الٹے بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں،وزیراعظم کا لانگ مارچ کی مدد کا اعلان

الٹے بھی لٹک جائیں تو این آر او نہیں،وزیراعظم کا لانگ مارچ کی مدد کا اعلان

باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپوزیشن سے ہر قسم کی بات چیت کرنے کے لئے تیار ہوں لیکن کبھی ڈاکوں اورچوروں کو این آر او کسی صورت نہپں دوں گا

پی‌ڈی ایم کی جانب سے لانگ مارچ کی تاریخ کے اعلان پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ نے لانگ مارچ کرنا ہے آپ کریں آپ کی مدد کروں گا لیکن آپ الٹے بھی لٹک جائیں تو بھی آپ کو این آر او نہیں دوں گا

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ دنیا نے کشمیریوں کے لوگوں سے ایک وعدہ کیا تھا، کشمیریوں سے جووعدہ کیا گیا تھا وہ پورا نہیں ہوا،اقوام متحدہ نے اپنا حق ادانہیں کیا،کشمیر کے لوگ پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے،پاکستان کشمیریوں کو حق دیگا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں،ساراپاکستان آج مقبوضہ کشمیر کے عوام کےساتھ کھڑا ہے،دنیا کے تمام مسلمان ممالک مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑے ہیں

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ سب سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے لوگوں کو وہ حق دینا چاہیے جو اقوام متحدہ نے وعدہ کیا تھا،مقبوضہ کشمیر کے عوام پر ظلم ہورہے ہیں،مسلم دنیا مقبوضہ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے ،مجھ میں جتنی بھی ہمت ہوئی، ہر فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ سے تین بار بات کی کہ کشمیر کا مسئلہ حل کریں،سفیر بن کر کشمیریوں کی آواز پوری دنیا میں بلند کروں گا،حکومت میں آتے ہی کوشش کہ بھارت کو سمجھائیں کہ کشمیر کا مسئلہ ظلم سے حل نہیں ہوگا،بھارت 9 لاکھ فوج لے آئے لیکن کشمیری غلامی قبول نہیں کریں گے،جدوجہد آزادی کیلئے ایک لاکھ سے زائد کشمیری قربانی دے چکے ہیں

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ نریندر مودی سے کہتا ہوں طاقت کسی مسئلے کا حل نہیں ہے،پاکستان پلوامہ کے پیچھے نہیں تھا،ڈس انفولیب کے ذریعے پتہ چلا کہ بھارت نے 600جعلی اکاوَنٹ بنائے ہوئے تھے، آر ایس ایس نے ہمیشہ اپنے ہی ملک کا نقصان کرایا ،بھارت میں آج کسان احتجاج کررہے ہیں ،آج پھر سے مودی سے کہتا ہوں کہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے،بھارت سے کہتا ہوں آپ نہیں جیت سکتے، بھارت میں اقلیتیں اورکسان ڈرے ہوئے ہیں ،بھارت میں مسلمانوں کے حالات سب کے سامنے ہیں،مسئلہ کشمیر پر بھارتی وزیراعظم سے پھر سےبات کرنے کو تیار ہیں،مودی 5 اگست کا اقدام واپس لے کرہم سے مذاکرات کرو،مودی،کشمیرکا مسئلہ ہمارے ساتھ مل کرحل کرو،

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.