Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حوثیوں کا ریاض پر میزائل اور ڈرون حملوں کا اعتراف


یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع اسٹریٹجک توانائی کے مراکز پر بڑے پیمانے پر بیلسٹک، کروز میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ 


حوثی فورسز کے ترجمان یحییٰ سریع نےانٹرنیٹ پرجاری کردہ ایک بیان میں تصدیق کی ہے کہ ریاض میں حساس مقامات اوربحیرہ احمرکےساحل پر واقع ینبع (Yanbu) کے علاقے میں سعودی سرکاری تیل کمپنی 'آرامکو' کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے،یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتے کے دور ان یمن پر کیے گئے 300 سے زائد فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب ہے۔ 


یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب آرامکو کمپنی کے آئل ڈپو سے سیاہ دھوئیں کے گہرے بادل اور آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے، جس کی ویڈیو فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں۔


فلائٹ ٹریکنگ ویب سائٹ (FlightRadar24) کے مطابق، ان دھماکوں اور فضائی الرٹ کے بعد کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کا شیڈول شدید متاثر ہوا ہے اور متعدد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔


جنگی ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ سرکاری فوج کے درمیان زمینی جھڑپوں میں مزید 48 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں 31 حوثی اور 17 سرکاری اہلکار شامل ہیں۔


اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے (IOM) کے مطابق حالیہ دنوں میں لڑائی میں شدت کے باعث نقل مکانی کرنے والے یمنی شہریوں کی تعداد 1 لاکھ 4 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔


امریکا، اسرائیل اور ایران کی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد سعودی عرب اپنی تیل کی برآمدات کے لیے بحیرہ احمر کے راستے پر انحصار کر رہا تھا۔


تاہم حوثیوں کی جانب سے موخا بندرگاہ اور جزیرہ ہرمز کے تجارتی راستوں پر کنٹرول کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔


سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے اور نقصان کی تفصیلات پر تاحال کوئی باقاعدہ سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

رسائی کے اختیارات

Size: NORMAL