Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

غزل؛ عجب تماشا سا چل رہا ہے ,شاعر : جاوید ڈینی ایل

نقطہ نظر
javede denial

عجب تماشا سا چل رہا ہے

غریب ہاتھوں کو مل رہا ہے


پنپ رہی ہے منافقت بھی

عروج پستی میں ڈھل رہا ہے


اِسی لیے تو وہ مر رہا ہے!

حسد کی بھٹی میں جل رہا ہے


یہ کون تاریخ کو بدل کے

ہمارا چہرہ مسل رہا ہے


کسی کو بے جا صلیب دینا

یہ کام صدیوں سے چل رہا ہے


وہ کہہ رہا ہے اُسی کو کافر

کہ جس کے ٹکڑوں پہ پل رہا ہے


لُٹا کے تن من گنوا کے حرمت

وہ رفتہ رفتہ سنبھل رہا ہے


رہو گے خاموش تو مرو گے

یہ فیصلہ تو اٹل رہا ہے


اُسی کے جاویدؔ شر سے بچنا

جو آستینوں میں پل رہا ہے