Baaghi TV Logo
ٹرینڈنگ

حوثیوں کا آرامکو ریفائنری اورسعودی ایئرپورٹس پر حملوں کا دعویٰ


یمن میں حوثی جنگجو اور حکومت کے درمیان جاری لڑائی شدت اختیار کرگئی ہے، حوثیوں نے سعودی عرب میں تین فوجی کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے-


حوثی ترجمان کے مطابق سعودی عرب میں کی جانے والی کارروائیوں میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں سعودی آرامکو کی ریفائنری، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے علاوہ ڈرونز بھی استعمال کیے گئے۔


حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے سے فضائی ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ رابغ میں آرامکو ریفائنری کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں آگ بھی لگی,تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور سعودی حکام یا سعودی آرامکو کی جانب سے فوری طور پر کوئی تصدیق یا تبصرہ سامنے نہیں آیا۔


دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ سعودی حمایت یافتہ فورسز نے باب المندب کے اطراف میں حوثیوں کے خلاف بڑی فوجی کارروائی شروع کی ہے, یمنی حکام کے مطابق سرکاری فورسز نے آبنائے باب المندب کے قریب اہم علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا اور ساحلی علاقے میں شہر المخا تک پیش قدمی کی۔ یمنی وزارت دفاع نے بھی المخا پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔


خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق سرکاری فورسز کو سعودی فضائی حملوں کی مدد حاصل رہی اور حوثی جنگجو بعض علاقوں سے پہاڑی علا قوں کی جانب پیچھے ہٹتے دیکھے گئے۔ تاہم رائٹرز نے سرکاری فورسز کی پیش قدمی کی مکمل حد تک آزادانہ تصدیق نہیں کی۔ حوثیوں نے بھی یمنی حکومت کے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔


خیال رہے کہ باب المندب آبنائے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے,اس علاقے میں جاری لڑائی سے عالمی بحری تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات بڑھ گئے ہیں۔


رائٹرز کے مطابق یمن کے مختلف محاذوں پر کئی ہفتوں سے شدید لڑائی جاری ہے۔خاص طور پر جنوب مغربی یمن میں باب المندب کے سا حلی علاقے اور تعز کے اطراف میں جھڑپیں تیز ہوئی ہیں, حوثیوں نے تعز کے قریب بھی بعض علاقوں میں پیش قدمی کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں پر بھی متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔


صورتحال مزید سنگین ہونے کے بعد سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان نے ریاض میں ہنگامی اجلاس کے دوران سعودی عرب کی دفاعی صلا حیت مضبوط بنانے اور فوجی وسائل تیزی سے تعینات کرنے پر اتفاق کیا ہے, یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سامنے آئی ہے,اقوام متحدہ کی ہجرت سے متعلق ایجنسی کے مطابق یمن میں حالیہ لڑائی کے دوبارہ شدت اختیار کرنے کے بعد ایک لاکھ 84 ہزار افر اد بے گھر ہوچکے ہیں۔