Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

مسیحی فیملی لاز، سندھ کی پیش رفت، پاکستان کی ضرورت،تحریر: اعجاز راہی

نقطہ نظر
ejaz rahi blog

پاکستان میں مسیحی برادری کے عائلی قوانین میں اصلاحات کا معاملہ کوئی نیا موضوع نہیں۔ برسوں سے یہ ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہے کہ مسیحی خاندانوں سے متعلق موجودہ قوانین کو بدلتے ہوئے معاشرتی، قانونی اور خاندانی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ایسے میں سندھ اسمبلی میں ’’سندھ کرسچن فیملی لاز بل 2026‘‘ کا پیش کیا جانا ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ اقدام اس اعتبار سے بھی قابلِ تحسین ہے کہ ایک طویل عرصے سے زیرِ بحث مسئلے کو محض تقریروں اور مطالبات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے باقاعدہ قانون سازی کے عمل میں لایا گیا ہے۔

اس کوشش کے محرک نوید انتھنی جو کہ سندھ اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی ہیں، کو اس بات کا کریڈٹ ضرور دیا جانا چاہیے کہ انہوں نے ایک حساس اور پیچیدہ معاملے پر پارلیمانی بحث کا دروازہ کھولا۔ سندھ اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ نجی بل 8 ستمبر کو ایوان میں پیش ہونے کے بعد قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور کو بھیج دیا گیا، جسے دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ یہ معاملہ اچانک سامنے نہیں آیا۔ رواں سال اپریل میں سندھ اسمبلی کے تحت ہونے والی ایک مشاورتی نشست میں مختلف مسیحی کلیسیاؤں کے مذہبی رہنماؤں، پارلیمانی نمائندوں اور سرکاری حکام نے مجوزہ کرسچن فیملی لاز کے مسودے کا جائزہ لیا تھا۔ یعنی قانون سازی سے پہلے مشاورت کا ایک مرحلہ بھی موجود رہا ہے۔

اصل مسئلہ یہی ہے کہ مسیحی برادری کے عائلی قوانین میں اصلاح کی ضرورت سے شاید ہی کوئی سنجیدہ شخص اختلاف کرے۔ موجودہ قانونی ڈھانچے کی بنیاد ایسے قوانین پر ہے جو برصغیر کے نوآبادیاتی دور میں بنائے گئے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ معاشرہ تبدیل ہوا، خاندان کی ضروریات تبدیل ہوئیں، خواتین اور بچوں کے حقوق کے بارے میں شعور بڑھا اور عدالتی نظام بھی نئے تقاضوں سے دوچار ہوا۔ ایسے میں ایک صدی سے زیادہ پرانے قانونی ڈھانچے کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانے کی بحث بالکل فطری ہے۔

شادی، اس کی رجسٹریشن، ازدواجی حقوق، علیحدگی، طلاق، بچوں کی کفالت و تحویل اور خاندانی معاملات میں انصاف جیسے مسائل کسی بھی معاشرے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ مسیحی شہری بھی انہی بنیادی انسانی اور شہری حقوق کے حامل ہیں۔ اس لیے ان کے عائلی قوانین میں ایسی اصلاحات ہونی چاہئیں جو واضح بھی ہوں، قابلِ عمل بھی اور موجودہ پاکستانی معاشرے کے تقاضوں سے ہم آہنگ بھی۔

تاہم یہاں ایک بنیادی سوال کے بجائے ایک بنیادی اصولی نکتہ سامنے آتا ہے۔ بل کا عنوان ’’سندھ کرسچن فیملی لاز بل‘‘ ہے، جبکہ اس میں زیرِ بحث معاملہ صرف سندھ کے مسیحیوں کا نہیں بلکہ پاکستان بھر میں بسنے والی ایک مذہبی برادری کے خاندانی حقوق سے متعلق ہے۔

اگر مسیحی عائلی قوانین میں اصلاح کی ضرورت پورے پاکستان میں محسوس کی جا رہی ہے تو پھر مستقبل کا قانونی منظرنامہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ ایک ہی ملک میں ایک ہی مذہبی برادری کے لیے صوبے کے لحاظ سے مختلف عائلی قوانین ایک پیچیدہ صورتِ حال پیدا کر سکتے ہیں۔ اگر سندھ کا قانون الگ ہو، پنجاب اپنا قانون بنائے، خیبر پختونخوا میں الگ قانون آئے اور بلوچستان میں الگ طریقۂ کار اختیار کیا جائے تو ایک ہی مذہبی برادری کے شہری مختلف صوبوں میں مختلف قانونی اصولوں کے تابع ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال صرف قانونی پیچیدگی ہی پیدا نہیں کرے گی بلکہ ایک ایسے معاملے کو بھی صوبائی تقسیم کا شکار بنا سکتی ہے جسے قومی سطح پر یکساں اصولوں کی ضرورت ہے۔

اسی لیے سندھ میں شروع ہونے والی اس کوشش کو ختم کرنے کے بجائے اسے وسیع تر قومی عمل کا نقطۂ آغاز بنانا زیادہ دانشمندانہ ہوگا۔ اگر ایک صوبائی اسمبلی نے اس مسئلے کو قانون سازی کی سطح پر اٹھایا ہے تو اب وفاقی اور صوبائی سطح کے قانون ساز اداروں، مسیحی پارلیمنٹیرینز، آئینی و قانونی ماہرین، مختلف کلیسیاؤں اور مسالک کے نمائندوں، خواتین، سماجی کارکنوں اور خود مسیحی خاندانوں کو ایک جامع مشاورت میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

یہاں کلیسا کے تحفظات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ مذہبی قیادت اگر کسی مجوزہ قانون کی بعض شقوں پر اعتراض کرتی ہے تو اسے سنا جانا چاہیے۔ مذہبی آزادی، کلیسیائی خودمختاری، مذہبی رسومات اور مسیحی عقیدے سے متعلق معاملات اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ اصول بھی واضح رہنا چاہیے کہ ریاستی قانون سازی اور مذہبی عقیدے کے دائرے ایک جیسے نہیں ہوتے۔

اعتراض جمہوری عمل کا حصہ ہے، مگر اعتراض کو قانون سازی پر مکمل ویٹو کا درجہ دینا بھی مناسب نہیں۔ بہتر راستہ یہ ہے کہ اختلافی نکات کو میز پر لایا جائے، ان پر قانونی اور مذہبی ماہرین کی رائے لی جائے اور ایسا متوازن قانون تشکیل دیا جائے جو نہ مذہبی آزادی سے متصادم ہو اور نہ شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق کو متاثر کرے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس معاملے کو شخصیات کے بجائے اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ قانون کسی ایک فرد یا ادارے کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے لیے بنتا ہے۔ اس لیے کسی بھی مجوزہ قانون کی حمایت یا مخالفت کا معیار یہ ہونا چاہیے کہ وہ مسیحی خاندانوں کو کتنا واضح، منصفانہ اور قابلِ عمل قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کی بات صرف آئینی دفعات تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ عملی زندگی میں شادی، خاندان، وراثت، بچوں کی کفالت، طلاق اور دیگر خاندانی معاملات میں بھی شہریوں کو واضح اور مؤثر قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ یہی ایک جمہوری اور مساوی ریاست کی پہچان ہے۔

اس تناظر میں موجودہ کوشش کو ایک موقع سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک پرانے قانون کو محض اس لیے برقرار نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ پرانا ہے، اور کسی نئے قانون کو صرف اس لیے قبول نہیں کیا جا سکتا کہ وہ نیا ہے۔ اصل امتحان قانون کے معیار کا ہے۔

سندھ نے اگر اس بحث کا آغاز کیا ہے تو اسے قومی سطح پر آگے بڑھانے میں کوئی قباحت نہیں۔ بلکہ بہتر یہی ہوگا کہ صوبائی سطح پر اٹھنے والی اس کوشش کو ایک ایسے قومی قانونی فریم ورک میں تبدیل کیا جائے جو پاکستان بھر کے مسیحی شہریوں کے لیے یکساں، جدید اور قابلِ اعتماد ہو۔

یہی اس معاملے کا زیادہ پائیدار حل ہے۔

اصلاح ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے، لیکن ایسی اصلاح جو کسی ایک صوبے تک محدود نہ ہو۔ مسیحی فیملی لاز کو صوبائی حدود سے نکال کر قومی سطح پر دیکھا جائے، تمام متعلقہ فریقوں کو اعتماد میں لیا جائے اور ایسا قانون بنایا جائے جو آنے والی نسلوں کے لیے بھی قابلِ عمل ثابت ہو۔

سندھ سے اٹھنے والی یہ آواز اگر پورے پاکستان کے لیے ایک بہتر قانون کی بنیاد بن جائے تو یہی اس پیش رفت کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔