Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

فوڈ پوائزننگ اور پیٹ کے انفیکشن،تحریر:ڈاکٹر نازیہ ندیم

نقطہ نظر
dr nazia nadeem

ہماری روزمرہ زندگی میں بازار کی چٹپٹی چیزیں، تلی ہوئی غذائیں اور باہر کے کھانے کس کو اچھے نہیں لگتے۔ شام ہوتے ہی چوراہوں اور گلی کوچوں میں سجے ہوٹلوں، ٹھیلوں اور کڑھائیوں سے اٹھتی خوشبو ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ لیکن ذائقے کے اس وقتی مزے کے پیچھے ایک خاموش بیماری چھپی ہوتی ہے جو اچھے بھلے ہنستے کھیلتے انسان کو چند ہی گھنٹوں میں چارپائی پر ڈال دیتی ہے۔ اس تکلیف کو ہم عام زبان میں فوڈ پوائزننگ، پیٹ کی خرابی یا آنتوں کا انفیکشن کہتے ہیں۔ کھلے آسمان تلے مکھیاں، دھول اور دھوئیں سے اٹی ہوئی خوراک کھاتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم اپنے پیٹ میں غذا نہیں بلکہ خطرناک جراثیم اتار رہے ہیں۔


طبی زبان میں فوڈ پوائزننگ کا مطلب یہ ہے کہ جب ہم ناصاف کھانا یا گندا پانی پیتے ہیں تو سالمونیلا، ای کولائی، شیگیلا جیسے بیکٹیریا، وائرس یا پیٹ کے کیڑے ہمارے ہاضمے کے نظام پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اس بیماری کو سمجھنے کے لیے دو اہم باتیں جاننا ضروری ہیں۔ پہلی صورت یہ ہوتی ہے کہ جراثیم کھانے کے ساتھ پیٹ میں جاتے ہیں، وہاں اپنی نسل بڑھاتے ہیں اور آنتوں کو چھلنی کر دیتے ہیں۔ اس کا اثر کھانا کھانے کے بارہ گھنٹے سے لے کر تین دن بعد تک ظاہر ہوتا ہے، جس میں تیز بخار، سردی لگنا، پیٹ میں شدید مروڑ اور دست کے ساتھ خون یا بلغم آنے لگتا ہے۔ دوسری صورت اس سے بھی تیز اور خطرناک ہوتی ہے، جس میں جراثیم کھانے کے اندر پہلے ہی اپنا زہر چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔ ایسا کھانا جب پیٹ میں جاتا ہے تو محض ایک سے چھ گھنٹوں کے اندر اچانک شدید الٹیاں، متلی اور بے چینی شروع ہو جاتی ہے۔ اس زہر کی سب سے بری بات یہ ہے کہ یہ کھانا دوبارہ تیز گرم کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتا۔


ہماری سڑکوں اور بازاروں میں ملنے والے کھانوں میں بیماری پھیلنے کی سب سے بڑی وجہ صفائی کا نہ ہونا ہے۔ کھلے پڑے سموسے، چاٹ، دہی بھلے اور کٹے ہوئے پھل بیماری بانٹنے کی دکانیں ہیں۔ ہوٹلوں میں کڑھائیوں کے اندر ایک ہی تیل کو بار بار جلایا جاتا ہے جو معدے کی تیزابیت بڑھاتا ہے اور اندر زخم کر دیتا ہے۔ اس سے بھی برا حال برتن دھونے کا ہوتا ہے، جہاں ایک ہی بالٹی کے گندے پانی میں سینکڑوں گاہکوں کی پلیٹیں اور چمچ ڈبو کر نکالے جاتے ہیں، یوں ایک بیمار انسان کے جراثیم سب کو لگ جاتے ہیں۔ اسی طرح ہوٹلوں اور ریڑھیوں پر رکھی دہی کی چٹنیاں، کچی سبزیاں اور مایونیز وہ چیزیں ہیں جو ذرا سی دیر گرمی میں پڑی رہیں تو فوراً سڑ جاتی ہیں اور ان میں جراثیم تیزی سے پرورش پاتے ہیں۔ ادھ پکی مرغی یا کچے انڈے بھی انفیکشن کی بڑی وجہ بنتے ہیں، اس لیے گوشت کو ہمیشہ اچھی طرح گلا کر کھانا چاہیے تاکہ اس کی ہڈیوں کے پاس سے کچا پن ختم ہو جائے۔


خرابی صرف بازار تک محدود نہیں بلکہ گھر کے کچن میں بھی چھوٹی چھوٹی لاپرواہیاں پورے خاندان کو بیمار کر سکتی ہیں۔ پکے ہوئے سالن یا روٹی کو کمرے کے درجہ حرارت پر دو گھنٹے سے زیادہ باہر کھلا نہ چھوڑیں، اور گرمیوں میں تو ایک گھنٹے کے اندر اندر کھانا فریج میں رکھ دینا چاہیے۔ جب کھانا باہر پڑا رہتا ہے تو اس میں جراثیم ہر بیس منٹ میں دگنے ہو جاتے ہیں۔ فریج سے کھانا نکال کر صرف نیم گرم نہ کریں بلکہ اتنی تیز آنچ پر ابالیں کہ اندر سے دھواں اور بھاپ نکلے تاکہ بیکٹیریا مر سکیں۔ اس کے علاوہ پکے ہوئے چاولوں کا خاص خیال رکھیں، کیونکہ چاولوں میں ایسے قدرتی جراثیم ہوتے ہیں جو پکنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے۔ اگر ابلے ہوئے چاول گھنٹوں باہر پڑے رہیں تو ان میں ایسا زہر پیدا ہوتا ہے جو دوبارہ گرم کرنے سے بھی ختم نہیں ہوتا اور قے دست کا سبب بنتا ہے۔ کچن میں جس تختے اور چھری سے کچا گوشت کاٹیں، اسے صابن سے اچھی طرح دھوئے بغیر اس پر سلاد یا سبزیاں ہرگز نہ کاٹیں۔ کچن میں برتن دھونے والا فوم اور کپڑا جراثیموں کا گھر ہوتا ہے، اسے روزانہ گرم پانی سے دھوئیں اور ہر دو ہفتے بعد بدل لیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ کھانا پکانے سے پہلے اور بیت الخلا کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو کم از کم بیس سیکنڈ تک صابن سے رگڑ کر دھونا آدھی بیماریوں سے نجات دلا دیتا ہے۔


پانی کی خرابی کا کردار اس پورے معاملے میں سب سے آگے ہے۔ ٹائیفائیڈ، یرقان (ہیپاٹائٹس اے اور ای) اور ہیضہ زیادہ تر ناصاف پانی سے ہی پھیلتے ہیں۔ گلی محلوں میں ملنے والے گنے کے رس، لیموں پانی اور شربتوں میں جو بازاری برف ڈالی جاتی ہے، وہ ناصاف اور بغیر چھنے پانی سے بنائی جاتی ہے جو زہر کا کام کرتی ہے۔ پانی کو ہمیشہ چار سے پانچ منٹ تک تیز ابال کر اور چھان کر ڈھانپے ہوئے برتن میں رکھیں۔ گھر کے واٹر فلٹر کے کینڈلز وقت پر تبدیل کریں اور چھت یا زمین کے اندر موجود پانی کے ٹینکوں کو سال میں کم از کم دو مرتبہ ضرور صاف کروائیں۔


اگر بدقسمتی سے پیٹ خراب ہو جائے تو سب سے پہلے احتیاط اور ابتدائی تدابیر پر دھیان دینا چاہیے۔ ہمارے ہاں عام طور پر پیٹ خراب ہوتے ہی میڈیکل اسٹور سے دست روکنے کی گولیاں لے کر کھا لی جاتی ہیں۔ یہ بہت خطرناک عمل ہے، کیونکہ دست آنا دراصل جسم کا اپنا طریقہ ہے جس سے وہ گندے مادے کو پیٹ سے باہر نکال رہا ہوتا ہے۔ اگر گولی کھا کر دست زبردستی روک دیے جائیں تو وہ زہر آنتوں کے اندر بند ہو کر ان میں شدید سوجن پیدا کر دیتا ہے۔ دوسری غلطی یہ کی جاتی ہے کہ فوراً طاقتور اینٹی بائیوٹکس کا استعمال شروع کر دیا جاتا ہے، جس سے پیٹ کے اندر موجود کام کے اچھے جراثیم بھی مر جاتے ہیں اور معدہ مزید کمزور ہو جاتا ہے۔


پیٹ کی خرابی میں سب سے بڑا خطرہ جسم میں پانی اور نمکیات کا ختم ہو جانا (ڈی ہائیڈریشن) ہوتا ہے۔ اس لیے فوری طور پر او آر ایس کا استعمال شروع کریں۔ او آر ایس کا پیکٹ ہمیشہ پورے ایک لیٹر صاف پانی میں گھولیں، کم پانی میں گھولنے سے نمک زیادہ ہو جاتا ہے جو گردوں پر برا اثر ڈالتا ہے۔ جب الٹیاں رک جائیں تو ہلکی غذا شروع کریں، جس میں کیلا، ابلے ہوئے چاول یا پتلی کھچڑی، ابلا ہوا سیب اور ڈبل روٹی کا سادہ ٹوسٹ بہترین ہیں۔ بیماری کے دوران اور ٹھیک ہونے کے چند دن بعد تک دودھ، چائے، چکنائی اور گھی والی چیزوں سے بالکل پرہیز کریں، کیونکہ اس دوران آنتیں دودھ کو ہضم کرنے والا مادہ بنانا بند کر دیتی ہیں جس سے دوبارہ موشن شروع ہو سکتے ہیں۔ جب طبیعت کچھ بہتر ہو جائے تو تازہ اور سادہ دہی کا استعمال کریں، دہی آنتوں میں دوبارہ اچھے جراثیم پیدا کر کے ہاضمے کو بحال کرتا ہے۔


ہومیوپیتھی طریقہ علاج میں بھی فوڈ پوائزننگ، بدہضمی، باسی غذا کے زہریلے پن اور پانی کی کمی کے لیے علامات کے مطابق قدرتی اور محفوظ ادویات موجود ہوتی ہیں جو نظامِ ہاضمہ کی قوتِ مدافعت کو جگا کر بیماری کو جڑ سے نکالتی ہیں اور پیٹ کے اندرونی زخموں اور سوزش کو بھرنے میں بہت مفید ثابت ہوتی ہیں۔


اگر الٹیاں اور دست دو دن سے زیادہ جاری رہیں، پاخانے میں خون آئے، بخار ایک سو ایک درجے سے بڑھ جائے، چکر آنے لگیں یا پیشاب کی مقدار بہت کم اور گہرے زرد رنگ کی ہو جائے تو بنا کسی تاخیر کے فوری طور پر معالج سے رابطہ کریں۔ صحت اللہ کی عظیم نعمت ہے، تھوڑی سی پرہیز، صاف پانی کا استعمال اور باہر کے کھانوں سے گریز کر کے ہم ایک بڑی اذیت اور ہسپتال کے چکروں سے بچ سکتے ہیں۔