بھارت:یونیورسٹی کے نصاب میں‌آر ایس ایس کی تاریخ شامل،نیا تنازع شروع ہوگیا

0
36

نئی دہلی:بھارت کا جنگی جنوں انتہا کی بلندیوں کو چھونے لگا کہں ایک طرف سکولوں میں فوجی تربیت لازمی قرار دے دی گئی تو کہیں دوسری طرف ہندو انتہا پسند ،اسلام اور مسلمان مخالف دہشت گرد تنظیم کی تاریخ کو یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کردیا گیا ہے.

یہ پہلی بار نہٰیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی ناگپور یونیورسٹی میں سنگھ کی تاریخ کو متعارف کرنے کاکام کیاگیا ہے۔ سال2002سے ایم اے کے نصاب میں ’آرایس ایس‘ کے قومی تعمیر میں رول کے عنوان پرلیکچر دیئے جاتے رہے.ناگپور یونیورسٹی کے شعبہ تعلیمات چیرمن برائے تاریخ شیام کوریٹی کے مطابق مئی کے مہینے میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران آر ایس ایس کو نصاب کے لئحے متعارف کروانے کا فیصلہ لیاگیاتھا۔ایم اے (تاریخ) میں پہلے سے مذکورہ مضمون پڑھایاجارہا ہے‘ ہم نے سونچا کہ بی اے کے نصاف میں اس کو شامل کریں گے تاکہ اسٹوڈنٹ کو تنظیم کے متعلق اس بات کوسمجھنے میں آسانی ہوسکے کہ ہندوستان کی آزاد ی سے قبل تنظیم کی کیا خدمات تھیں.

دوسری طرف کانگریس ترجمان سچن ساونت نے اس اقدام کو ”غیر معمولی“ قراردیا اور ناگپور یونیورسٹی انتظامیہ پر آر ایس ایس کو فروغ دینے کا الزام بھی لگایا.انہو ں نے ٹی او ائی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ”ہر کوئی جانتا ہے کہ سنگھ کی تاریخ ایک سیاہ باب ہے اور انہوں نے آزادی کے جدوجہد کے دوران انگریزوں کی مدد کی تھی۔وہ آ رایس ایس ہی تھی جس نے دستور کی مخالفت کی تھی اور قومی پرچم کو بھی مستردکردیاتھا اور 52سالوں تک اپنے ہیڈکوارٹر پر قومی ترنگا بھی نہیں لہرایاتھا۔یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے منوسمرتی کو فروغ دیا تاکہ شہریوں کے درمیان میں نفرت کو بڑھاوا دیاجاسکے۔

سچن ساونت نے کہا کہ سنگھ کی سونچ رکھنے والے ناتھو رام گوڈسے‘ مہاتما گاندھی کا قاتل ہے اور پھر اس طرح کی تنظیموں کو فروغ نہیں دینا چاہئے۔ان کے مطابق وی سی نے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا وہیں کورتی اطمینان بخش جوابات دینے میں ناکام بھی رہے ہیں.یونیورسٹی انتظامیہ کو انتباہ کیا گیا ہے کہ اگر متنازع مواد کو نہ ہٹایاگیاتو وہ اپنے احتجاج مزید سخت کردیں گے.

Leave a reply