کامیکازے سے چونڈہ تک،تحریر: پروفیسر عامرزریں
نقطہ نظرقربانی کی وہ داستانیں جو تاریخ کے صفحات میں زندہ ہیں

جنگ صرف توپ، ٹینک، طیارے اور میزائل کا نام نہیں۔ جنگ کے میدان میں بعض اوقات انسان کا عزم بھی ایک طاقت بن جاتا ہے۔ 1945 ء …… دوسری جنگِ عظیم کے آخری برسوں میں جاپان کے کامیکازے پائلٹوں نے اپنی جانیں قربان کرکے اتحادی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ دو دہائیوں سے بھی کم عرصے بعد، 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں چونڈہ کے محاذ سے بھی ایسی داستانیں سامنے آئیں جنہیں پاکستانی جنگی روایت میں غیر معمولی جرات اور جانثاری کی مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
کامیکازے کا لفظ جاپانی زبان میں ”الٰہی ہوا“ کے مفہوم سے وابستہ ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے آخری مرحلے میں جاپان نے ایسے خصوصی خودکش حملہ آور یونٹس استعمال کیے جو اپنے طیاروں کو دشمن کے بحری جہازوں سے ٹکرا دیتے تھے۔ برطانوی امپیریل وار میوزیم کے مطابق اوہکا (Ohka) نامی ایک مخصوص جاپانی خودکش طیارہ بھی اتحادی بحری جہازوں کے خلاف استعمال کیا گیا؛ اس کے اگلے حصے میں تقریباً 1,200 کلوگرام کا وار ہیڈ نصب ہوتا تھا۔
کامیکازے کی تاریخ کو محض عسکری تکنیک کے طور پر دیکھنا اس واقعے کے انسانی پہلو کو نظرانداز کرنا ہوگا۔ ان نوجوان پائلٹوں کے سامنے موت یقینی سمجھی جاتی تھی، لیکن جاپانی جنگی قیادت نے اسے قومی دفاع اور قربانی کے تصور سے جوڑا۔ آج اس حکمتِ عملی کے عسکری، اخلاقی اور انسانی پہلوؤں پر مورخین مختلف زاویوں سے بحث کرتے ہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ کامیکازے دوسری جنگِ عظیم کی سب سے نمایاں اور المناک جنگی روایات میں شمار ہوتے ہیں۔
پھر 1965 ء آتا ہے……پاک بھارت جنگ۔برصغیر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑ چکی تھی۔ پنجاب کے میدانوں میں ٹینکوں کی گھن گرج نے زمین ہلا دی۔ چونڈہ کا محاذ اس جنگ کا ایک اہم مرکز بن گیا، جہاں بڑے پیمانے پر بکتر بند دستے آمنے سامنے آئے۔ پاکستانی سرکاری ذرائع اسے دوسری جنگِ عظیم کے بعد بڑی ٹینک لڑائیوں میں شمار کرتے ہیں۔ اسی معرکے کے ساتھ ایک ایسی روایت بھی وابستہ ہے جو پاکستانی اجتماعی حافظے میں آج تک زندہ ہے۔ پاکستانی فوجیوں اور مقامی لوگوں میں بعض افراد نے اپنے جسموں کے ساتھ دھماکا خیز مواد باندھ کر بھارتی ٹینکوں کے سامنے خود کو قربان کیا۔ ریڈیو پاکستان نے 2023 ء میں اسی روایت کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ چونڈہ کے دفاع میں فوجیوں اور مقامی افراد نے ٹینکوں کے نیچے جا کر اپنی جانیں قربان کیں۔
یہاں تاریخ سے انصاف کا تقاضا ہے کہ روایت اور مستند اعداد و شمار کے درمیان فرق برقرار رکھا جائے۔ چونڈہ میں تباہ ہونے والے ٹینکوں کی تعداد اور جسم سے بم باندھ کر ٹینکوں کے نیچے جانے کے واقعات کے بارے میں مختلف بیانات موجود ہیں۔ اس لیے ہر مشہور عدد یا ہر تجزیے کو بلا تحقیق قطعی تاریخی حقیقت قرار دینا مناسب نہیں۔ لیکن اس سے یہ حقیقت کم نہیں ہوتی کہ چونڈہ کی لڑائی میں پاکستانی فوج نے شدید دباؤ کے باوجود مزاحمت کی اور متعدد سپاہیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ 1965 ء کے جنگی ریکارڈ میں کیپٹن غلام مرتضیٰ، میجر امان اللہ، میجر راجا عزیز بھٹی اور متعدد دوسرے فوجیوں کی شہادتیں بھی درج ہیں۔
یہاں کامیکازے اور چونڈہ کے واقعات کے درمیان ایک دلچسپ تاریخی مماثلت سامنے آتی ہے: دونوں میں فرد نے اپنی ذات سے بڑھ کر ایک بڑے مقصد کو اہم سمجھا۔ مگر دونوں واقعات ایک جیسے نہیں تھے۔ کامیکازے ایک باقاعدہ جاپانی فوجی حکمتِ عملی تھی جس میں خصوصی فضائی یونٹس تشکیل دیے گئے، جبکہ چونڈہ سے منسوب پاکستانی واقعات زمینی جنگ کے دوران قربانی اور مزاحمت کی روایات کا حصہ ہیں۔
نئی نسل کو یہ تاریخ سناتے ہوئے شاید سب سے اہم سبق یہ نہیں کہ موت کو کس طرح گلے لگایا گیا، بلکہ یہ ہے کہ قومیں مشکل وقت میں اپنے دفاع، نظم، حوصلے اور اجتماعی ذمہ داری کو کس طرح اہمیت دیتی ہیں۔
حب الوطنی کا مطلب صرف جنگ کے میدان میں جان دینا نہیں۔ ایک طالب علم کا علم کے لیے محنت کرنا، ایک ڈاکٹر کا مریض کی خدمت کرنا، ایک انجینئر کا دیانت داری سے پل تعمیر کرنا، ایک سپاہی کا سرحد پر فرض ادا کرنا اور ایک شہری کا قانون کی پاسداری کرنا—یہ سب اپنے اپنے میدان میں وطن سے وفاداری کی شکلیں ہیں۔
چونڈہ کی مٹی ہمیں قربانی یاد دلاتی ہے۔ کامیکازے کی تاریخ ہمیں جنگ کی انتہاؤں کا احساس دلاتی ہے۔ اور 1965 ء کے شہدا ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ تاریخ صرف فاتحین کے ناموں سے نہیں بنتی؛ اسے ان بے شمار انسانوں کے کردار بھی تشکیل دیتے ہیں جنہوں نے اپنے وقت کے مشکل ترین لمحوں میں اپنے فرائض ادا کیے۔تاریخ کو زندہ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے جذبات کے ساتھ پڑھا جائے، مگر تحقیق کے ساتھ سمجھا بھی جائے۔ یہی وہ توازن ہے جس سے نئی نسل ماضی کے ہیروز کو یاد بھی رکھ سکتی ہے اور جنگ، قربانی اور امن کی حقیقی قیمت بھی سمجھ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں





