صدر مملکت ڈاکٹرعارف الرحمن علوی نے الیکشن ترمیمی بل دستخط کیے بغیر واپس بھجوا دیا

0
85

اسلام آباد:صدر مملکت ڈاکٹر عارف الرحمن علوی نے الیکشن ترمیمی بل دستخط کیے بغیر واپس بھجوا دیا۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ڈاکٹرعارف الرحمن علوی نے اس بل کودستخط نہ کرنے کے ساتھ ساتھ دستخط نہ کرنے کی وجوہات بھی بیان کی ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ صدرمملکت نے الیکشن ترمیمی بل کے سلسلے میں اپنی ذمہ داریوں کا بھی ذکر کیا ہے

الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کےبعدنیب ترمیمی بل 2022 بھی کثرت رائے سے منظور

الیکشن ترمیمی بل کے حوالے سے صدر مملکت نے کہا کہ آئین کی پاسداری کرتا رہا ہوں، ادراک ہے کہ آئین پاکستان اِس بل پر دستخط نہ کرنے کے باوجود اسے قانون کی شکل دے دے گا، بحیثیت صدر پاکستان مجلس شوریٰ کے منظور کردہ بل پر دستخط نہ کرنا میرے لیے ذاتی طور پر ایک تکلیف دہ امر ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے معاملے سے ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے منسلک ہوں، تمام حکومتوں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں اِس معاملے کی پیروی کرتا رہا ہوں۔

صدر مملکت اور وفاقی حکومت کے درمیان سرد جنگ برقرار،نیب اور الیکشن ترمیمی بلزواپس…

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ ٹیکنالوجی ‘ہمیشہ سے متنازعہ’ اور چیلنج شدہ انتخابی عمل میں ابہام، اختلاف اور الزامات کو کم کر سکتی ہے، ٹیکنالوجی کا استعمال انتخابی عمل میں شفافیت لانے، انتخابی مرحلے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی شرکت، سیاسی اعتماد کی فضا قائم کرنے، اور تقسیم کے عمل کو کم کرنے میں مدگار ثابت ہو گا، ٹیکنالوجی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے ہمارے اب تک کے ادھورے خواب کو پورا کر سکتی ہے، چاہتا ہوں کہ پاکستان مستقبل میں تیزی سے کامیابی کی طرف بڑھے، آج کے مسائل کو صرف ماضی کے تجربات کی روشنی میں ہی حل نہیں کرنا چاہئے بلکہ جدید اور نئے سائنسی طریقوں کو بھی بروئے کار لانا چاہیے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے اپنے دلائل اور خیالات قلم بند کرنا چاہتا ہوں، مجوزہ قوانین کی نوعیت رجعت پسندانہ ہے، ٹیکنالوجی، خاص طور پر ای وی ایم ، کو جب موثر طور پر استعمال کیا جاتا ہے تو اس میں بہت سے مسائل کا حل موجود ہے جو روایتی طریقوں میں درپیش آتے ہیں۔

وفاقی کابینہ اجلاس،دہری شہریت والوں کوالیکشن لڑنے کا حق دینے کا آئینی ترمیمی بل…

انہوں نے کہا کہ اس بات کا پورا ادراک ہے کہ پارلیمان کے دونوں اطراف میں اعتماد سازی کے فروغ اور شراکت داروں کی وسیع تر شمولیت کے بغیر اصلاحات ممکن نہیں، ایسا اب تک کیوں نہیں ہوا اور رائے سازوں اور فیصلہ سازوں کی جانب سے اس عام فہم چیز کو نظر انداز کیوں کیا گیا، یہ میرے لئے ایک معمہ رہے گا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے مزید کہا کہ اس طرح کے بہت سے مُشکل فیصلوں کا ہمیں مستقبل میں بھی سامنا رہے گا، تاریخ گواہ ہے کہ جو قومیں صحیح فیصلے کرتی ہیں وہ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتی ہیں اور جو ایسا نہیں کر پاتی وہ مواقع ضائع کرتی ہیں جو اُنہیں بلندی اور کامیابی کی طرف لے جا سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اور مستقبل کی حکومتوں اور پارلیمان کو دو چیزوں کا انتخاب کرنا ہوگا، ہم ماضی کو اجازت دی سکتے ہیں کہ وہ پاکستان کو پستی کی طرف لے جائے، ماضی کے تجربات اور آج کی ٹیکنالوجیز کو بروئے کار لاتے ہوئے ہم پاکستان کے روشن، ترقی پسند اور متحرک مستقبل کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔

Leave a reply