آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، شاہ محمود قریشی

0
60

تحریک عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لئے اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف اوربلاول بھٹو آصف زرادری سمیت تمام عیاسی رہنما پارلیمنٹ میں موجود ہیں-

باغی ٹی وی :سپریم کورٹ کی طرف سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیئے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیرصدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا ہے-

اجلاس کے شروع میں تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ کی والدہ کی مغفرت کے لیے دعا کرائی گئی-

بعد ازاں اپوزشین لیڈر شہباز شریف نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمان نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے اور آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ہم سب اور پوری قوم اللہ تعالیٰ کے ہاں سربسجود ہے، اس کے لیے قوم پوری متحدہ اپوزیشن کی قیادت سلام پیش کرتی ہے جن کی جدوجہد کے نتیجے میں آج قوم کو یہ دن دیکھنا نصیب ہوا پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا نظریہ ضرورت کا سہارا لیاگیا،عدالت نے اس کو دفن کردیا سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی کام کو کالعدم قرار دیا،آج پارلیمان سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے-

شہباز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر اسپیکر یہ کارروائی چلائیں،آج آپ آئین اورقانون کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر کھڑے رہیں،آج پارلیمانی نئی تاریخ رقم کرنے جارہا ہے، آئینی و قانونی طریقے سے سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہا ہے، آج آئین و قانون و عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے لیے کھڑے ہوجائیں،

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا چاہتا ہوں جو ماضی میں ہوا خدارا آج آپ اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں نام لکھوا لیں ہمارے سینوں میں بھی پاکستانی دل دھڑکتا ہے-

شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے کہا کہ اگر آپ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، آپ سپریم کورٹ کے حکم کی عدولی کر رہے ہیں –

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ گزارش کرتا ہوں سپریم کورٹ کا جو حکم ہے اس کے تابع آج ہاؤس کی کارروائی چلائیں، وہ ہوا،شہباز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا پیرا بھی پڑھ کر سنایا-

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کروں گا بیرونی سازش پر بھی آج ایوان میں بات ہونی چاہیئے-

حکومت کی جانب سے سابق وزیر خارجہ شاہ مھحمود قریشی نے کہا کہ تحریک سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی تسلیم کرتاہوں تحریک عدم اعتماد کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے آئین میں تحریک عدم اعتماد کی گنجائش موجود ہے آئینی اور جمہوری انداز میں تحریک کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں-

انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ آئین شکنی سے بھری پڑی ہے 12 اکتوبر 1999 کو آئین شکنی ہوئی جس کی قوم گواہ ہے اور اسی اعلیٰ عدلیہ نے ایک آمر کو آئین میں ترمیم کا اخیار کیا جس کی تاریخ بھی گواہ ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف نے بیانات دیے کہ کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کریں گے، میں خوش ہوں کہ ہماری جمہوریت پروان چڑھی ہے اور کوئی نظریہ ضرورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی احکامات کی پاسداری کے لیے خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، 3 اپریل کو جو کچھ ہوا اسے دہرانا نہیں چاہتا لیکن عدلیہ نے اس کا نوٹس لیا، اتوار کو دروازے کھولے گئےکارروائی کا آغاز ہوا اور متفقہ طور پر رولنگ کو مسترد کیا –

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کئی سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے متحدہ اپوزیشن عدالت کیوں گئی اورسوموٹو کیوں لیا گیا اس کا پس منظر ہے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر دوستوں کو اعتراض تھا عدالت نے فیصلہ سنا دیا-

وزیر خارجہ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیوں لیا گیا؟ اس کا ایک پس منظر ہے، قاسم سوری نے آئینی عمل سے انکار نہیں کیا،ایک نئی صورتحال آئی ہے، بیرون سازش کی بات ہو رہی ہے اس لیے اجلاس کا غیرمعینہ مدت تک ملتوی ہونا ضروری ہے۔

مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جہاں بیرونی سازش ہورہی ہے اس کی تحقیق ہونی چاہیے نیشنل سیکیورٹی کونسل اعلی ٰترین فورم ہے نیشنل سیکیورٹی کونسل میں لیٹر کا بھی ذکر ہوا قومی سلامتی کمیٹی نے مراسلہ دیکھ کر اسے سنگین مسئلہ قرار دیا اور پھر دفتر خارجہ امریکی سفیر کو ڈی مارش کرنے کا حکم دیا دفتر خارجہ کو حکم دیا جاتا ہے کہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں احتجاج کیا جائے ہم نے اسلام آباد اور واشنگٹن دونوں جگہ احتجاج کیا-

شاہ محمود قریشی نے دھمکی آمیز مراسلے پر بات شروع کی تو اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کیا گیا اور کہا کہ وزیر خارجہ پھر اس مراسلے سے متعلق بات کر رہے ہیں، آج کے ایجنڈے میں صرف تحریک عدم اعتماد شامل ہے۔

اپوزیشن کے شور شرابے کے بعد حکومتی بینچز سے بھی نعرے بازی شروع ہو گئی اور اسی دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ موصول ہونے کے بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ڈپٹی سپیکر کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا حکم نامہ واپس لے لیا تھا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتے کو دوبارہ ساڑھے 10 بجے ہو گا اجلاس کا چھ نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے-

امپورٹڈ حکومت تسلیم نہیں کریں گے عوام میں جائیں گے:وزیراعظم کا قوم سے خطاب

قومی اسمبلی کے چھ نکاتی ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ شامل ہے،آرٹیکل 95 کے تحت اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قرارداد پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی ایجنڈے میں وقفہ سوالات، دو توجہ دلاؤ نوٹس اور ایک نکتہ اعتراض شامل ہے۔

پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کو دی گئی اپوزیشن میں بیٹھنے کی تجویز

قومی اسمبلی اجلاس کے اہم سیشن کے موقع پر سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون جانے والے تمام راستے سیل کر دیئے گئے ہیں، غیر متعلقہ افراد کا پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلہ بند رہے گا جبکہ منحرف اراکین اسمبلی کے لیے اضافی سکیورٹی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی 3 اپریل کی رولنگ کوکالعدم قرار دیتے ہوئے 9 اپریل کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا حکم دیا تھا۔

وفاقی کابینہ کے بعد بڑے فیصلے، حکومتی اعلانات سامنے آ گئے

Leave a reply