Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

کیا ہم اپنے بچوں کو سیلف ڈیفنس سکھا رہے ہیں؟تحریر : دانش رحمان

نقطہ نظر
danish rehmna

حال ہی میں ایک افسوسناک واقعہ سامنے آیا جس نے بہت سے لوگوں کے دلوں کو پریشان کر دیا۔ ایک آئس کریم فروش کے بارے میں شکایات موصول ہوئیں کہ وہ بچوں کو آئس کریم کے بہانے تنگ کرتا تھا۔ اس شخص کے خلاف متعدد شکایات پہلے سے موجود تھیں، تاہم بروقت توجہ نہ ملنے کے سبب صورتحال تشویشناک رہی۔ جب یہ بات سامنے آئی تو محسوس ہوا کہ ہمارے معاشرے میں کچھ افراد موجود ہیں جو بچوں کی معصومیت سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ خاص طور پر وہ بچے جو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ آگاہی نہ رکھنے والے ہوتے ہیں، ایسے افراد کے لیے نسبتاً آسان نشانہ بن جاتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کے بچے ہیں ۔ اس واقعے نے مجھے اس حساس موضوع پر کچھ لکھنے کا احساس دلایا تاکہ قوم کے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے میں معمولی سی کاوش کی جا سکے۔


گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ کی تعلیم بچوں کی حفاظت کا اہم بنیادی ستون ہے۔ ہر بچے کو ابتدائی عمر سے ہی یہ بتانا مفید ہے کہ اس کے جسم کا احترام ہے اور کسی کو بھی اس کی واضح اجازت کے بغیر چھونے کا حق نہیں۔ گڈ ٹچ وہ ہوتا ہے جو محبت اور دیکھ بھال کے جذبے سے کیا جاتا ہے، جیسے والدین کا پیار یا طبی معائنے کے دوران ڈاکٹر کا پیشہ ورانہ لمس۔ اس کے برعکس بیڈ ٹچ وہ محسوس ہوتا ہے جو ناگوار، خفیہ یا غیر مناسب لگے۔ بچوں کو یہ بتانا چاہیے کہ اگر انہیں کوئی ناپسندیدہ لمس محسوس ہو تو وہ بلا جھجک والدین، استاد یا کسی قابل اعتماد بڑے کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اس موضوع پر کھل کر بات کرنا ابھی بھی کچھ لوگوں کے لیے مشکل محسوس ہوتا ہے۔ والدین اکثر لاعلمی یا جھجک کی وجہ سے بچوں سے یہ گفتگو نہیں کر پاتے، جبکہ بہت سے تعلیمی اداروں کے نصاب میں بھی اس کی باقاعدہ جگہ محدود ہے۔ نتیجتاً کچھ بچے خاموش رہنا ترجیح دیتے ہیں جس سے غیر مناسب عناصر کو موقع مل جاتا ہے۔


سیلف ڈیفنس صرف جسمانی تکنیکوں تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل ذہنی اور جذباتی تربیت کا نام ہے۔ اس میں بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ خطرے کے ممکنہ اشاروں کو کیسے پہچانیں، حالات کا درست اندازہ کیسے لگائیں اور ضرورت پڑنے پر اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے طریقے اختیار کریں۔ سیلف ڈیفنس کی تربیت بچوں میں خوداعتمادی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور انہیں یہ احساس دلاتی ہے کہ وہ بے بس نہیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں اسکولوں میں سیلف ڈیفنس کی بنیادی تربیت کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے، تاہم پاکستان میں یہ ابھی تک محدود پیمانے پر ہی دستیاب ہے۔ بہت سے والدین یہ سمجھتے ہیں کہ سیلف ڈیفنس صرف لڑکوں کے لیے ضروری ہے، حالانکہ لڑکیاں بھی اس کی یکساں محتاج ہیں۔ اگر بچوں کو ابتدائی عمر سے ہی مناسب تربیت فراہم کی جائے تو وہ ذہنی اور جسمانی طور پر زیادہ محفوظ محسوس کر سکتے ہیں۔


موجودہ صورتحال پر غور کرنا ضروری ہے۔ پاکستان میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن ان کے مؤثر نفاذ میں بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اسکولوں میں حفاظتی اقدامات، والدین کی آگاہی اور معاشرتی توجہ میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ آئس کریم فروش جیسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ معاشرے میں ایسے افراد موجود ہو سکتے ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشان دہی کی جائے اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کیا جائے۔ حکومت اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ سیلف ڈیفنس اور گڈ ٹچ، بیڈ ٹچ کی تعلیم کو قومی نصاب میں مناسب جگہ دی جائے۔ اسکولوں میں تربیتی سیشنز، والدین کے لیے آگاہی پروگرامز اور میڈیا کے ذریعے مثبت شعور اجاگر کرنے سے صورتحال بہتر بنائی جا سکتی ہے۔


آخر میں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ بچوں کی حفاظت پیشگی تیاری اور مشترکہ کوشش کا نام ہے۔ بچے پوری قوم کے ہیں اور ان کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کو ضروری آگاہی اور سیلف ڈیفنس کی بنیادی تربیت فراہم کریں تو وہ زیادہ محفوظ محسوس کر سکیں گے۔ معاشرے میں موجود منفی رجحانات کی نشان دہی کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بروقت آگاہ کرنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔


اگر میری کسی بات سے کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہوں تو میں معذرت چاہتا ہوں۔ میرا مقصد صرف اس حساس موضوع پر توجہ مبذول کرانا تھا۔ ایک لکھاری ہونے کے ناطے میرا فرض ہے کہ قوم کے ضمیر کی ترجمانی کروں اور بچوں جیسے حساس طبقے کی حفاظت کے لیے اپنی محدود کاوش پیش کروں۔