار رکھنا ہو گا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ آپ کیخلاف ریفرنس کی بنیاد تقریر ہے، آپ اس تقریر کے متن سے انکار نہیں کر رہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایک مضبوط آئینی باڈی ہے، آپ کہہ رہے تھے انکوائری کمیشن بنا دیں لیکن جوڈیشل کونسل کی موجودگی میں کمیشن بنانے کی کیا ضرورت ہے؟آرٹیکل 210 پڑھیں تو سپریم جوڈیشل کے پاس وسیع آئینی اختیارات ہیں،ہر آئینی باڈی یا ادارے کے پاس آزادانہ فیصلے کا حق ہے، سپریم کورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی آئینی ادارے کی نگران نہیں ہے، سپریم کورٹ صرف آئینی خلاف ورزی کی صورت میں حرکت میں آ سکتی ہے،موجودہ کیس میں بہت محتاط چلنا ہو گا کہ کہیں اداروں کے درمیان قائم آئینی توازن خراب نا ہو، شوکت صدیقی کیس کا فیصلہ بھی 50 سالوں تک عدالتی نظیر کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے،

جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ ریکارڈ دیکھیں تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی کہ شوکت صدیقی کو موقع نہیں دیا گیا، دو ماہ سے زیادہ کارروائی چلی ، ان کے جوابات کا جائزہ بھی لیا گیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ پر الزام یہ نہیں تھا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں یا غلط،آپ پر الزام تھا کہ پبلک میں عدلیہ کو بدنام کیا، آپ نے اس تقریر سے انکار تو نہیں کیا تھا،

کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟ چیف جسٹس
سندھ بار کے وکیل صلاح الدین ویڈیو لنک پر پیش ہوئے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آپ کہتے ہیں شوکت صدیقی کے الزامات پر الگ سے انکوائری ہوسکتی ہے، اگر الزامات غلط ثابت ہوئے تو نتیجہ کیا ہوگا؟ کیا سپریم جوڈیشل کونسل کا کالعدم شدہ فیصلہ بحال ہو جائے گا؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ الزامات غلط ثابت ہوئے تو شوکت صدیقی کیخلاف فوجداری کارروائی ہوسکتی ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے بغیر سابق جج کیخلاف فوجداری کارروائی کیسے ممکن ہے؟بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہججز قانون سے بالاتر نہیں ہوتے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ عدالت کوئی بھی انکوائری کمیشن کیسے قائم کر سکتی ہے؟ کیا ججز کی قسمت کا فیصلہ ایس ایچ او کے ہاتھ میں دے دیں؟مجھے تو یہ دلیل سمجھ نہیں آ رہی، کچھ آگے بڑھنے والی بات کریں، مناسب ہوگا اپنے نکات تحریری طور پر دیں،

کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟ چیف جسٹس
جسٹس عرفان سعادت خان نےکہا کہ کیا شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب نہیں ہوئے؟ اس نکتے پر عدالت کی کوئی معاونت نہیں کی گئی، یہ تو سب کہ رہے ہیں کہ انکوائری نہیں ہوئی، بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ اگر تقریر حقائق کے خلاف تھی تو شوکت صدیقی مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا دائرہ اختیار محدود ہے، اگر عدالت چاہے تو کمیشن بنا کر شوکت صدیقی کے الزامات کی انکوائری کر سکتی ہے، سپریم کورٹ آرٹیکل 184 تین کے تحت معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کیا ہم گواہان کے بیانات اور ان پر جرح کریں؟ صلاح الدین نے کہا کہ ہائیکورٹ بھی آرٹیکل 199 کے تحت یہ اختیار استعمال کرتی ہے تو سپریم کورٹ بھی کر سکتی ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے بیرسٹر صلاح الدین سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی رائے یا احساسات نہیں قانونی معاونت درکار ہے، آپ نے 184 تھری کی درخواست دائر کی تو صرف جج کی پنشن بحالی کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل ریٹائرڈ جج کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ صرف ایک نکتے کا جائزہ لے رہے ہیں کہ انکوائری کیوں نہیں ہوئی تھی، ہم پرانے کورس کو درست کر رہے ہیں،اگر آپ ایک جج کی ذاتی حثیت میں پنشن بحالی چاہتے ہیں تو پھر آپ کی 184 تھری کی درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ کی درخواست سے مفاد عامہ کا کیا معاملہ طے ہو گا؟کیا ایک جج کے پنشن بحالی سے عدلیہ کی آزادی بحال ہو جائے گی؟

ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،چیف جسٹس
حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ اصول طے کر چکی ہے کہ جج کو مکمل انکوائری کا موقع ملنا چاہئے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آرٹیکل 10اے شفاف ٹرائل کی بات کرتا ہے، کسی نائب قاصد کو بھی ہٹانے کیلئے پورا طریقہ کار طے شدہ ہے، ہم بنیادی انسانی حقوق کو نظر انداز نہیں کر سکتے،انکوائری کو نظر انداز کرکے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی، سپریم کورٹ کو ایک لائن کھینچنی ہے، سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل کے درمیان فرق کی لکیر کھینچی ہے،اداروں کی تضحیک کا سوال ہے، سوال یہ ہے کہ جج نے جو کہا سچ ہے یا سچ نہیں ہے، ملاقاتوں کی نفی کی گئی ہے،ہم ہوا میں طے نہیں کر سکتے، ہوا میں طے نہیں کر سکتے کون سچ کہہ رہا ہے کون سچ نہیں کہہ رہا،ایک جج کو ہٹانا اتنا ہی آسان ہے تو یہ عدلیہ کی آزادی کیلئے خطرے کا سبب ہے،عوام کو سچ جاننے کا مکمل حق ہے، یہ عوامی معاملہ ہے، کیا ہم کونسل کو بھیج سکتے ہیں یا نہیں سوال یہ بھی اہم ہے، ہم فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں، اگر ضرورت سمجھی تو کیس دوبارہ سماعت کیلئے مقرر بھی کر سکتے ہیں،

تین سال بیت گئے،ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزرچکی اب تو کیس سن لیں،

سوچ بھی نہیں سکتا کہ بنچ کا کوئی رکن جانبدار ہے،سابق جج شوکت عزیز صدیقی

سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری

 فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر

 فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا 

،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں

فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں

 نجف حمید کے گھر چوری کی واردات

قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ

جسٹس شوکت صدیقی ملکی تاریخ کے دوسرے جج ہیں جن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی کی گئی ہے  اس سے قبل 1973 میں لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی کو بدعنوانی کے الزامات ثابت ہونے پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

اکتوبر 2018 میں سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارش پر صدر مملکت کی منظوری کے بعد وزارت قانون نے متنازع خطاب پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے 21 جولائی 2018 کو راولپنڈی بار میں خطاب کے دوران حساس اداروں پر عدالتی کام میں مداخلت کا الزام عائد کیا تھا

Comments are closed.