Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بلدیہ گوجرخان کا آڈٹ، اب فائلیں نہیں عوام کے سوالات کے جواب چاہئیں

بلدیہ گوجرخان کا آڈٹ، اب فائلیں نہیں عوام کے سوالات کے جواب چاہئیں
مصنف:

دکانوں کی بولیاں، ٹھیکے، واٹر کنکشنز، بل بورڈز، ترقیاتی فنڈز اور ہر آمدن و خرچ کا مکمل آڈٹ کیا جائے، شہری حلقے

وزیراعلیٰ پنجاب خود انکوائری کی نگرانی کریں، روزانہ پیش رفت رپورٹ لی جائے، خردبرد ثابت ہو تو ریکوری اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے

گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل گوجرخان میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، سرکاری اثاثہ جات کے استعمال، گھوسٹ ملازمین، غیر مجاز ترقیاتی سرگرمیوں اور دیگر معاملات کی تحقیقات کے لیے سابق پارلیمانی سیکریٹری راجہ جاوید اخلاص کی جانب سے دی گئی درخواست کے بعد میونسپل کمیٹی گوجرخان کا خصوصی آڈٹ شروع کر دیا گیا، آڈٹ ٹیم دوسرے روز بھی ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں مصروف رہی۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اقدام کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آڈٹ مکمل طور پر آزاد، غیر جانب دار، شفاف اور فئیر ہونا چاہیے اور سابق و موجودہ افسران، ایڈمنسٹریٹرز اور انتظامی سربراہان کے ادوار کا بھی جامع حساب لیا جائے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ ترقیاتی منصوبوں اور فنڈز کے ساتھ بلدیہ کی دکانوں کی نیلامی و بولیوں، ٹھیکوں، دکانوں سے متعلق فائلوں، لیز و کرایوں، واٹر کنکشنز، بل بورڈز، اشتہاری فیسوں، پارکنگ، اسٹالز اور دیگر آمدنی کے ذرائع کا بھی مکمل آڈٹ کیا جائے۔ شہریوں کے مطابق نالوں کی صفائی، سٹریٹ لائٹس، پانی اور دیگر شہری سہولیات کے لیے فنڈز مختص ہونے کے باوجود مسائل برقرار ہیں، اس لیے ہر منصوبے اور اخراجات کی دستاویزی جانچ کے ساتھ موقع پر فزیکل ویری فکیشن بھی ضروری ہے۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے خصوصی مطالبہ کیا کہ وہ خود اس انکوائری پر نظر رکھیں اور روزانہ کی بنیاد پر آڈٹ کی پیش رفت اور اہم نتائج کی رپورٹ طلب کریں تاکہ تحقیقات کسی دباؤ یا مداخلت کے بغیر منطقی انجام تک پہنچ سکیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی مد میں سرکاری خزانے کو نقصان یا خردبرد شواہد سے ثابت ہو تو معاملہ محض انکوائری کی فائل میں دفن نہ کیا جائے بلکہ رقم کی مکمل ریکوری، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور سزا و جزا یقینی بنائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاملات کو دبانا مسئلے کا حل نہیں، آڈٹ کے نتائج کی روشنی میں بلدیہ کے نظام میں بنیادی اصلاحات، شفافیت اور مؤثر نگرانی لانا ہوگی تاکہ آئندہ عوامی فنڈز کی ایک ایک پائی کا حساب اور شہری سہولیات کی منصفانہ فراہمی یقینی بنائی جا سکے