Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

بیرونِ ملک جانے کے خواب، انسانی جانوں کے سوداگر اور ریاست کی ذمہ داری,تجزیہ :شہزاد قریشی

shehzad qureshi098

بیرونِ ملک جانے کے خواب، انسانی جانوں کے سوداگر اور ریاست کی ذمہ داری



لائبہ اعجاز کی المناک موت: بیرونِ ملک روشن مستقبل کے خواب بیچنے والے جعل ساز مافیا کے خلاف فیصلہ کن آپریشن ناگزیر



جعلی ویزوں سے انسانی جانوں تک کا سودا حکومت اور ایف آئی اے کب اس سفاک نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ کریں گے؟



تجزیہ شہزاد قریشی


جعلی ویزوں اور بیرونِ ملک تعلیم کے نام پر دھوکا دینے والے مافیا کے خلاف اب فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔


اسلام آباد میں ایک تعلیم یافتہ نوجوان بیٹی کی المناک موت نے ایک مرتبہ پھر ہمارے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواب دیکھنے والی اس طالبہ کو مبینہ طور پر جعلی دستاویزات کے ذریعے دھوکا دیا گیا۔ یہ خبر محض ایک افسوس ناک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ معاشرت، قانون کے نفاذ اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے کئی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔ سوچیے، ایک باپ اپنی بیٹی کے روشن مستقبل کے لیے اپنی جمع پونجی قربان کرتا ہے، گھر کی ضروریات محدود کرتا ہے، اپنی استطاعت سے بڑھ کر وسائل جمع کرتا ہے اور اس امید پر رقم کسی ایجنٹ کے حوالے کر دیتا ہے کہ اس کی بیٹی بیرونِ ملک جا کر تعلیم حاصل کرے گی، خاندان کا نام روشن کرے گی اور ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھے گی۔ لیکن جب یہی خواب جعل سازی کی نذر ہو جائیں تو متاثرہ خاندان پر کیا گزرتی ہوگی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔


سوال یہ ہے کہ انسانوں کے خواب بیچنے والے یہ جعل ساز کب تک قانون کی گرفت سے بچتے رہیں گے؟ پاکستان میں بیرونِ ملک ملازمت، تعلیم اور بہتر زندگی کے نام پر شہریوں سے بھاری رقوم وصول کرنے والے عناصر کے خلاف بارہا کارروائیوں کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔ جعلی ویزے، فرضی داخلے، جعلی اسکالرشپ خطوط اور غیر قانونی ہجرت کے وعدے ایسے ہتھکنڈے ہیں جن کے ذریعے سادہ لوح خاندانوں کو مالی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کیا جاتا ہے۔ غیر قانونی ہجرت کے بعض راستوں پر لوگ اپنی جانیں تک گنوا بیٹھتے ہیں، مگر انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر اپنی سرگرمیوں سے باز نہیں آتے۔ یہاں وفاقی حکومت، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے چند بنیادی سوالات پوچھنا ضروری ہیں۔ کیا ان ایجنٹوں کا مکمل ریکارڈ مرتب نہیں کیا جا سکتا؟-


کیا بیرونِ ملک تعلیم اور ملازمت کے نام پر کام کرنے والے مشیروں اور اداروں کی قانونی حیثیت کی جانچ کا مؤثر نظام نہیں بنایا جا سکتا؟ کیا مختلف شہروں میں سرگرم مشتبہ نیٹ ورکس کے مالی معاملات، روابط اور بیرونِ ملک موجود ممکنہ ساتھیوں کی تحقیقات نہیں ہونی چاہییں؟ اگر کسی خاتون یا دوسرے فرد کے بیرونِ ملک بیٹھ کر اس مبینہ نیٹ ورک کی معاونت کرنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے تو اس پہلو کی بھی قانون کے مطابق مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔ کسی کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینا درست نہیں، لیکن کسی بھی ممکنہ شریکِ جرم کو صرف اس لیے نظرانداز بھی نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ ملک سے باہر موجود ہے۔


وزارتِ داخلہ اور ایف آئی اے کی جانب سے کارروائی کی اطلاعات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل کامیابی صرف مقدمہ درج کرنے یا چند ملزمان کو گرفتار کرنے میں نہیں، بلکہ پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے، متاثرین کو انصاف دلانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں ہے۔ ضروری ہے کہ تحقیقات شفاف ہوں، شواہد کی بنیاد پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور قانون کے مطابق انہیں سزا دلوائی جائے۔میری نظر میں اس مسئلے کا ایک اہم پہلو عوامی آگاہی بھی ہے۔ نوجوانوں اور ان کے والدین کو چاہیے کہ بیرونِ ملک تعلیم یا ملازمت کے لیے کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں، متعلقہ یونیورسٹی یا ادارے سے داخلے کی براہِ راست جانچ کریں اور ویزے یا اسکالرشپ کی دستاویزات کی مستند ذرائع سے تصدیق کرائیں۔ کسی بھی شخص کے بڑے دعووں یا فوری کامیابی کے وعدوں کو تصدیق کے بغیر قبول نہ کیا جائے۔


آخر میں، لائبہ اعجاز کی موت ایک ایسا سانحہ ہے جسے محض ایک خبر سمجھ کر بھلا نہیں دینا چاہیے۔ اس واقعے کی مکمل، غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں اور اگر دھوکا دہی نے اس المیے میں کردار ادا کیا ہے تو ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ریاست کی ذمہ داری صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں، بلکہ اپنے شہریوں کے جان و مال، عزت اور مستقبل کا تحفظ بھی ہے۔ کسی غریب باپ کی عمر بھر کی کمائی لوٹنے والا، کسی نوجوان کے خوابوں سے کھیلنے والا اور کسی خاندان کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والا شخص محض دھوکا باز نہیں، بلکہ معاشرے کے اعتماد پر حملہ آور ہوتا ہے۔


حکومت کو چاہیے کہ وہ جعلی ویزوں، انسانی اسمگلنگ اور بیرونِ ملک بھیجنے کے نام پر ہونے والی دھوکا دہی کے خلاف ایسی مؤثر اور مسلسل کارروائی کرے کہ کسی دوسرے گھر کی بیٹی، کسی دوسرے باپ کا خواب اور کسی دوسرے خاندان کا مستقبل اس مافیا کی بھینٹ نہ چڑھے-