Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

امریکا میں دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار فائرنگ سکواڈ سے سزائے موت کا اعلان


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوج کے سابق میجرکو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دے دیا۔


میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی فوج کے سابق میجر ندال حسن نے 2009 میں 13 امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا تھاسابق امریکی میجر ماہر نفسیات نے ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے میں فائرنگ کی تھی، فوجی عدلیہ نے سابق میجر کو 2013 میں سزائے موت سنائی تھی۔


پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سزائے موت کی سفارش کی تھی، جس کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منظوری دے دی ہے یہ دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے بعد امریکی فوج میں فائرنگ سکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی سزائے موت ہوگی۔


فوجی عدالت کی 13 رکنی جیوری نے ندال ملک حسن کو 13 افراد کے قتل اور 32 دیگر کو قتل کرنے کی کوشش کے مقدمات میں مجرم قرار دیا تھا۔ جیوری نے متفقہ طور پر ان کے لیے سزائے موت کی سفارش کی تھی۔


پینٹاگون کے مطابق سزائے موت پر عمل درآمد کی تاریخ اور مقام امریکی فوج کے سیکرٹری طے کریں گے ندال ملک حسن اس وقت امریکی فوج کے ان چار قیدیوں میں شامل ہیں جنہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔


امریکی فوجی قانون کے تحت کسی فوجی کی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے صدر کی منظوری ضروری ہے، جبکہ اس سے قبل اپیل اور سزا کی قانونی حیثیت سے متعلق حتمی جائزہ بھی مکمل کیا جاتا ہے۔


واضح رہے کہ 1983 میں امریکی کورٹ آف اپیلز فار دی آرمڈ فورسز نے فوجی سزائے موت کو غیر آئینی قرار دیا تھا، تاہم 1984 میں صدر رونالڈ ریگن کے دور میں صدارتی حکم کے ذریعے اسے دوبارہ بحال کردیا گیا تھا۔