ججوں کی ریٹائڑ منٹ کے بعد نوکریوں اور پنشن کا معاملہ

پاکستان میں کئی برسوں سے قانون نافذ کرنے والے وکلاء اور ججز کی ریٹائڑمنٹ کے بعد کی نوکریوں کے حوالے سے کوئی مضبوط فیصلہ نہیں لیا گیا- اور موجودہ پالیسیوں میں کئی مسائل ظاہر ہوتے ہیں-

مرحومہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما ارون جیٹلی نہ نے ایک بار اپوزیشن میں ججوں کی پنشن اور قبل از ریٹائرمنٹ سےمتعصبانہ فیصلوں سے بچنے کے لیے قابل ستائش مقدمہ پیش کیا- انھوں نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم چیلنج جو اقتصادی لبرلائزیشن کے بعد آایا وہ یہ ہے کہ ملک کے کئی ہائی کورورٹ قانونی طور پر بہت منافع بخش بھی بن گئے ہیں- لہذا بہترین شخص جج بننے کو تیار نہیں ہیں – امید ہے کہ کسی مرحلے پر معزز وزیر قانون اپنے آپ پر اس سوال کو ضرور لاگو کریں گے کہ ایسا ادارہ جس میں با صلاحیت شخص جج بننے کے لیے تیار نہیں تو یہ ایک سنگین مسئلہ بن جائے گا- میرے خیال میں ججوں کے لئے ریٹائرمنٹ کے بعد کے مواقع پیدا کرنے میں ہم ہر قانون سازی میں بہت دور ہیں۔ آپ کی تجویز ہے کہ ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھا دی جائے ہیں۔ براہ کرم یہ کریں ، لیکن ایک شرط کے ساتھ۔- چند قابل ذکر معزز مردوں کو چھوڑ کر ،ہر ایک ، ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت چاہتا ہے اور ہم ان کے لیے بڑی بہادری سے نوکریوں کی تشکیل کر رہے ہیں۔ اگر ہم اسے تخلیق نہیں کرتے ہیں تو ، وہ خود اسے تخلیق لیں گے۔

مجھے خوشی ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے کہا ، "سی آئی سی کے ہر ممبر کو ریٹائرڈ جج ہونا چاہئے۔” کسی کالج کی فیس کا حساب کرنا ایک اکاؤنٹنگ کا طریقہ ہے۔ عدالتی حکم کے ذریعے سپریم کورٹ نے کہا ، "میڈیکل کالجز اور انجینئرنگ کالجوں کی فیسوں کو ریٹائرڈ ججوں کے ذریعہ لازمی طور پر مقرر کیا جانا چاہئے”۔ اور کہا ، "ہر ریاست میں ہم نے مزید ملازمتیں پیدا کیں۔” میرے خیال میں لوٹیئنس بنگلے پر قبضہ جاری رکھنے کا یہ پورا فتنہ ہے۔ اور اس لیے ، براہ کرم پولیسیوں کا جائزہ لیں ، جب تک کہ یہ قطعی ضروری نہ ہو ، ان میں سے کچھ کو بھی عدالتی سیٹ اپ میں شامل کرلیا جانا چاہیے ، ریٹائر ہونے والے ججوں کو ان کی آخری تنخواہ کے برابر پنشن ادا کریں۔ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمت کی خواہش ریٹائرمنٹ سے پہلے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے – یہ عدلیہ کی آزادی کے لئے خطرہ ہے- اور ایک بار جب وہ ریٹائرمنٹ سے قبل کے فیصلوں پر اثرانداز ہوتا ہے تو ، اس کا خود ہی عدلیہ کے کام کاج پر منفی اثر پڑتا ہے-

پاکستان کے بھی کئی معززججز اور وکلاء مثلا اعتزاز احسن، احمر بلال ، سلیمان راجہ وغیرہ پر بھی یہی قانون لاگو ہوتا ہے- پاکستان میں بھی عدلیہ کی نطر میں ریٹائڑڈ ججز اوروکلاٰءکے لیے بنائے گئے پنشن اور بعد ازریٹائڑمنٹ نوکریوں کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی کوشش کرنی چاہیے-

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.