فیملی گالا انجمنِ آرائیاں فیصل آباد، خوبصورت سفر،تحریر:شاہد نسیم چوہدری
نقطہ نظر
کچھ تقریبات صرف کیلنڈر پر ایک تاریخ بن کر نہیں آتیں، بلکہ اپنے پیچھے یادوں کی ایک ایسی روشن لکیر چھوڑ جاتی ہیں جسے وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔ کچھ محفلیں ایسی ہوتی ہیں جہاں انسان صرف لوگوں سے نہیں ملتا بلکہ رشتوں، روایات، محبتوں، خلوص اور اجتماعی وابستگی سے ملاقات کرتا ہے۔ فیصل آباد میں انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی سالانہ فیملی گالا تقریب بھی ایسی ہی ایک خوبصورت، باوقار اور یادگار تقریب تھی، جس نے ثابت کیا کہ جب کسی اجتماعی ادارے کی قیادت اخلاص، نظم و ضبط اور خدمت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھے تو ایک تقریب محض تقریب نہیں رہتی بلکہ اجتماعی شعور اور باہمی محبت کا مظہر بن جاتی ہے۔راقم الحروف کا اس تقریب میں میاں اشرف قادری صاحب کی دعوت پر بطور مہمان اعزاز شرکت کرنا ،میرے لئےکسی اعزاز سے کم نہیں۔ اور سب سے ںڑی بات کہ جب بات برادری کی ہو تو پھر برادری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے اور اسکے دکھ،درد اور خوشی میں شامل لازم ہونا چاہیے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر شاہد نسیم چوہدری نے دی ایجوکیٹر برائیٹ کیمپس جناح کالونی فیصل آباد میں انجمن ارائیاں کے ممبران کے بچوں کو پلے گروپ سے میٹرک تک داخلہ فیس میں 50 فیصد ڈسکاؤنٹ کا اعلان بھی کیا، جو برادری سے محبت کا ثبوت ہے۔
آرائیں برادری برصغیر کی قدیم اور معروف برادریوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں اس برادری سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے زراعت، تجارت، تعلیم، صنعت، وکالت، طب، سیاست، سماجی خدمت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کیا۔ خصوصاً پنجاب کی معاشرتی تشکیل میں آرائیں برادری کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے۔ محنت، زمین سے وابستگی، کاروباری بصیرت، تعلیم کی طرف رجحان اور اجتماعی خدمت اس برادری کی نمایاں خصوصیات میں شمار کی جاتی ہیں۔
تاہم کسی بھی برادری کی اصل پہچان صرف اس کے تاریخی پس منظر سے نہیں ہوتی، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ آج اس کے افراد ایک دوسرے کے لیے کس قدر سہارا بنتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ انجمن کا بنیادی تصور محض افراد کو ایک نام کے نیچے جمع کرنا نہیں بلکہ باہمی رابطے، اتحاد، فلاح، تعاون، سماجی خدمت اور نئی نسل کو اپنی روایات سے جوڑنے کے جذبے کو مضبوط بنانا ہے۔
ایسی انجمنیں معاشرے میں ایک پل کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک طرف بزرگوں کے تجربات ہوتے ہیں اور دوسری طرف نوجوان نسل کی توانائیاں؛ ایک طرف ماضی کی روایات ہوتی ہیں تو دوسری طرف مستقبل کے امکانات۔ جب یہ دونوں ایک دوسرے سے جڑ جائیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے۔
حال ہی میں انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی سالانہ تقریب ایگزیکٹو مارکی، کینال روڈ فیصل آباد میں منعقد ہوئی۔ تقریب کے مقام میں ایک خاص وقار تھا، مگر اصل خوبصورتی اس وقت پیدا ہوئی جب مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، معزز مہمانان، انجمن کے عہدیداران، ایگزیکٹو ممبران، منتظمین، رضاکاران اور خاندانوں کے افراد ایک چھت تلے جمع ہوئے۔
یہ اجتماع تعداد کے اعتبار سے بھی بڑا تھا اور نمائندگی کے اعتبار سے بھی وسیع۔ لیکن بڑے اجتماعات کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہاں نظم و ضبط کس طرح برقرار رکھا جاتا ہے۔ بسا اوقات چھوٹی تقریبات بھی بے ترتیبی کا شکار ہو جاتی ہیں، لیکن اس تقریب میں انتظامیہ نے جس خوبصورتی سے معاملات کو سنبھالا، وہ قابلِ تحسین تھا۔
بالخصوص کھانے طعام کا انتظام توجہ طلب تھا۔ مہمانوں کی ایک کثیر تعداد موجود تھی، مگر کھانے کے مرحلے میں جس قدر نظم و ضبط دیکھنے میں آیا، وہ اس تقریب کی کامیابی کا ایک اہم پہلو تھا۔ عموماً بڑے اجتماعات میں کھانے کے وقت رش، بدنظمی، بے صبری اور انتظامی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں، لیکن یہاں منتظمین نے مناسب منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو خوش اسلوبی سے سنبھالا۔
یہ معمولی بات نہیں۔ کسی تقریب کی کامیابی صرف خوبصورت اسٹیج، شاندار سجاوٹ یا معزز مہمانوں کی شرکت سے نہیں ہوتی؛ اصل کامیابی اس وقت سامنے آتی ہے جب ہزاروں نہیں تو سینکڑوں افراد کے اجتماع کو اس انداز سے منظم کیا جائے کہ ہر شخص خود کو اہم، محفوظ اور باعزت محسوس کرے۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی اس تقریب میں یہی احساس نمایاں تھا۔
کھانے کے انتظام میں صف بندی، باہمی تعاون اور مہمانوں کی سہولت کا خیال رکھا گیا۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ منتظمین نے تقریب سے پہلے صرف پروگرام کا خاکہ نہیں بنایا بلکہ ہر ممکن مرحلے کے بارے میں سوچا تھا۔ یہی انتظامی سوچ کسی بھی بڑے اجتماع کو کامیاب بناتی ہے۔
اور پھر تقریب کی ایک خوبصورت خصوصیت سرپرائز انعامات تھے۔
مہمانوں کو اچانک انعامات سے نوازنے کا انداز محفل میں خوشی اور تجسس کی ایک نئی کیفیت پیدا کر رہا تھا۔ یہ انعامات شاید اپنی مالی قدر سے زیادہ اپنی جذباتی اہمیت رکھتے تھے، کیونکہ تحفہ جب محبت سے دیا جائے تو اس کی قیمت نہیں دیکھی جاتی، اس کے پیچھے چھپا ہوا خلوص دیکھا جاتا ہے۔
ایک خوبصورت تقریب کی یہی تو پہچان ہے کہ وہ انسان کو مسکرانے کے مواقع فراہم کرے۔ انجمن نے اپنے مہمانوں کے لیے اس خوشگوار احساس کا اہتمام کیا اور محفل کی رونق کو مزید بڑھا دیا۔
اس تقریب کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ یہاں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات کی شرکت نے محفل کو وسعت اور وقار بخشا۔
میجر ریٹائرڈ شاہ نواز الحسن، چیئرمین پاسبان آئی ٹی گروپ، میاں عبدالمنان، سابق رکن قومی اسمبلی، میاں حامد ایڈووکیٹ، صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن فیصل آباد، ڈاکٹر وسیم رفیق اور ڈاکٹر منیر شامی ملتان سے، خالد سعید بابو، چیف ایگزیکٹو بابو گروپ، میاں عامر، سابق ڈی ایس پی، میاں محمد اکمل ایس پی، شاہد نسیم چوہدری، صدر ہیومن رائٹس فاؤنڈیشن، میاں بشیر احمد اعجاز، کسٹوڈین لائلپور پکچر گیلری، میاں عمران انور، چیف ایگزیکٹو نگینہ سویٹس اینڈ بیکرز، میاں جاوید اقبال چاچو ایڈووکیٹ، میاں رفعت قادری ایڈووکیٹ، جناب عقیل چیمہ ایڈووکیٹ، چوہدری محمد اسلم جاوید، سابق ڈائریکٹر جنرل لیبر پنجاب، پروفیسر ڈاکٹر میاں محمد اصغر، پروفیسر ڈاکٹر محمد یسین، پروفیسر ڈاکٹر محمد کاشف سلیمی، ڈاکٹر بشیر احمد، میاں محمد صدیق وارثی، حافظ محمد شعیب، میاں محمد رفیق وارثی اور وسیم مقبول سمیت متعدد معزز شخصیات کی شرکت نے تقریب کو ایک جامع سماجی اجتماع بنا دیا۔
تعلیم، قانون، انتظامیہ، کاروبار، زراعت، سماجی خدمت اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی موجودگی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ انجمنِ آرائیاں فیصل آباد نے اپنے دائرۂ کار کو صرف ایک محدود سماجی حلقے تک نہیں رکھا بلکہ مختلف شعبوں کے لوگوں کے ساتھ روابط پیدا کیے ہیں۔
ایسے اجتماعات معاشرے کے لیے اس لیے بھی اہم ہوتے ہیں کہ یہاں مختلف طبقات کے افراد ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں۔ ایک وکیل کسی استاد سے ملتا ہے، ایک کاروباری شخصیت کسی سماجی کارکن سے، ایک سابق سرکاری افسر کسی نوجوان سے اور ایک بزرگ کسی نئی نسل کے نمائندے سے۔ یوں معاشرہ محض تقریروں سے نہیں بلکہ ملاقاتوں سے بنتا ہے۔
اس تقریب کے کامیاب انعقاد کے پیچھے منتظمین کی ایک پوری ٹیم موجود تھی۔ سرپرست میاں صابر علی صابری، میاں محمد اشرف قادری، ڈاکٹر احسان الحق، میاں منیر احمد، میاں امتیاز احمد، ڈاکٹر ثاقب الرحمن، علی رضا، عاطف نسیم، میاں طاہر سلیم، حافظ محمد اظہر، چوہدری خرم شہزاد ایڈووکیٹ، میاں محمد ادریس، میاں منصور الدین، ڈاکٹر خالد محمود شوق، میاں محمد شفیق گوگا اور ڈاکٹر ندیم مقبول سمیت پوری انتظامی ٹیم نے جس انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کیں، وہ بجا طور پر تحسین کی مستحق ہے۔
کسی بھی بڑے پروگرام کے اسٹیج پر چند افراد دکھائی دیتے ہیں، مگر پردے کے پیچھے بہت سے ہاتھ کام کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی مہمانوں کو خوش آمدید کہتا ہے، کوئی نشستوں کا انتظام کرتا ہے، کوئی کھانے کی نگرانی کرتا ہے، کوئی نظم و ضبط دیکھتا ہے، کوئی ساؤنڈ اور پروگرام کے معاملات سنبھالتا ہے اور کوئی اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ آنے والے ہر شخص کو عزت اور سہولت ملے۔
یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نام اکثر اسٹیج پر نہیں آتے، لیکن تقریب کی کامیابی میں ان کا حصہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی اس تقریب نے ایک اور خوبصورت پیغام بھی دیا کہ اجتماع صرف تعداد کا نام نہیں، اجتماع تعلق کا نام ہے۔
آج کے دور میں جب مصروفیات نے انسان کو انسان سے دور کردیا ہے، موبائل فون نے رابطے تو بڑھا دیے ہیں مگر ملاقاتیں کم کردی ہیں، ایسے میں برادری، ادبی، سماجی اور خاندانی اجتماعات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
ہم ایک دوسرے کے حالات فون پر پوچھ لیتے ہیں، سوشل میڈیا پر مبارکباد دے دیتے ہیں، تصاویر پر تبصرہ کردیتے ہیں، مگر کسی کے پاس بیٹھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بات کرنے کا لطف کچھ اور ہے۔ اجتماعی تقریبات اسی انسانی رشتے کو زندہ رکھتی ہیں۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی تقریب میں بزرگ بھی تھے، نوجوان بھی، خاندان بھی اور مختلف شعبوں کے افراد بھی۔ یہی امتزاج کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت ہوتا ہے۔
میری نظر میں کسی برادری کی سب سے بڑی طاقت اس کی تعداد نہیں بلکہ اس کا اتحاد، تعلیم، کردار اور خدمت ہے۔ اگر کسی انجمن کے پاس یہ چار چیزیں موجود ہوں تو وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسی انجمنیں صرف سالانہ تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ تعلیم، صحت، روزگار، مستحق خاندانوں کی مدد، نوجوانوں کی رہنمائی، خواتین کے لیے مواقع، باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لیے بھی مستقل پروگرام تشکیل دیں۔
خصوصاً نئی نسل کو اپنی تاریخ، ثقافت اور خاندانی روایات سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نوجوان اگر اپنی جڑوں سے جڑے رہیں اور ساتھ ہی جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور عالمی شعور سے بھی وابستہ ہوں تو وہ اپنی برادری اور ملک دونوں کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
اس حوالے سے انجمنِ آرائیاں فیصل آباد جیسے پلیٹ فارم ایک مثبت کردار ادا کرسکتے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر سب سے خوبصورت احساس یہی تھا کہ یہ کامیابی کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پوری ٹیم کی مشترکہ کاوش تھی۔ اللہ تعالیٰ کے حضور شکرگزاری، منتظمین کا ایک دوسرے کے لیے احترام، مہمانوں کی عزت اور اجتماعی تعاون نے اس تقریب کو یادگار بنایا۔
ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ کامیاب اجتماع کے پیچھے صرف انتظامی صلاحیت نہیں بلکہ نیت کا اخلاص بھی ہوتا ہے۔ اگر مقصد لوگوں کو جوڑنا، خوشیاں بانٹنا اور اجتماعی خدمت کو فروغ دینا ہو تو معمولی کوشش بھی بڑی تاثیر پیدا کرتی ہے۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی سالانہ تقریب اسی تاثیر کی ایک خوبصورت مثال تھی۔
ایگزیکٹو مارکی، کینال روڈ کی اس شام میں روشنی صرف اسٹیج پر نہیں تھی؛ اصل روشنی ان چہروں پر تھی جو برسوں بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اصل روشنی ان آنکھوں میں تھی جن میں اپنائیت تھی۔ اصل روشنی ان ہاتھوں میں تھی جو ایک دوسرے سے مصافحہ کررہے تھے۔ اور اصل روشنی اس احساس میں تھی کہ ہم اب بھی ایک دوسرے کے دکھ درد اور خوشیوں میں شریک ہونے کی روایت زندہ رکھ سکتے ہیں۔
یہی روایت کسی بھی معاشرے کا اصل سرمایہ ہوتی ہے۔
تقریب کی کامیابی پر انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی پوری مینجمنٹ، عہدیداران، ایگزیکٹو ممبران، آرگنائزنگ ٹیم، رضاکاران، معزز مہمانان، ممبران، فیملیز، معاونین اور تمام تعاون کرنے والے احباب مبارکباد کے مستحق ہیں۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کا یہ فیملی گالا بھرپور شرکت، بہترین انتظامات، مثالی نظم و ضبط اور خوشگوار ماحول کے باعث ایک انتہائی کامیاب اور یادگار تقریب ثابت ہوا۔ مختلف خاندانوں کی بڑی تعداد میں شرکت نے نہ صرف تقریب کی رونق کو چار چاند لگا دیے بلکہ باہمی محبت، خاندانی یکجہتی اور برادری کے مضبوط رشتوں کی خوبصورت عکاسی بھی کی۔ یہ کامیاب تقریب اس امر کا واضح اظہار ہے کہ جب لوگ محبت، اخوت اور اجتماعی جذبے کے ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں تو خوشیوں کے ساتھ ساتھ اتحاد و اتفاق کی نئی راہیں بھی ہموار ہوتی ہیں۔ انجمنِ آرائیاں کی انتظامیہ اور تمام شرکاء مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس یادگار فیملی گالا کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔
اللہ تعالیٰ ان سب کی محنتوں کو قبول فرمائے، انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کو مزید استحکام عطا کرے، اس کے دائرۂ خدمت کو وسیع کرے اور اسے اتحاد، فلاح، تعلیم اور اجتماعی خدمت کا مضبوط پلیٹ فارم بنائے۔
آخر میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ رشتے وراثت میں مل سکتے ہیں، مگر رشتوں کی حفاظت محنت سے ہوتی ہے۔ نام برادری سے مل سکتا ہے، مگر عزت کردار سے ملتی ہے۔ اور انجمن کسی نام سے قائم ہوسکتی ہے، مگر تاریخ میں جگہ صرف خدمت سے بنتی ہے۔
انجمنِ آرائیاں فیصل آباد کی یہ خوبصورت تقریب ایک خوشگوار یاد بن کر دل میں محفوظ رہے گی۔
اور دعا ہے کہ یہ یاد صرف ایک تقریب کی یاد نہ ہو بلکہ آنے والے برسوں میں اتحاد، محبت، خدمت اور اجتماعی ترقی کے ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہو۔





